استنبول میں دوکار بم دھماکے , 29افراد ہلاک اور130 افراد زخمی

0
1116

ہفتے کے روز استنبول کے ایک فٹ بال اسٹیڈیم دو بڑے دھماکوں سے گونج اٹھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ ایک کاربم اور خودکش حملے کے دھماکے تھے جن کا ہدف سیکیورٹی اہل کار تھے۔

حکومتی عہدے داروں نے اتوار کی صبح تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا۔ لیکن مقامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں کم ازکم 29 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے۔

این ٹی وی ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس کے اہل کاروں کو فٹ بال اسٹیدیم لے جانے والی ایک بس کو نشانہ بنایا۔

دھماکے ہونے سے پہلے بسکتاش فٹ بال کلب اور برساسپور کےدرمیان میچ ختم ہوا تھا۔

استنبول سے وائس آف امریکہ کے رپورٹر نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کا ہدف اسٹیڈیم میں فٹ بال کے شائقین کے ہجوم کی بجائے پویس تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کرنے والے کالعدم کرد گروپ تھے جو برسوں سے ترک حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اس سال استنبول کئی بم دھماکوں کا ہدف بن چکا لے جن میں جون میں اتاترک ایئر پورٹ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سال ملک بھر میں دہشت گرد حملوں میں 200 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں ۔ ان حملوں کا ذمہ دار اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں اور ترکی میں موجود کرد فرقوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

……………………….

ترکی کے شہر استنبول میں دوکار بم دھماکے ہوئے ہیں، جس میں 13افراد ہلاک اور38 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق یہ دونوں کار بم دھماکے استنبول میں تقسیم اسکوائر کے قریب ایک فٹ بال اسٹیڈیم اور قریب ہی پارک میں ہوئے ہیں۔

ترکی کے وزیر داخلہ کے مطابق دھماکے نتیجے میں اب تک 13 افراد ہلاک اور38 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد پولیس اہلکاروں کی بتائی جارہی ہے۔ دھماکے میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس اہلکار فٹ بال میچ کی وجہ سے اسٹیڈیم کے اطراف میں تعینات تھے۔ دھماکے سے 2گھنٹے قبل اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ ختم ہوا تھا۔ دھماکے کے بعد تقسیم اسکوائر کے اطراف کی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ادھر امریکی قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی شہری متاثرہ علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

دھماکے کی جگہ ریسکیو و امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جو لاشوں کو پوسٹم مارٹم کے لیے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کررہے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY