متحدہ عرب امارات میں پہلی یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کا منصوبہ

0
595

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کا کام اگلے برس شروع ہوگا اور یہ منصوبہ 2022ء تک تکمیل پائے گا۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق یہودی عبادت گاہ کی تعمیر ابوظہبی میں کی جا رہی ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک چرچ اور ایک مسجد بھی تعمیر کی جائے گی۔ رواں برس پاپائے روم کے جزیرہ نما عرب کے پہلے دورے کے موقع پر اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ابوظہبی حکومت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تمام ثقافتوں اور مذاہب کے لیے مکمل آزادی موجود ہے۔

یہ متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی پہلی باقاعدہ عبادت گاہ ہو گی، مگر اسے پہلے دبئی میں یہودیوں کی ایک بہت قلیل تعداد ایک نجی مکان کو اپنی عبادات کے لیے استعمال میں لاتی ہے۔ خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، تاہم متعدد اسرائیلی سیاست دان مختلف بین الاقوامی تقاریب میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY