’’سفسطہ اور مغالطہ یہی تو ہے۔‘‘ ندیم صدیقی

0
1483

اسلام میں علم کی اہمیت جس طرح واضح کی گئی ہے اس کی مثال شاید وباید ہی کہیں اور ملے مگر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ علم کی طلب میں
( کم از کم دورِ حاضرمیں) ہم مسلمان ہی افضل ہیں۔۔۔ البتہ خوش فہمی کی آزادی ہے۔
دورِ گزشتہ کی روداد ہم بہت شان سے بیان کرتے ہیں ، بیشک وہ اس قابل ہے بھی کہ شان سے بیان کی جائے۔ روایت ہے کہ ایک حدیث کی تصدیق کےلئے ہمارے اکابر و اسلاف نے اُس زمانے میں سفر کیا ہےجب صرف گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر طول طویل مسافت طے کرنا کسی صعوبت سے کم نہیں تھا مگر طلبِ علم کے سامنے وہ صعوبت بے معنیٰ تھی۔ ایسے واقعات ہماری تاریخ میں ایک دو نہیں بیشمار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے اُن اکابر و اسلاف پر اپنے دَر بھی کھول دِیے اور ایک ہم ہیں کہ صبح پیدا ہوئے اور شام سے پہلے ہی طلب یہ ہوتی ہے کہ دُنیا بھر میں ہم عالِم و فاضل تسلیم کر لیے جائیں مگر واضح رہے کہ ہماری یہ۔۔۔ دُنیا۔۔۔ وہاٹس ایپ سے شروع ہوکر فیس بک وغیرہ پر ختم ہوجاتی ہے۔ ان الیکٹرانک ذرائع ابلاغ پر Like اور Comments کاوہ سیلاب شروع ہوجاتا ہے کہ بس اللہ کی پناہ اور ہم اگر شاعر یا کسی طور قلمکار ہیں تو بس ہمارا دماغ ساتویں آسمان پر ہوتا ہے ۔
ایک شاعر حضرت نے فیس بک پر اپنے شعر کی اِمیج فائل سجا دِی اور پھر وہی ہوا کہ لائک اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو گیا، ہماری بد قسمتی کہیے کہ ہم نے بھی اسے دیکھا تو اس میں ایک لفظ مثلاً سماعت۔۔ س۔۔ سے نہیں بلکہ۔۔ص۔۔ سے لکھا ہوا تھا شاعر حضرت ہمارے شناسا تھے، ہم نے انھیں مطلع کیا کہ
’ برادر! توجہ فرمائیں، آپ کے شعر میں ’صماعت‘ شکوہ کررہی ہے کہ ہمارے ساتھ۔۔ زیادتی۔۔ کی گئی ہے۔؟۔۔۔
شاعرحضرت فوراً جواب دیتے ہیں :
’’ جناب میں فیس بک پر بہت دنوں سے اپنےاشعار لگا رہا ہوں، کبھی آپ نے کسی شعر پر داد دینے کی زحمت نہیں کی اور اب ۔۔۔!!‘‘ ۔۔۔
خیر ہم نے اس تجربے کی گرہ باندھ لی اور اب اُس استاد کی حکمت اختیار کی، جس استاد کی روداد یوں ہے کہ اُس سے کسی بھی قسم کی جب کسی مسئلے پر بحث چھڑتی تو وہ اس پر بڑی سنجیدگی اورمتانت سےجواب میں اپنی دلیل دیتا تھا اوراُس دلیل کو اپنے استاد کی کسی ۔۔ سند۔۔ سے مقابل کو مطمئن کر دیتا تھا۔ ایک دن اس کے بر عکس واقعہ ہوا کہ مقابل اُس کی ہر دلیل کو اپنی دلیل سے کاٹ رہا تھا۔۔۔ اور استاد نے اپنے استاد کے ہاں سے کوئی دلیل نہیں دِی۔۔۔ مختصر یہ کہ مقابل شخص فاتحانہ انداز سے مسکراتے ہوئے رُخصت ہوا۔۔۔ استاد۔۔ کے جو شاگرد وہاں موجود تھے اس واقعے پر حیرت زدہ تھے کہ آج اُستاد تو مات کھا گئے، یعنی اُستاد کو اپنے اُستاد کے ہاں کوئی دلیل ،کوئی سند نہیں ملی۔!!
اُستاد کی اِس شکست پر طلبہ مایوس ہی نہیں خجل بھی ہوئے، شا گردوں کی اس کیفیت کو اُستاد بغور دیکھ ہی نہیں رہا تھا بلکہ محسوس بھی کر رہا تھا۔ شاگرد
( اُستاد کی) مجلس سےاٹھنے ہی والے تھے کہ اُستاد نے کہا:
’’ سنو! میں آپ لوگوں کی کیفیت کو محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ اور اب جو آپ کو بتانے جارہا ہوں وہ بھی ایک سبق ہے اور سبق بھی ایسا کہ اس میں حکمت بھی ہے اور علم بھی، یہ جو شخص گیا ہے دراصل اس کی کٹ حجتی مجھ پر کھل گئی ،یہ اپنے آگے کسی کو کچھ سمجھتا ہی نہیں اور یہ کیفیت دراصل ایک شدید ۔۔۔ جہل۔۔۔ کی غماز ہے۔ ایسوں سے بحث کرنا اور کوئی معقول بات ان کو بتانا، میرے لیے اپنی عقل، علم اور وقت کا ضیاع ہوتا۔ آپ لوگوں نے دیکھا کہ مَیں اس کے ہر سوال کاجواب دے رہا تھا اور وہ میرےہر جواب کو محض ضد میں کاٹ رہا تھا ۔۔۔ میں عموماً ایسے مواقع پر اپنے اُستاد (مرحوم)کی کسی سند سے مقابل کو مطمئن کر تا رہا ہوں جس کے شاہد آپ لوگ بھی ہیں مگر میں نے آج ایسا نہیں کیا۔۔۔ جس کی ایک اہم وجہ ہے، اگر آپ وہ وجہ جاننا چاہیں تو میں بتا ؤں۔‘‘
شاگردوں نے بیک آواز کہا کہ ’ ہم ضرور جاننا چاہیں گے‘
