آپکی ناراضگی رب کی ناراضگی اور آپکی خوشی رب کی خوشی۔فائزہ عباس

0
860
شک جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا صرف دختر رسول اللہ نہیں بلکہ نبوت کا حصہ ہیں، ام الائمہ ہیں، ام الکتاب ہیں،
آپ کو جس نے ناراض کیا رب و رسول اللہ ان سے ناراض ہیں اور آپکو جو راضی کرے گویا رب اور رسول اللہ کو راضی کرے،
آپکی ناراضگی رب کی ناراضگی اور آپکی خوشی رب کی خوشی ہے،
جناب مریم، آسیہ، خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں جبکہ جناب سیدہ رتمام عالم کی عورتوں کی سردار ہیں،
جب رسول اللہ تعظیم سے آپ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اپنی عبا بچھاتے ہیں اپنی جگہ بٹھاتے ہیں تو یہ تعظیم محض بیٹی کی نسبت سے نہیں ہو رہی بلکہ ایک سردار، دوسرے سردار کی عزت کر رہا ہے، ایک سردار دوسرے سردار کو تعظیم دے رہا ہے
آپ ام ابیھا ہیں، صدیقہ الکبری ہیں، معصومہ ہیں، سچائ اور حق کی برھان ہیں، حق و باطل کے بیچ تمیز کرنے کی صراط ہیں،
آپکی عظمت ایک عام انسان کے بیان سے باہر ہے، کیونکہ پاکیزہ و طاہر ادراکات معرفت کے اوج طہارت، حیا، پاکدامنی، سچائی کا اوج درکار ہے جہاں ایک عام انسان ایک حد سے آگے سمجھ سکے یہ ممکن نہیں اسکے واسطے کیوں کہ جو روح کائنات ایک زائقے ایک مہک ایک سچائی سے آشنا نہ ہو اسکے لیے اس مہک، اس زائقے اس بصیرت تک پہنچ پانا بہت کٹھن سفر ہے مگر یہ کہ کہ کوئی اختیار کرے، کوشش کرے، اظہار کرے، چاہے کہ جان سکے عقیدت فاطمہ سے ابھر کر
جناب زہرہ سلام اللہ علیہا کو حقیقت فاطمہ کے زریعے پہچان سکے کہ عقیدت کی فاطمہ اور ہیں اور حقیقت کی فاطمہ ہر محب کو میدان عمل میں کھڑے ہو کر حق گوئ کے واسطے بلا رہی ہیں،
حق و باطل کی تمیز دے رہی ہیں
دین کی جڑوں میں کھڑی ہر بیماری کی جانب ایک سکوت امت کو توڑ رہی ہیں،
وہ پکار رہی ہیں کہ کوئی تو ہو جو انکے ساتھ انکی مان کر کھڑا ہو، جو ان سے انکی سچائی کی دلیلیں طلب نہ کرے کہ جو خود سراپا دین ہیں، سرچشمہ دین ہیں، قرآن کی عملی شکل ہیں، کتاب خدا حجت ہیں، ان کے سامنے کوئی سوال کرے تو کیوں کرے اور کیسے یہ سوال جناب سیدہ پوچھ رہی ہیں؟
کوئی گواہی طلب کرے تو کیوں کرے یہ پوچھ رہی ہیں؟
کوئ دلائل زہرہ سلام اللہ علیہا کو مسترد کرے تو کیسے جرات ہی پای اس نے اور آخر وہ کیا چاہتے تھے کہ دین کو سرچشمہ دین سے بڑھ کر بھی کوئی سمجھ سکتا ہے؟
جو گھرانہ جانتا ہے جس نے ترویج کی ہے جس نے پیغام ربی کو آگے بڑھایا ہے، کیا ان سے سوال کرنا، ان پر سوال اٹھانا، ان سے دلیل طلب کرنا، انکی سچائی کو ٹھکرانا غیرت مند عاشق رسول اللہ کو زیب دیتا ہے؟
کیا درد زہرہ کو دربار تک لے گیا؟
کیا یہ اتنی عام سی بات ہے؟
ایک ھل من ناصر ینصرنا کی آواز حسین نے دی تھی کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے اور ایک اواز
