گزشتہ قسط میں ہم بخل پر بات کر رہے تھے اب آگے بڑھتے ہیں اور اردو کے دومحاوورے پیش کرتے ہیں ایک محاورہ تو یہ ہے کہ چمڑی جا ئے مگر دمڑی نہ جا ئے۔ اس محاورے میں بخیل کی پوری نفسیات بیان کردی گئی ہے۔ کہ وہ پیسہ کو دانت سے اس طرح پکڑ کر رکھتاہے کہ عزت چلی جائے دنیا بھر میں بدنامی ہو جا ئے، مگر اسے کوئی پرواہ نہیں ہے؟ ابھی زیادہ دور کی بات نہیں کہ ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا کہ لوگ آن کے لیئے جان دیدیتے تھے،عزت کو بچانے کے لیئے سب کچھ خرچ کر دیتے تھے اور کوشش یہ ہوتی تھی معاملہ ختم ہوجائے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو؟ لیکن اب اس کا الٹ ہے کہ مال بچانے کے لیئے جان کو خطرے میں ڈالدیتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ عزت رہے یا نہ رہے, مگر مال جنتا ہوسکے سب بچالیاجائے، ورنہ زیا دہ سے زیادہ بچالیا جائے۔اور معاملہ چھپانے کے بجا ئے بڑی دھٹائی سے کہتے ہیں اگر میں کر رہاہوں تو فلاں بھی تو یہ ہی کررہا ہے۔یعنی ہر ایک اس حدیث کی تصویر بنا ہوا ہے کہ “جس نے حیاء چھوڑ دی وہ جو چاہے کرے “ یعنی جس کے پاس مال ہے وہ اب آل پروف ہوچکا ہے۔سورہ المعارج کی آیت نمبر 18کی تفسیر میں ابن کثیر ؒنے اس مضمون پر اقوال کاایک ذخیرہ جمع کردیا ہے وہ وہاں جاکر دیکھ لیں میں ان میں سے صرف ایک حدیث اور ایک قول پیش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے وہ جو حدیث لائے ہیں کہ حضور(ص) نے فرما یا “سینت سینت اور سمیٹ سمیٹ کرنہ رکھ ورنہ اللہ بھی تجھ سے روک دے گا “ (صحیح ا لبخاری:کتاب الزکاۃ: باب الصدقہ فیما استطاع (3414) اور وہیں اسی سلسلہ میں حضرت حسنؒ بصری کا بھی ایک قول وارد کیا ہے کہ “ اِبن آدم اللہ کی وعید سن رہا ہے پھر بھی مال سمیٹتا جاتا ہے “۔ ًوعید ً کیا ہے اس کا انکشاف اس حدیث میں ہے کہ “مال جوڑ جوڑ کے نہ رکھ ورنہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تجھے دینا بند کر دے گا“ لیکن بندہ زمین میں دھنس جا نے والے قارون کے قصے سے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑتا ہے، نہ آئے دن باد شاہتیں اور حکومتیں جانے سے کوئی عبرت پکڑ تا ہے کہ “ یہ بھی تو آتا ہوا روک دینا ہی ہے “ چونکہ آجکل اصلی اللہ والے نہیں رہے ہیں، ورنہ ہم مشورہ دیتے کہ لوگ ان کی صحبت میں بیٹھیں اورا ن سے پوچھیں کہ آپ کا تجربہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟ تو وہ بتا تے کہ ا للہ کی مخلوق پر خرچ کرنے سے آمدنی بڑھتی ہے۔ اورکنجوسی کرنے سے رک جاتی ہے۔ پہلے دور میں لوگ بچوں کے ہاتھ سے خیرات کرایا کرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی دینے کی عادت پڑے؟ کیونکہ ا ن کے بڑوں کا تجربہ یہ تھا کہ ایک دو تو دس تو ضرور ملیں گے کیونکہ ا للہ کا وعدہ ہے؟ اب وہ رسم تو ختم ہوگئی اب بچوں کی فرمائش یہ ہوتی ہے کہ میرا کلاس فیلو فلاں برانڈ کا جوتا پہنے ہوئے ہےاورچشمہ لگا ئے ہوئے مجھے بھی ویسا ہی چاہیئے ہے؟ اگر والدین کی جیب اس کی اجازت دیتی ہے تو پورا کرنے کا حکم ہے اور یہ بھی شکر میں شامل ہے کیونکہ ایسی کئی حدیثیں موجود ہیں کہ حضور (ص) نے کسی کو برے حالوں میں دیکھا تواس سے پوچھا کہ“ کیا تمہاری مالی حالت خراب ہے“؟ اگراس نے جواب میں اپنی ملکیت کی طویل فہرسست بیان کردی تو حضور(ص) نے فرمایاکہ اس کا شکر تمہارے عمل سے بھی ظاہر ہونا چاہیئے کیونکہ یہ بھی شکر میں شامل ہے؟ اس کے لیئے سورہ ابراہیم کی آیت نمبر (7)ملا حظہ فر مالیں جس میں فرمان ِ باری تعالیٰ ہے کہ “ اگر تم شکر کروگے تو میں زیادہ دونگا اور ناشکری کروگے تو میرا عذاب بھی شدید ہے؟ مگر ایسا کرتے ہوئے بچے کو ساتھ میں کچھ دیدیں کہ بیٹا فقیروں اور ضرورت مندوں کو دو اوراللہ سبحانہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرانہ ادا کرو۔ کیونکہ وہ اپنے وعدے کے مطابق زیادہ دے گا۔ بشرط ِ آپکی اتنی آمدنی اتنی ہو کہ فرمائش پوری کر سکیں ورنہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہوجا ئے گا؟ لیکن آجکل سب سے بری حالت سفید پوشوں کی ہے کہ ان کے اخراجات بہت زیادہ ہیں آمدنی کم ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بغیر رشوت لیئے ان کا گزارہ نہیں ہے۔ جبکہ حدیث یہ ہے کہ “ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں “ اس صورت میں قر ان کی آیت ہے کہ “ اولادا نسان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے “۔ ان تمام مشکلات سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نہ باپ خود جھوٹ بولے نہ بچوں کو جھوٹ سکھا ئے؟ تو تمام مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ باپ جھوٹ نہیں بولے گا جوکہ خاندان کا سربرا ہ ہے تو بیوی اور بچوں کو اس کی آمدنی کا پتہ ہوگا اور وہ بیجا مطالبہ نہیں کریں گے کہ “باپ کو جہنم پہنچانے کا باعث بنیں“والدین تو وہ مقدس ہستی ہیں جن کے حقوق اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہر جگہ اپنے حقوق کے فوراً بعد رکھے ہیں؟ اور زندگی میں ان کے ساتھ سلوک کرنے اور بعد میں بھی ان کے لیئے دعا کرنے کاحکم دیا ہے؟ اللہ ہم سب کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرما ئے (آمین)












