پاکستان کو اللہ اپک نے کیسی کیسی نعمت سے نوازا ہے اسکا احساس شمالی علاقہ جات میں آ کر خاص طور پر ہوتا ہے۔ میں اشرف اور ہماری
کویت کی بہت پیاری دوست فردوس مسلم ان دنوں اسی جنت ارضی کی سیر پر ہیں

میرا وعدہ ہے کہ اس سفر کا مکمل سفر نامہ لاہور واپسی پر عالمی اخبار کے لیئے لکھونگی اس نیت سے کہ اسکی کتاب بھی بن جائے

لاہور سے ہم کار کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں اور یہ سفر بذات خود ایک مکمل کتاب ہے۔ لمحے بھر کو یوں لگتا ہے جیسے یہ سب خواب ہے۔ اشرف علی اور فردوس مسلم کے ساتھ ساتھ قدرت اور فطرت اپنے ہزار رنگ دکھا رہی ہے

اسوقت ہم ہنزہ میں ہیں اور کل بدھ کے روز ناران روانگی ہے

اسلام آباد سے سات سو کلومیٹر دور شاہراہ ریشم کے کنارے پر واقع یہ وادی ہنزہ سطح سمندر سے ڈھائی ہزار میٹر بلند ہے۔ اسلام آباد سے اس کا راستہ حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ گلگت سے ہوتا ہوا ہنزہ آتا ہے۔ایک ا ور راستہ مانسہرہ سے بالاکوٹ ناران اور بابوسر پاس سے چلاس کے ساتھ ملتا ہے۔

اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز بھی ہفتے میں دو دن گلگت جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنی گاڑی پر بھی گلگت اور وہاں سے ہنزہ جاسکتے ہیں۔ برفباری اور تیز بارشوں سے شاہراہ قراقرم آئے دن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہتی ہے اور اس کی مرمت کا کام بھی جاری رہتا ہے۔

سفید،گلابی اور نارنجی پھولوں سے درخت لدے ہوئے تھے۔ ہنزہ پہنچت حسین آباد سے علی آباد تک کی سڑک دونوں طرف پھولوں سے بھرے درختوں سے لدی ہوئی تھی۔

وادی ہنزہ سات ہزار نو سو مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہے اور گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ جہاں کی زبان بروشسکی ہے۔ اسے دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ واخی اور شینا زبان بھی بولی جاتی ہے۔ عام طور پر ہنزہ کو ایک شہر کا نام سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت سی چھوٹی چھوٹی وادیاں اور قصبے شامل ہیں۔
ہنزہ کا سب سے اہم شہر علی آباد ہے جبکہ سیاحت کیلے اور اردگرد کے نظاروں کیلے کریم آباد مشہور ہے۔کریم آباد میں بہت سے ہوٹل ہیں۔ اس کے علاوہ نہایت ہی سستی ماہانہ و ہفتہ وار بنیادوں پر بھی رہائش مل جاتی ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کے بقول ”1889 تک انگریز گلگت میں مقیم رہے، شراب پیتے رہے اور ابلے ہوئے آلو کھاتے رہے۔ ان کے لیے صرف 60 میل دور ایک برفانی وادی میں روپوش اہل ہنزہ خوبصورت مگر وحشی اور جاہل لوگ تھے جو کاشغر اور قندھار جانے والے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔
”اسی برس گرومجپکی نام کا ایک روسی افسر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ ہنزہ میں داخل ہوا اور وہاں ایک روسی دستہ تعینات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس پر انگریزوں کی وہسکی پانی ہوئی اور آلو پتھر ہو گئے۔ میر آف ہنزہ صفدر علی کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا کہ وہ ان
کی ڈاک کاشغر تک جانے دے گا اور اس کے بدلے انگریز اسے ایک معقول رقم ادا کرتے رہیں گے۔ لیکن روسیوں کی آمد نے انہیں چوکنا کر دیا۔ یوں بھی وہ کسی بہانے کی تلاش میں تھے اور یہ بہانہ تو بہت ہی معقول تھا کہ ہنزہ کے بعد روسی گلگت بھی آسکتے ہیں اور گلگت سے دہلی اگرچہ دور ہے پر ہے تو سہی۔
پھر ۱۸۹۰ مین ان کی فوج کرنل ڈیورنڈ کی سرکردگی میں نلت کے قلعے پر قابض ہو گئیں جو ہنزہ کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔ اس لڑائی میں اہل ہنزہ کے پاس چند بندوقیں تھیں اور انگریز فوج رائفلوں اور مشین گنوں سے مسلح تھیں، پھر بھی انگریز کو جانی نقصان اس قدر زیادہ تھا انہیں اس چھوٹے سے قلعے کو سر کرنے والی فوج کے دو جوانوں کو وکٹوریہ کراس سے نوازنا پڑا۔

