کوشش ہی تو اہم ہے، سارہ قیوم

0
941

چند دن پہلے بچوں کی تربیت کے حوالے ایک پوسٹ پر جواب لکھا کہ ہم صرف کوشش اور دعا کر سکتے ہیں، قبول اللہ کرتا ہے۔ اس پر میری پیاری دوست نگہت نسیم نے بہت اچھی بات کہی کہ وہ کوشش ہی تو اہم ہے، دعا تو تمام ماں باپ کرتے ہیں، تو تم نے کیا کوشش کی ؟ اس سوال کے جواب میں کچھ باتیں ذاتی اور عمومی تجربے کے حوالے سے پیش خدمت ہیں۔

بچوں کی تربیت کو عرصے کے لحاظ سے دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ بچپن اور ٹین ایج۔ اگر آپ نے یہ دو ادوار کامیابی سے گزار لئے تو آگے کا رستہ آسان ہے۔ تو آئیے سب سے پہلے بچپن کی بات کرتے ہیں۔

چھوٹے بچوں کی دو بنیادی ضروریات ہیں: جسمانی اور جذباتی۔ کھانا کھلانے، نہلانے ، وقت پر سلانے سے لے کر انکے آپس کے جھگڑے نمٹانے تک ہر ضرورت کے لئے بچہ ماں پر انحصار کرتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ اصول ہیں جو بچوں کو معلوم ہونے چاہئیں۔

جسمانی اصول : physical rules

1۔ گھر اور باہر سب سے اہم چیز حفاظت ہے۔ بچوں کو بتائیں کہ وہ اہم ہیں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ آگ کے ساتھ کھیلنا، بجلی کی چیزوں کو ہاتھ لگانا، سیڑھیوں پر بھاگ کر چڑھنا، دھکم پیل، چیزیں پھینکنا یا گھمانا گھر کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور انکے نتائج اچھے نہیں۔

2۔ روز مرہ کے اصول : ہائی جین، دانت صاف کرنا، ٹوائیلٹ کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھونا، وقت پر سونا، باہر لازمی کھیلنا، ہوم ورک کرنا۔ یہ سب وہ اصول ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔جن بچوں کو ڈسپلن کا ایک سٹرکچر دیا جاتا ہے اور پھر خود انکو اسکی ذمہ داری دی جاتی ہے وہ زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں بہ نسبت ان بچوں کے جن کی مائیں ہر وقت ان پر چیختی چلاتی رہتی ہیں اور پھر بھی کوئی کام وقت پر نہیں ہونے پاتا۔ کھانا، پڑھائی اور کھیل کا ایک ٹائم ٹیبل بنا کر الماری پر لگا دیجیئے اور پھر اس پر کاربند ہو جائیے۔ یہاں یہ بات کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ دس سال کی عمر تک بچوں کے ساتھ سائے کی طرح رہیئے۔ جب آپ ساتھ کھیلیں گی، ساتھ پڑھیں گی اور ساتھ سوئیں گی تو ٹائم ٹیبل خود بخود چلے گا۔

جذباتی ضروریات: تمام ماں باپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن کیا وہ اسکا اظہار بھی کرتے ہیں؟ اکثر پیرنٹس کا خیال ہے کہ جب ہم بچوں کے لئے محنت کرتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں تو اس سے بڑھ کر محبت کا اظہار کیا ہو گیا ؟ درست ہے، میں اور آپ تو جانتے ہیں، کیا بچہ بھی جانتا ہے؟ بچے کو اس بات سے غرض نہیں کہ اسکی ماں نے تین گھنٹے کھڑے ہو کر اسکے لئے ایک زبردست کھانا بنایا ہے لیکن اسے یہ ضرور نظر آئے گا کہ جب وہ بھاگ کر ماں کی ٹانگوں سے لپٹا ہے تو تھکی ٹوٹی ماں نے پرے دھکیل دیا ہے کہ جان چھوڑو۔ اس سے بہتر ہے آمیلٹ بنائیں اور صدقے واری جا کر کھلائیں۔ بچوں سے محبت کا اظہار کریں اور انہیں ہر ایک سے محبت کرنا سکھائیں۔ اللہ سے اور اللہ کی تمام مخلوقات حتی کہ پیر کے نیچے آنے والے پتھر سے بھی۔ بچے سے محبت اور اسکی عزت کریں۔ یہی عزت پلٹ کر آپکے پاس آئے گی۔

