خانہ جنگی کے شکار ملک یمن کے بندرگاہی شہر عدن میں ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً چالیس افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ جھڑپیں حکومت کی فوج اور علیحدگی پسند باغیوں کے درمیان جاری ہیں۔ اتوار گیارہ اگست کو جاری ہونے والے عالمی ادارے کے بیان میں زخمیوں کی تعداد ڈھائی سو سے زائد بتائی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ آٹھ اگست سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں کئی عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے عدن کی بندرگاہ پر کنٹرول رکھنے والی سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنی موجودہ پوزیشنوں کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں وگرنہ سخت کارروائی کے لیے تیار رہیں۔












