آج سوچا ہے کہ سیاست اور حالاتِ حاضرہ سے ذراہٹ کر کچھ لکھا جائے، تب ہی لکھنے کے لئے معاشرے کے چارچار حرفوں پر مشتمل تین لفظ ” عورت وبیوی اور بیٹی “کے تین خوبصورت کرداروں کوھونڈا ہے جن پر مجھے لکھنا ہے بیشک اِن تین لفظوں کے تینوں کرداروں میں کا ئنات کا حقیقی رنگ اورجیتا جاگتا کردار نظر آتا ہے ۔
جبکہ ایک چوتھا لفظ ” غیرت“ ہے یہ بھی چار حرفوں پرمشتمل ایک لفظ ہے آج میری تہذیب میرے معاشرے اور میرے ملک میں لفظ غیرت ، عورت، بیوی اور بیٹی جیسے مقدس وجود اور کرداروں کے لئے دُشمن اور موت کا باعث بن چکا ہے۔

حالانکہ کے لفظ غیرت جو دکھا ئی تو نہیں دیتا مگر عورت ، بیوی اور بیٹی کے دُشمنوں کو بے غیرتی کی چادر میں ڈھانپ کر خاندانوں کے مکروہ چہرے والے شوہر، باپ، بیٹے، بھائی اور دیگرمرد رشتے داروں سے وہ کام لے لیتاہے جس سے عور ت ، بیوی اور بیٹی دنیا سے آنکھیں بند کرکے منوں مٹی تلے قبر میں جا سوتی ہے اور غیرت کے احساس میں غرق مرد معاشرے میں اپنی بے غیرتی کو بچاتے ہوئے اپنی عورت، بیوی اور بیٹی (اور خود سے جڑے صنفِ نازک کے دیگر رشتوں) کو قتل کر کے خود کوامرگردانتاہے اور اپنی باقی زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اور بسااوقات پھانسی کی صورت میں زمینِ خدا پر بنی کسی گمان قبر میں دفن کردیاجاتاہے۔

اگرچہ ،غیرت کا حجم تو نہیں ہوتا ہے یہ اپنا وجود تو نہیں رکھتی ہے ا ور نہ ہی نظر آتی ہے مگر کا اِس کا احساس محسوس ضرورکیا جاتا ہے اورا کثر اِس لفظ غیرت ہی کی وجہ سے میرے دیس میں عورت، بیوی اور بیٹی کا اہم ترین کردار گھر کے مردوں کے ہاتھوں قتل کردیا جاتا ہے یوں خاندان کے کم ظرف اور کمزور بے غیرت مرد غیرت کا لبادہ دار ڈھ خود کو غیرت مند گردانتے ہیں ۔
ہمیں اِس سے سوفیصدمتفق ہوناپڑے گاکہ بیشک ازل سے ہی عورت اِنسان اور فرشتوں کے درمیان ایک خوبصورترین مخلوق کا نام ہے،جو ایک ایسا آسمانی نور اور چمک ہے جس سے پوری کائنات چگمگ ہے ،یہ بھی درست ہے کہ عورت مرد کی غلام نہیں ،بلکہ عورت ایک سچی و محبت کرنے والی ہمدردرفیق اور کائنات کے تمام پھولوں سے زیادہ خوبصورترین خوشبو دینے والے پھول سے بھی زیادہ حسین اور خوبصورت ہے تب ہی توشیکسپیئر کا عورت سے متعلق کہنا ہے کہ ” عورتیں ایسی کتابیں، ایسی تصویریں اور ایسے دبستان ہیں کہ جن میں ساری دنیا بستی ہے، جو تمام دنیا کی پرورش او رتربیت کرتی ہیں“ایرانی کہاوت ہے کہ” عورت کا پیاراُس چشمے کی مانند ہوتاہے جو کبھی خشک نہیںہوتا“اور ” کوپر“ کا عورت سے متعلق یہ کہنا ہے کہ ” ساری دنیا کی بادشاہت مل جائے لیکن ہماری زندگی میں عورت نہ ہوتوہم بھکاریوں سے بھی بدتر ہیں“۔

بیشک کا ئنات میں عورت وہ حسین ہستی ہے جو بھیگ میں نہیں ملتی ، ہاں اِسے محبت اور پیار سے حاصل کیا جاسکتاہے اور پھر جیسے عورت پیار اور محبت کے انمول جذبوں مل جائے تواُس پر لازم ہے کہ ہم اِس کا احترام کریں اِس سے محبت کریں اور اِس کی اداو ¿ں اور شیخیوں کو محبت اور خلوص کے ساتھ برداشت کریں کیونکہ دنیا کی تمام تر خوشیاں عورت سے ہیں ۔
مان لوکہ اگر یہ نہ وہوتی تو دنیا ایک اجڑے دیارکی مانند ہوتی اور زمین وحشت لگتی اور پھول خوبصورت ہوکر بھی بے رونق اور کانٹے جیسے لگتے ،” چیکن“ کا خیال ہے کہ ”مردعورت کے بغیرایسا ہی ہے گویازندگی سانس کے بغیر، چشمہ پانی کے بغیراور جسم روح کے بغیر“۔