ٹین ایج:

ٹین ایجرز کی ماں کو جسقدر صبر، تحمل اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے اتنی تو شاید بھرے پرے سسرال کی بہو کو بھی نہیں ہوتی۔ یہ وہ عمر ہے جب عموماً باپ کی عملداری بچے کی زندگی میں بڑھ جاتی ہے۔ باپ بچوں پر سختی کرتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کبھی بھی باپ اور بچے کے درمیان آنے کی کوشش نہ کریں۔ جہاں ماں اور باپ بچوں کے معاملے میں آپس میں اختلاف کرتے ہیں وہاں بچہ دونوں طرف لوپ ہول تلاش کرتا ہے اور کسی ایک بھی نہیں سنتا۔

بچے پر ذمہ داریاں ڈالیں۔ لڑکا ہو یا لڑکی، برتن کپڑے دھونے، صفائی کرنے اور بنیادی کھانا بنانے سے لے کر گاڑی کا ٹائر بدلنے تک بچوں سے ہر کام لیجئے۔ اپنی خدمت کرائیے۔ پاؤں دبوائیے، چائے بنوائیے۔ اور جب وہ یہ کریں تو دعا صرف دل میں نہ دیں۔ اپنی دعائیں انہیں بتائیں اور ان سے پوچھیں کہ وہ کیا دعا کرانا چاہتے ہیں۔ محبت میں بڑی طاقت ہے۔ جن بچوں کو انکے ماں باپ سے محبت کا اظہار نہیں ملتا، وہ اسے باہر تلاش کرتے ہیں۔ لڑکوں کے لئے ماں کی اور لڑکیوں کے لئے باپ کی محبت، اپروول اور قربت بہت ضروری ہے۔ انہیں گلے لگائیں، ماتھا چومیں اور دوستی رکھیں۔ انکے دل کی بات سنیں اور اپنے دل کی کہیں۔ انکی غلطیوں سے درگزر کریں۔ کام سیکھتے ہوئے جیسا بھی وہ کریں اسکی تعریف کریں اور ہمت بندھائیں۔ بچوں کو کتاب کی عادت ڈالیں۔ چھوٹی عمر سے خود پڑھ کر سنائیں اور پھر ہر ہفتے کتابیں خرید کر دیں۔ کتاب کی عادت ڈال دی تو ساری زندگی کے لئے ایک استاد اور رہنما فراہم کر دیا۔

بچوں کی تربیت نصیحت سے نہیں ہوتی۔ آپکے اپنے روئیے اور معاملات کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔ بچوں کو اور کچھ دیں نہ دیں اپنا ساتھ دیں۔ بچپن میں تھوڑی سختی بھی کریں اور سائے کی طرح ساتھ بھی رہیں۔ بڑے ہو جائیں تو مٹھی کھول دیں اور جب بیاہے جائیں تو انکی طرف سے کان اور زبان بند کر لیں۔ صرف آنکھیں کھلی رکھیں۔
یہ ہیں وہ کوششیں جو میں نے کیں اور انکا مثبت پھل پایا۔ ایک اور کام جو ہمیشہ کیا وہ یہ کہ صرف اپنے بچوں کے لئے دعا نہیں کی، سب کے بچوں کے لئے کی۔

اللہ سب کے بچوں کو اپنی امان میں رکھے اور انکے دین و دنیا کے لئے ہماری ہر دعا قبول فرمائے۔آمین۔

سارہ قیوم

SHARE

LEAVE A REPLY