تو اُستاد نے بتایا: ’’میرے اُستاد کی تصانیف کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اسے جو پڑھے اور غور کرے تو یقیناً وہ اپنے علم میں غیر معمولی نفع پائے گا۔مَیں نے آج اُس شخص کو اِس نفعِ عظیم سے محروم جانے دِیا کہ اگر میں اس کے جواب میں دلیل کے طور پر اپنے اُستاد مرحوم کے اقتباس سناتا تو یقیناً وہ اُستاد کی تصانیف کی طرف مائل ہوتا ،سو میں نے اس کے غرور کے سبب اس کے جہل کے ساتھ جانے دِیا۔۔۔عزیزو! یاد رکھو کہ جہل کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے جہل کو علم سمجھ کر اکثر ایک غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جو لوگ علم کے باوصف سَر کو خم رکھتے ہیں ان کے لیے علم خود اعزاز و اِکرام بن جاتا ہے تو علم ضرور حاصل کرو کہ وہ تم پر واجب ہے مگر اس علم کے ساتھ بسا اوقات جو۔۔ نفس۔۔ لگ جاتا ہے اس سے بچتے رہنا اور اس سےبچنے کا واحد عمل قدرت کےفضل کا اعتراف ہے اعتراف۔‘‘
اس وقت ہمیں منور آغا مجنوںؔ بھی یاد آئے جو بظاہر فلموں میں معمولی معمولی کردار ادا کرتے تھے ، فلم کے جو شائقین اس ضمن میں اچھی یادداشت رکھتے ہوں وہ کمال امروہی کی مشہورِ زمانہ فلم ’ پاکیزہ‘ کا وہ سین یاد کریں کہ نائیکہ(نادرہ) نواب صاحب کا ارسال کردہ تحفہ وصول کرتی ہے نائیکہ( نادرہ) کی طرف سےایک مکالمے کے جواب میں منور آغا مجنوںؔ،( میر انیس ؔکا) شہرہ آفاق مصرع’’ عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں‘‘ پڑھتے ہوئے، فرشی سلام کرتے ہیں۔ فلم میں مجنوںؔ، منور نہیں ہوسکے مگر اُن کا شعری کردار ہم جیسوں کے ذہن میں اب تک روشن ہے، مرحوم کا یہ قطعہ شاید ہی آپ بھول پائیں۔
ہم کو لاکھوں بُرے، بھلوں میں ملے
اور ہزاروں بھلے، بُروں میں ملے
جاہلوں میں نہیں ملے اِتنے
جتنے جاہل، پڑھے لکھوں میں ملے
جگر(مرادآبادی) نے تو جہل کی ایک تعریف ِ نو ہی دریافت کر لی تھی وہ کہہ گئے ہیں:
’ جہلِ خرد نےدِن یہ دِکھائے‘
بات طلبِ علم سے شروع ہوئی تھی، متلاشی ذہن و نگاہ رکھنے والوں کو کیچڑ میں بھی لعل و جواہِرمل جاتے ہیں ، وہاٹس ایپ پر کبھی کبھی ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوجاتا ہے کل جو کچھ ہم نے وہاٹس ایپ پرپڑھا، آج وہی اس کالم کی تحریک بن گیا ہے، ذرا گہری توجہ کی درخواست ہے۔:
’’۔۔۔ شاگردوں نے اُستاد سے پوچھا : سفسطہ / مغالطہ سے کیا مراد هے؟
استاد نے کہا:اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں:دو مرد میرے پاس آتے ہیں، ایک صاف ستھرا اور دوسرا گندا،میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں، اب آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا۔؟
شاگردوں نے کہا: گندا مرد۔۔۔اُستاد نے کہا:نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گاکیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں،اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
شاگردوں نے کہا: صاف آدمی۔۔۔اُستاد نے کہا:نہیں بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے، لہٰذا اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
شاگردوں نے بیک آواز کہا: گندا۔۔۔اُستاد نے کہا :نہیں،بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے،اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟۔۔۔
شاگردوں کا جواب تھا :۔۔۔دونوں۔۔۔
اُستاد نے کہا:نہیں کوئی نہیں، کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں،اب بتائیں کون نہائے گا؟
شاگردوں نے ایک لمحہ توقف کے بعد کہا:۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔اسی کے ساتھ کلاس میں ایک آواز اور گونجی:
سَر! آپ ہر بارالگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب دُرست معلوم ہوتا ہے، ہمیں دُرست جواب کیسے معلوم ہو۔۔۔؟
اُستاد نے کہا: سفسطہ اور مغالطہ یہی تو ہے،
عزیزو!آج کل اہم یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے؟۔۔اہم یہ ہے کہ میڈیا کس چیز کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔!۔۔۔اُمید ہے میڈیا کے چکروں (اُلٹ پھیر)کی سمجھ آ گئی ہو گی اوراگر آپ سمجھ گئے ہوں تو دوسروں کو بھی سمجھا دیں۔‘‘٭

SHARE

LEAVE A REPLY