آج جب میری تہذیب اور میرے معاشرے کے مرد یہ ساری خوبصورت اور حسین جمیل باتیں جانتے ہیں تو پھر یہاں یہ سوال کیوں پیداہوتاہے کہ ” ہم اپنی غیرت کو بے غیرتی کا لبادہ اُوڑھا کر کسی کے اُکسانے اور بہکاوے میں آنے کے بعد اپنی عورت ، بیوی اور بیٹی سمیت صنفِ نازک کے دیگررشتوں کو کیوں قتل کردیتے ہیں؟؟؟

یہ وہ سوال ہے آج جس کا جواب میری تہذیب اور میرے زمانے میرے مُلک اور میرے معاشرے کی ہر عورت ہربیوی اور ہر بیٹی ہم مردوں سے چیخ چیخ کر مانگ رہی ہے تھوڑی دیر کو سوچیں کہ کیا ہم اِس قابل ہیں کہ ہم مرداپنی عورت اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کو اِس کے سوال کا کوئی تسلی بخش جواب دے سکیں اور اِسے یہ بتاسکیں کہ ہم بظاہراِس سے زیادہ بہادر نظرآنے والے مردنما اِنسان اندر سے بہت کمزوراور لاغر ہیں ہم میں اِس سے متعلق کسی بھی قسم کی برداشت کی حد صفر ہے تب ہی ہم کسی کے غلط بہکاوے اور شیطان کے اُکسانے اور محض شک کی بنیادوں پر اپنی عورت اپنی بیوی او ربیٹی اورخود سے جڑے صنفِ نازک کے دیگر رشتوں کو پل پھر میں اپنی غیرت کوسرِعام نیلامی سے بچانے کے نام نہاد ڈھونگ پر قتل کردیتے ہیں اور خود کو ہرزمانے کی ہرتہذیب کے ہر معاشرے کا سب سے بڑا غیرت مند اور قابلِ فخر مرد(مگر درحقیقت جِسے میرادینِ اسلام اور میرا معاشرہ اور قانون اِنسان نما ڈرپوک بھیڑیا)تصورکرتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جس زمانے کی جس تہذیب کے جس معاشرے میں اُصول کمرے کی آرائش بنے رہے اُنہی معاشرے کے اِنسانوں نے اپنی زندگیاں لاقانونیت میں گزارئیں اور اپنے اگلے پچھلے زمانے والوں کے نزدیک نشانِ عبرت بنے میرے زمانے کی میری تہذیب کے میرے مُلک اور میرے معاشرے میں بھی اُصول تو بہت سے بنائے جاتے رہے ہیں بنائے جارہے ہیں اور آئندہ بھی بنتے رہیں گے مگر بدقسمتی سے سارے اُصول کمرے کی آرائش کی طرح ایوانوں ، قانون کی کتابوںاور خبروں کی ہی زینت بنے رہے ایسا مستقبل میں بھی ہوگاآج یہی وجہ سے ہم عورت ، بیوی اور بیٹی کو بہت سے معاملے میں اِنصاف دلانے میں ہیچر میچر سے کام لیتے ہیں ۔

آج ہونا تو یہ چاہئے کہ ہمارے ارباب اقتدار اور اختیارراصول کمرے کی آرائش کی بجائے اُن پر عمل بھی کروائیں کیونکہ اصول اور قانون کمروں کی زینت کے لئے نہیں ہوتے ہیںتوآج حکمرانو، سیاستدانوں تم پر یہ لازم اور فرض ہے کہ لوگوں نے اپنی تہذیب اپنے مُلک اور اپنے معاشرے کی عورت بیوی اور بیٹی کو بچانے کے لئے جو قوانین اور قواعداور اصول وضع کئے ہیں اِنہیں ایوانوں کے کمروں قانون کی کتابوں اور خبروں کی آرائش بنانے کے بجائے تم اِن پر جلدازجلد عمل کراو ¿ تاکہ عورت بیوی اور بیٹی کو مردوں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل ہونے سے بچایاجاسکے اور اِنہیں بھی آزادی سے سانس لینے اور دین اسلام اور قرآن و سُنت کے مطابق ملنے والے حقوق کے مطابق زندگیاںگزارنے کا موقع میسر آسکے ۔

اَب آخر میں ، میں عورتوں ، بیویوں اور بیٹیوں سے” مارتر“کے ایک قول اور ایک جرمن کہاوت کو پیش کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا کہ” عورتو! شکستہ قبروں کے ویران کتبوں کی طرح نظرنہ آو ¿،تمہارے نرم نازک جسموںمیںتو قوس قزح کے تمام رنگ بھی سمودیئے جائیں توکم ہیں“،”بدمعاشوں اور ذلیلوں سے بھی محبت کرنے والی ہستی خداکے بعدعورت ہے“تو پھرکیوں نہ عورتوں ، بیویوں اور بیٹیوں تم اپنا کام کئے جاو ¿روزقیامت اللہ ہی انصاف کرے گا اور تب تمہارے ہی حق میں فیصلہ آئے گااور اپنی نام نہاد غیرت کے ہاتھوں تمہیں قتل کرنے والے بے غیرت مرد تمہارے سامنے ہی جہنم کی آگ میں جلائے جا ئیں گے اور تم جنت کی حوروں کی ملکہ بنی یہ منظردیکھ رہی ہوں گی۔

محمداعظم عظیم اعظم

SHARE

LEAVE A REPLY