ملک فیروز خان نون کی وفات
ملک فیروز خان نون 7 / مئی 1893ءکو نون سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایچی سن کالج لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ وہ 1920ءمیں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 1936ءتک مستقل رکن منتخب ہوتے رہے۔ 1936ءمیں وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔ 1941ءسے 1942ءتک وہ وائسرائے ہند کی کابینہ کے رکن رہے۔
وہ 1942ءسے 1945ءتک وہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ 1947ءسے 1953ءتک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور 1953ءسے 1955ءتک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 1956ءسے 1957ءتک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور 1957ءسے 1958ءتک وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے بعد ملک فیروز خان نون نے عمر کا بقیہ حصہ گوشہ گیری اور گمنامی میں گزارا اور 9 / دسمبر 1970ءکو ایک طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پائی۔ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح عمری انگریزی میں فرام میموری اور اردو میں چشم دید کے نام سے شائع ہوچکی ہے
—————————————————————————————————————–
علامہ غلام مصطفی قاسمی کی وفات
نامور عالم دین، محقق، مصنف شیخ الحدیث علامہ غلام مصطفی قاسمی 9 / دسمبر 2003ء وفات پاگئے۔
علامہ غلام مصطفی قاسمی 24 / جون 1924ء کو گوٹھ رئیس بھنبھو خان چانڈیو تعلقہ میرو خان ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولانا فتح محمد سیرانی اور مولانا خوشی محمد میرو خانی سے حاصل کی۔ درس نظامی مکمل کرنے کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند چلے گئے جہاں انہیں مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی سے اکتساب علم کا موقع ملا۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی کے ہاتھ پر بیعت بھی تھے۔
دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدانہوں نے سندھ مسلم کالج کراچی، سندھ یونیورسٹی اورمدرسہ مظہر العلوم کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ وہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد کے ڈائریکٹر اور سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے چیئرمین رہے۔ 1977ء سے 1989ء تک وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔
علامہ غلام مصطفی قاسمی کوحدیث، فقہ، تفسیر اور منطق پر عبور حاصل تھا۔ ان کی تحقیقی و علمی تصانیف کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے زمانۂ طالب علمی میں علم منطق پر مفید الطلبہ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو آج تک مختلف مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف کے مجموعہ ٔ کلام شاہ جو رسالو سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کی تصانیف میں سیرت رسولؐ اور قرآن پاک کی چند سورتوں کی تفسیر بھی شامل تھی۔ انہوں نے سندھی کی بنیادی لغت اور بنیادی کاروباری لغت بھی مرتب کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سماجی انصاف ء اجتماعیت، شاہ ولی اللہ جی فلسفی جی روشنی مہ، سطعات (ترجمو )انصاف اور قرآن حکیم جون خصوصیتون کے نام سے کتابیں تحریر کی تھیں اور مخدوم نوح ہالائی کے فارسی ترجمہ قرآن کو مفید حواشی کے ساتھ ایڈٹ کیا تھا۔
حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ وہ حیدرآباد میں غلام نبی کلہوڑو کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————————————————————————————————
حاجی محمد شریف کی وفات
پاکستان کے نامور مصور حاجی محمد شریف 9 / دسمبر 1978ء کو لاہور میں انتقال کرگئے اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
حاجی محمد شریف 1889ء میں ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے دادا اور والد دونوں ریاست پٹیالہ کے درباری مصور تھے۔ حاجی محمد شریف نے مصوری کے اسرار و رموز اپنے والد بشارت اللہ خان کے ایک شاگرد لالہ شائورام اور استاد محمد حسین خان سے سیکھے اور1906ء میں مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔
ان کی منی ایچر پینٹنگز کی ایک نمائش 1924ء میں لندن میں ہوئی جس سے ان کی بڑی شہرت ہوئی اور انہیں ممبر آف برٹش ایمپائر کا اعزاز عطا کیا گیا۔ 1945ء میں وہ لاہور آگئے اور میو اسکول آف آرٹ میں مصوری کی تعلیم دینے لگے۔1965ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ سے بطور وزیٹنگ پروفیسر منسلک ہوئے اور ایک طویل عرصہ تک طلبہ کو مصوری کی تعلیم سے آراستہ کرتے رہیں۔ ان کے قدر دانوں میں صدر ایوب خان اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو دونوں شامل تھے۔
حکومت پاکستان مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ 24 دسمبر 1991ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی تصویر اور پینٹنگ سے مزین ایک خوب صورت ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا جسے عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
————————————————————————————————————-
نرالا کی وفات
پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار نرالا کی تاریخ پیدائش 8 / اگست 1937ء ہے
۔
نرالا کا اصل نام مظفرحسین زیدی تھا اور وہ دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1960ء میں فلم ’’اور بھی غم ہیں‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں ارمان، گھر داماد، ہم دونوں، جوکر، احسان، سمندر، دو راہا، ہیرا اور پتھر، لاڈلا اور نصیب اپنا اپنا کے نام سرفہرست ہیں۔
نرالا کراچی 9 / دسمبر 1990ء کو میں وفات پاگئے
وقار زیدی ۔ کراچی












