اکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود کرتار پور راہداری پر بات چیت کا تیسرا دور کل (4 ستمبر کو) واہگہ-اٹاری سرحد پر ہوگا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا اور سارک ڈاکٹر محمد فیصل پاکستانی وفد کی سربراہی کریں گے۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ترجمان دفتر خارجہ بات چیت سے قبل اور بعد میں میڈیا کو بریفنگ بھی دیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 31 اگست کو پاکستان اور بھارتی وفود کے درمیان کرتار پور راہداری پر تکنیکی سطح کی بات چیت کا ایک دور ہوا تھا جس کی تصدیق ترجمان دفتر خارجہ نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ مذاکرات سرحد پر ‘زیرو پوائنٹ‘ کے معروف مقام پر منعقد ہوئے اور ’بات چیت میں اچھی پیش رفت ہوئی‘۔

تاہم اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارتی سکھ یاتریوں کے گردوارا کرتارپور صاحب آنے کے لیے ویزا فری راہداری کی تعمیر سے متعلق زیادہ تر ’تکنیکی امور‘ حل ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان متعدد مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ کرتار پور راہداری وعدے کے مطابق بابا گرو نانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہدای پر باقاعدہ بات چیت کا دوسرا دور 14 جولائی کو ہوا تھا۔

یہ دور بھی سو فیصد نتائج سامنے نہ لا سکا تھا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت پیش آگئی تھی تاہم ترجمان دفتر خارجہ نے 80 فیصد امور پر اتفاق رائے ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ کرتارپور صاحب نارووال سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر پاک-بھارت سرحد کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔

ہر سال نومبر میں پاکستان کے علاوہ بھارت سمیت پوری دنیا سے سکھ یاتری بابا گرو نانک صاحب کے جنم دن کے موقع پر یہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔
گزشتہ برس اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے اس تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے اور ان سے غیر رسمی گفتگو کی تھی۔

اس حوالے سے سدھو نے بتایا تھا کہ جب ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان گرو نانک صاحب کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق سوچ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان آرمی کے سربراہ اس ایک جملے میں انہیں وہ سب کچھ دے گئے جیسا کہ انہیں کائنات میں سب کچھ مل گیا ہو۔

بعد ازاں بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس میں شرکت کے لیے نوجوت سدھو پاکستان آئے تھے۔

پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم انہوں نے شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY