ویسے تو ہمارے ہاں زندہ لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا کُجا مرنے والوں کی قبروں اور مقبروں کا خیال رکھا جائے لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سے قد آور لوگ ایسے ہیں جنکی قبروں کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے
ایک ایسی ہی خبر ایسے ہی مقبرے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ملتان کے مستریوں کی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم ؒ کی تاریخی حیثیت محکمہ اوقاف کی غفلت کی وجہ سے معدوم ہونے لگی۔ مقبرہ کی 1081 فٹ طویل چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔
دنیا نیوز کے مطابق صحن کا فرش بیٹھنے لگا، شمالی دیوار بھی کئی انچ تک باہر کی جانب جھک گئی۔ سالانہ 80لاکھ روپے سے زائد آمدنی حاصل کرنے کے باوجود کئی سالوں سے مقبرے کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کا 7 صدیوں پرانا مقبرہ یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ہے۔ محکمہ اوقاف کی غفلت کی وجہ سے چار دیواری متعدد مقامات سے انتہائی شکستہ ہو چکی ہے۔
محکمہ اوقاف کی جانب سے 10 اکتوبر 1971ء کو وسیع منصوبے کے تحت مقبرے کی مرمت کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد اس مقبرے کی صحیح معنوں میں مرمت کا کام نہیں کیا گیا محکمہ اوقاف کی نااہلی کے باعث رو بہ زوال ہے۔
،،،،،،،
شاہین اشرف علی