کوی ہے جو گواہی دے کہ رسول اللہ غدیر میں کیا فرما گئے تھے…. کوئ ہے جو ان غاصبین وقت کو ہٹا کر حق کو حق کی جانب پلٹا سکے ایک یہ آواز بلند تھی فضاوں میں مگر
سب خاموش، لاتعلق، اپنی زندگیوں میں غرق کہ جب وقت تھا امتحان گاہ میں امتحان دینے کا تب سب غائب اور جب وقت ہو غزوات میں مال و زر لینے کا تب سب موجود آج تک یہ امت اسی کیفیت میں ہے ۔ ۔ ۔
تب امت کے فرقے بنے تھے آج فرقوں میں فرقے بن چکے، تب بھی حسرت زہرہ، درد زہرہ کی گونج فضاوں، آسمانوں زمینوں کو گریہ کرنے پہ مجبور کرتی تھی پر موجود انسانوں کے لیے اس گریہ، اس آہ و زاری کی چوٹ تک برداشت نہ ہوئ،
آج بھی عقیدتیں سر چڑھ کر بولتی ہیں، مگر قیام کے واسطے ہم خود مین سے خود کی خواہشات، چاہتوں، رتبوں اور اختیار کو ترک نہیں کر سکتے، ہر طاغوت کی گود میں بیٹھ کر، اسی کی راہ چن کر، اسی کی عظمت بیان کر کے وسیلہ زہرہ سلام اللہ علیہا سے مدد کے طسلب ہوتے ہیں۔ ۔
آج بھی تعلیم ہو، ھدف زندگی کو، راہ متعین کرنی ہو، یا کوئی بھی اقدام اٹھانا ہو اس سب میں مرضی چاہت، طلب، پسند میری میں کی ہوتی ہے اور مدد وسیلہ زہرہ سے طلب کرتے ہیں، آج بھی طاغوت کو ہوج کر معبود کی عبادت کے دعویدار ہیں ہم، آج بھی میری زات کے اندر میری خواہشات کے بتوں کے انبار ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ درد زہرہ، حسرت زہرہ، چاہت زہرہ، انکی ازیت، کرب، درد، ان پہ ہوئے ظلم کو میں بیان کرتا ہوں آخر یہ منافقت کی کتنی اور صدیاں درکار ہیں،
“کیا ہم واقعی آخری حجت کے واسطے تیار ہیں ۔ ۔ ۔؟”
کیا چوٹ کھائ ہے، کون سی درد سہا ہے، کون سی قربانی دی ہے حتی کون سی خواہش کو راہ ولایت و امامت میں میں نے ترک کیا ہے؟
کیا میرے انداز اور گفتار ہیں جو اپنے ہی بہن بھائی کو دشمن سمجھکر اس پہ طعنہ کسنے، طنز کے تیر لگانے، اس کو نیچا دکھانے، اسکی توہین اور زلت کرنے کو تیار ہیں ۔ ۔؟
کیا یہی عشق زہرہ ہے میری زندگی میں؟ کیا یہی سب ہے جو ہم وارنے کو تیار ہیں؟
ایک سرمشق زہرہ تھی ایک تحریر جو زہرہ لکھ گئیں تاریخ کے سینے پر، وقت کی روح پر اور گواہ بنا گئیں کہ میں ایک شجاع، انقلابی عورت ہوں اور جب دین کی روح کو مسخ کرنے کی بات آئے گی تو زہرہ سلام اللہ علیہا دربار جایینگی، خطبہ دینگی، آواز اٹھایینگی، چپ نہیں بیٹھیں گی،
کہ جب رسول اللہ آواز دیتے ہیں تو وصی رسول ہر ظالم کی آواز کو بند کرتا ہے اور  جب وصی رسول اللہ تنہا کر دیا جاتا ہے تو زہرہ ناصرہ، ساتھی مددگار، ہمسر، بن کر آواز بنتی ہیں کہ جناب علی علیہ السلام سے فرماتی ہیں کہ آپ نے ہر غزوہ میں ہر میدان میں اپنی شجاعت کے جوگر دکھائے آج رسول اللہ کے وصی پر آنچ آئ ہے آج زہرہ کا میدان ہے، آج زہرہ سلام اللہ علیہا کو قیام کرنا ہے آج زہرہ سلام اللہ علیہا کو حق کی برھان بن کر نفاق اور طاغوت کے ہر پردے کو چاک کرنا ہے ۔ ۔ ۔
آج بھی زہرہ سلام اللہ علیہا کا درد انکی حسرت ابھی تک باقی ہے ۔ ۔ ۔آج بھی اسی حماسی قیام کی ضرورت ہے، آج بھی اسی عملی تدبیر، عملی اقدام کی ضرورت ہے جو اقدام دربار میں جاکر خطبہ فدک کی صورت میں آپ نے دیا ۔ ۔ ۔