”نلت کے بعد وہ بلتت قلعے کی طرف آئے اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد وہ بلتت قلعے پر قابض ہو گئے۔ میر آف ہنزہ صفدر علی اپنے خاندان سمیت چین فرار ہو گیا۔ بلتت قلعے کو انگریز نے خزانے کی تلاش میں تہس نہس کر دیا لیکن انہیں گن پاؤڈر کے چند تھیلوں کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ انگریزوں نے میر صفدر علی کے بھائی کو ہنزہ کا نیا میر مقرر کر دیا۔ اس کے بعد اہلِ ہنزہ کی قسمت کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ منسلک ہو گئی لیکن مرکز سے دوری کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی من مانی کرتے رہے۔ برصغیر آزاد ہوا تو ہنزہ کی قید بھی ختم ہوئی۔” بھٹو دور میں ریاستی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہنزہ میں بھی یہ نظام ختم ہو گیا۔ہنزہ میں آج بھی میر تو ہے مگر صرف اعزازی عہدے کے ساتھ۔


کریم آباد کے چاروں طرف اونچی چوٹیاں ہیں جن کے نظارے دنیا میں مشہور ہیں۔ ہنزہ کے اردگرد موجود چوٹیوں میں راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک مشہور ہیں۔ کریم آباد کا بازار ہنزہ کی ثقافتی اشیاء سے بھرا پڑا ہوتا ہے۔ چونکہ ہنزہ میں پاکستانی سیاحوں کی نسبت غیر ملکی سیاح زیادہ آتے ہیں اس لیے یہ بازار قدرے مہنگا محسوس ہوتا ہے۔ کریم آباد میں موجود میر کا پرانا گھر بلتت قلعہ کریم آباد کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے تقریباً 700 سال پرانا یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کریم آباد کے قریب ہی ایک اور پرانا قصبہ التت ہے جو وادی ہنزہ کا سب سے پرانا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس میں موجود
ا لتت قلعہ نو سو سال قدیم ہے۔ ہنزہ کے گردو نواح میں سیاحتی مقامات میں سب سے مشہور ڈوئیکر یا ایگل نیسٹ ہے جہاں پیدل یا جیپ کے ذریعے جاسکتے ہیں۔ یہ جگہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت برف پوش چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں سے التر پیک و التر میدان کا خوبصورت ٹریک بھی شروع ہوتا ہے۔ جیپ پر دریا کے دوسرے کنارے پر واقع وادی نگر بھی جایا جاسکتا ہے جہاں پر گلیشئیرز کا نظارہ دیدہ زیب ہوتا ہے۔ راکاپوشی کے دامن میں واقع خوبصورت گاؤں مناپن پورا دن گزارنے کے لئے بہترین جگہ ہے۔۔۔۔۔۔ نومل اور نلتر کی خوبصورت وادیوں میں پہنچ کر سیاح اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔
قدرتی آفت کے نتیجے میں دریائے ہنزہ پر بن جانے والی جھیل عطا آباد اب ایک تفریحی مقام کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اونچے کالے پہاڑوں کے درمیان جھیل کے نیلگوں پانیوں میں کشتی رانی ایک یادگار سفر بن جاتا ہے۔ صرف ایک دن مزید صرف کر کے جھیل کے پار اتر کر گلمت گاؤں، بورت جھیل، پسو گاؤں، پاکستان کے آخری قصبے سوست بھی بآسانی جایا جاسکتا ہے۔
چین کی سرحد کے ساتھ واقع دنیا کے سب سے اونچے درّے خنجراب کا سفر اس پورے سفر میں بہت یادگار اور حسین ہے خنجراب میں سڑک کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا گیٹ ہے، بس وہیں سے چین شروع ہوجاتا ہے۔

دریائے ہنزہ پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ اور نگر کا اہم دریا ہے۔ بہت زیادہ مٹی اور چٹانی ذروں کی آمیزش کی وجہ سے یہ بہت گدلا ہے۔ مختلف گلیشیر اور خنجراب اور کلک نالے اس کی بنیاد ہیں۔ پھر اسی میں نلتر نالہ اور دریائے گلگت ملتے ہیں۔ بالآخر یہ دریائے سندھ میں مل جاتا ہے۔ شاہراہ ریشم اس دریا کے ساتھ چلتی ہے۔
آج کی بات یہیں تک اب اگلا پڑاو ناران ہے وہاں سے ملیں گے

شاہین اشرف علی
اشرف علی
فردوس مسلم
اور
وسیم

SHARE

LEAVE A REPLY