دوستو مدت سے دل سیاست و مذہب و فوج کی باہم نورا کُشتی سے بھر گیا تھا ۔ نوکری ہماری مسلسل نہیں رہتی ۔ اِدھر معاملہ یہ ہے کہ روزگار کے لیے کبھی کسی کے منت کش نہیں ہوئے ۔ ایک دو دوستوں سے کہا تھا ، وہ عوام سے ڈر گئے کہ ناطق تجھے ملازمت دیں گے تو ہمیں تھمارے دشمن جینے نہ دیں گے ۔ ہم نے کہا کوئی بات نہیں ، مولا علیؑ ہمارا سب سے بڑا معیشت دان ہے ۔ کچھ نہ سہی تو ہمیں راج گیری کا دھندہ آتا ہے ، ابھی کل ہی ایک کام ملا ہے ، اٹھارویں صدی کے مغل ڈیزائن کی ایک عمارت بنانی ہے ، اب روٹی وہیں سے کمانی ہے، اللہ نے ہُنر دیا ہے تو کام کرنے میں عار کاہے کی ۔ اب حاسد جو چاہیں کر لیں ، ہے عیب بڑا اُس میں جسے کچھ ہُنر آوے ۔
یہ تو ہوئی ایک بات ۔ اب سُنیے دوسری ۔
ایک تنظیم (امن و ادب ) کی بنیاد رکھ دی ہے ، اِس پر عمارت کے درودیوار ، گنبد و محراب ، طاق و ڈاٹ جلد اُٹھیں گے ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے ملتان اور بہاولپور کے عمدہ ادبی راج گیروں کو بلایا تھا ۔ کچھ ایک دو لاہور کے مستریوں کو بھی تخمینے کی دعوت دی تھی، سب نے مل بیٹھ کے سر جوڑے ، لاہور گلبرگ پارک لین ہوٹل میں دورروزہ مکالمہ ہوا ، امن اور ادب پر گفتگو کا سلسلہ چلا ، اسلام آباد سے ظفر سید کو بلایا ۔ اُنھوں نے ادب یعنی فکشن اور شاعری کے حوالے سے امن کا کھوج لگایا ۔ اُن کے مطابق ،شاعر اور فکشن رائٹر جس قدر بھی شرپسند ہو مسجدوں اور امام باڑوں میں خود کش حملے نہیں کرتا ، نہ مذہب اور سرمائے کو اپنا مائی باپ خیال کرتا ہے، اُس کے تیر تلوار کمان خنجر صرف محبوب کی آنکھ کے ارد گرد چلتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہے ۔ اُس کی تخلیق بھی اِسی امن کے حمل سے نکلتی ہے ۔ دو دن تک اِسی پر گفتگو تھی کہ پھولوں کا کاروبار کرنے والے باغ کو آگ نہیں لگاتے ، بلبلوں کے نغمے سُننے والے سُرمنڈل کے تار نہیں کاٹتے، رنگ بنانے والے راکھ نہیں اُڑاتے ۔ کیوں نہ ایسا ہو ادب کے شہسوار امن کی باگ زبردستی اپنے ہاتھ میں لے لیں ، ایسے لے لیں کہ سیاست ،مذہب اور سرمائے کا کاروبار کرنے والے آتشی ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔ کتاب کو عام کریں ، چھوٹے بچوں میں عام کریں ، لڑکوں میں عام کریں ،جوانوں میں عام کریں ۔ بڈھوں کا اللہ وارث ہے ۔ شعر اور افسانے کو لے کر چھوٹی چھوٹی بستیوں میں جائیں ، سستی کتابیں چھاپیں اور کوچہ و بازار میں فقط شاباش کے مول پھیلائیں ۔ یہ کام ہم نے لاہور سے اِس لیے آغاز نہیں کیا کہ یہاں بچوں کے دماغ ہینڈ رائڈر سکرینوں نے چاٹ لیے ہیں ۔ وہ کتاب کو چھونا توہین سمجھتے ہیں ۔ ہائے وہ زمانہ کہاں گیا جب لڑکوں کے ہاتھ میں شکیل عادل زادہ کا سب رنگ ہوتا تھا اور بچوں کے بستوں سے ابنِ صفی کا سلیبس بازیاب ہوتا تھا ۔ جنوبی پنجاب میں ہم نے قدم رکھ دیا ہے ، اُمید ہے وہاں کے دوست ہمارے ہم قدم ہوں گے ، ویسے بھی گھر کے پیر کی عزت دیارِ غیر میں ہوتی ہے ۔ ۔ ملتان سے ہماری حوصلہ افزائی ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے یوں کی کہ اِس بڑھاپے اور موٹاپے میں اُڑے چلے آئے اور شاگرد پیشہ کو اڑائے چلے لائے ، اور جاتے ہوئے نجیب جمال صاحب کو بازو دے گئے ۔ ۔ ڈاکٹر سعادت سعید صاحب ، آپ سے لڑائی آپ کے کھانے کی میز پر ہو گی ، بکرے کے گوشت کے ساتھ ۔ جتنے بھی دوستوں نے پہلی میٹنگ میں شرکت کی سب کے نام نہ لے سکوں گا ،تصویریں دے دیتا ہوں خود دیکھ لو کیسے ہمارے محبت کرنے والے یہاں وہاں یاقوت و مرجان مزاج دوست موجود ہیں ۔
دوستو اب اجازت دو کہ ابھی مجھے جس مغل طرز کی عمارت بنانے کا ٹھیکہ ملنے والا ہے ، اُس کا معاملہ طے کرنے کے لیے ایک بڑے زمیندار کے ہاں ایک چھوٹے شہر میں جانا ہے .

مَیں قتل ہو گیا اگر گلاب بیچتے ہوئے
صبا کو میرا حکم ہے گلوں کو پالتی رہے
علی اکبر ناطق

SHARE

LEAVE A REPLY