جو اقدام اس خطبے میں موجود توحید، کائنات شناسی، رسالت، نبوت، امامت کے زکر کے زریعے دین کے اہم ترین اصولوں کے بیان سے کیا، جو
بتاگیییں کے تم سب پہلے کیا کیا کرتے رہے ہو اور آج پھر اپنی اصل پہ ہکٹ رہے ہو اور رسول اللہ کے بتائے راستے کو چھوڑ رہے ہو ۔ ۔ ۔
جو قدم آپ نے انصار کی خواتین سے گلہ کر کے انکو شکوہ کر کے سن سے خطبہ مین بیان کیا کہ تم سب کے مرد غدیر کو اتنا جلدی کیسے بھول گئے کہ اس سخت ترین گرمی مین جناب رسول اللہ نے کیا پیغام دیا تھا کیا وہ پیغام نظام امامت کا نہییں تھا کہ تمہارے مردوں نے چپ سادھ لی اور کوئی علی کے حق میں کھڑا نہ ہوا، اور اس قدر ظلم کیا امت نے رسول اللہ کی تعلیمات کو فراموش اس قدر جلدی کردیا اور بیعت کر لی انکو تنہا کردیا، لاتعلقی، خاموشی، ساتھ نہ دینے رسول اللہ کے پیغام کو بھلانے کی ازیت کوئی عام شخص کیسے درک کر سکتا ہے بھلا کہ جب اس نے وہ بصیرت وہ نور وہ سمجھ کسب ہی نہ کی ہو تو وہ تو بے حس و لاتعلق ہی رہیگا ۔ ۔ ۔
جو اقدام جناب زہرہ اپنی وصیت میں سخت ناراضگی کی صورت میں کیا اور ایک انقلاب اسلامی کی تحریک کا آغاز اپنی ناراحتی، ناراضگی سے کر کے گئین کے کسی بھی انقلاب کو پڑھی گے تو معلوم چلے گا کہ اس کی بنیاد کسی نہ کسی نقطہ پر ناراحتی و ناراضگی تھی نظام الہی، نظام امامت کو چھوڑ کر جو رسول اللہ نے بہت واضح انداز سے جگہ جگہ سمجھایا تھا اسکو چھوڑ نے، بھلانے والے اسکے مخالف جانے والے، جناب زہرہ ان سے ناراض گئیں ہیں کہ جناب زہرہ صدیقہ ہیں، طاہرہ ہیں، زکیہ و بتول و معصومہ ہیں کہ سیرت معصومہ ہر عیب سے منزہ و بلند ہے اور وہ کبھی زاتی عناد، زاتی احساس، جزبے یا مفاد کے تحت اقدام نہیں کرتی جناب زہرہ سلام اللہ علیہا کی ناراضگی رب تعالیٰ کے بنائے اصولوں کی خاطر ناراضگی ہے، انکی ناراحتی کا سبب محض فدک کا ٹکڑا نہیں بلکہ وہ نظام الہی جو نظام امامت کی شکل میں رسول اللہ سمجھا کر، بتا کر گئے اس پر خاموشی ہے سمت کی، لاتعلقی، بے رغبتی ہے سنت کی اور جن سب نے جو سب غصب کیا ان سب ساتھ دینے والوں، انکے ساتھ رہنے والوں اور اس ظلم کی تائید خاموش رہ کر یا ساتھ دیکر کرنے والے حتی جو سب اس سب سے آج تک بھی راضی ہیں اگر غور کریں تو ۔ ۔ ۔
جناب زہرہ سلام اللہ علیہا ان سب سے ناراض گئیں کہ جناب فاطمہ، صدیقہ، طاہرہ، زکیہ، معصومہ جو جنت کے سرداروں کی ماں ہیں، امام الانبیاء نے انکو ام ابیھا کہا ہے، ولی اللہ امیرالمومنین کی زوجہ دراصل اس زمین کے ٹکڑے کی خاطر نہیں گئییں گو کہ وہ حق فاطمہ سلا اللہ علیہا تھا اور وہ حق غصب کیا گیا تھا اور اس غصب شدہ حق پر آواز کے زریعے درحقیقت آپ   1240000 انبیاء کی تعلیمات کو بچانے کے واسطے گئین تھیں ،
انبیاء، مرسللین اور خصوصاً رسول اللہ کی تکالیف انکے بتائے راستوں انکی زحمتوں اور ازیتوں اور انکے مشن کے احیاء کی خاطر وقت کے طاغوت کے سامنے حق گوئی کے واسطے گئیں ۔ ۔ ۔
اور دنیا کو رہتی دنیا تک کے واسطے بتا گئیں کے جو جو بھی پنجتن کے مقابل کھڑا ہے۔ ۔ ۔
دراصل وہ جھوٹ بول رہا ہے اور جھوٹ بولنے والوں، غاصبین اور ظالمین پر رب تعالیٰ نے لعنت فرمائ ہے کیونکہ رب تعالی ان پہ رحمت نہیں کرتا جو غاصبین ہوں اور جھوٹ بولتے ہوں کہ مباہلہ کی آیات ۔ ۔ ۔
اور وہ واقع قرآنی دلیل ہے کہ جو جو بھی انکے سامنے کھڑا ہے، سوال جواب کر رہا ہے، دلائل مسترد کر رہا ہے، گواہیاں مانگ رہا ہے، اونچا بول رہا ہے ایسا ہر شخص جو سامنے صدیقہ زہرہ سلام اللہ علیہا کے کھڑا ہے دراصل وہ غاصبین و ظالمین میں سے ہے اور رب تعالی نے انکےسامنے آنے والوں پر لعنت کی ہے کہ پنجتن سچائی اور حق ہیں اور انکے مقابل ہر بولنے والا، لاتعلق، خاموش اور ظالمین کا ساتھ دینے والا اور انکے عمل سے راضی رہنے والے سب ظالمین کے زمرے میں آتے ہیں اور ظالمین و غاصبین اور جھوٹ بولنے والوں کو رب تعالی نے اپنی رحمت سے دور رکھا ہے ۔ ۔ ۔
آج بھی یہ راہ کھلی ہے کہ یا تو ہم قیام زہرہ سلام اللہ علیہا کیساتھ کھڑے ہیں یا پھر انکے مخالف اگر انکے ساتھ کھڑے ہیں تو انکا مشن انکے قیام کو آگے بڑھانا ہر اس فرد کی زمہ داری ہے جو جناب زہرہ سلام اللہ سے عشق رکھتا ہے مودت رکھتا ہے اور انکی شفاعت کا طلبگار ہے تو اس کو بھی پھر پتھر کھانے، چوٹ کھانے، آگ میں جلنے، اولاد قربان کرنے، ازیت و تکلیف مال و دولت اور رتبے و اختیار کی قربانی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہییے کہ جناب زہرہ سلام اللہ اپنے قیام کے زریعے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا ھدف واضح بیان کر کے گئیں ہیں اور کیسی کیسی قربانی دینا پرے گی یہ بھی بتا گئ ہیں اور وصیت کر کے ظالمین کے خلاف قیامت تک کے لیے اپنا مقدمہ رب کی بارگاہ میں رکھ کر گئ ہیں آج ہمیں بھی سوچنا ہے کہ محض عقیدت مند ہیں یا کہ پیروکار ہیں کہ پیروکار فرنبردار ہوتا ہے سوال جواب وقت کے امام سے نہیں کرتا انکو نصیحتیں وعظ اور مشورے نہیں دیتا بلکہ انکی آواز انکی گونج بنتا ہے اور انکے سامنے کھڑے ہر ظالم کو چپ کروانے کی مکمل شعوری عقلی عملی بصیرت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔
جس طرح امام علی علیہ السلام جناب رسول اللہ کے سامنے آنے والی ہر چوٹ یر آواز ہر مشکل کو اکھیڑ پھینکتے تھے کہ مخلصین نہ ہوں تو علی جیسا شجاع و بہادر صاحب علم و اسرار در علم تنہا رہ جاتا ہے اور اگر موجود ہوں تو حسین کی مانند قیام کرتا ہے آج بھی حقیقی مخلصین درکار ہیں امت مسلمہ کو، آج بھی قیام کو ساتھیوں کی ضرورت ہے، آج بھی حسرت زہرہ، درد زہرہ اس کائنات کے ہر گوشے مین گونج رہا ہے ۔ ۔ ۔
“کہ خدا کی قسم میں  جھوٹ نہیں بولتی۔ ۔ ۔”
“کہ کوی ہے جو گواہی دے علی کا ساتھ دے ۔ ۔ “
فائزہ عباس
SHARE

LEAVE A REPLY