سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کے بیٹوں نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤدکے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔
جسٹس مظاہرنقوی کےبیٹوں مرتضیٰ مظاہر نقوی اور مصطفیٰ مظاہر نقوی نے سول عدالت میں الگ الگ مقدمہ دائر کیا ہے۔
سول عدالت میں دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ میاں داؤد ہمیشہ عدلیہ کے خلاف مہم چلاتا ہے، میاں داؤد نے والدکے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکیا ہے، جس میں ہماری فیملی سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔
درخواست گزاران کا کہنا ہےکہ میاں داؤد نے ہماری فیملی کے خلاف ٹوئٹر اور فیس بک پر مواد شیئر کرکے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچایا، میاں داؤدکو سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانے سے منع کیا جائے اور میاں داؤد کے خلاف 30,30کروڑ ہرجانےکی ڈگریاں جاری کی جائیں۔
ایڈیشنل سیشن جج قمر عباس نے میاں داؤد کو 19اپریل کے لیے پیشی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف جائیدادوں سے متعلق ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔
ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنےکی استدعا کی گئی ہے۔
Published on: 12 Mar 2023
جسٹس مظاہر نقوی کے بیٹوں نے ریفرنس دائرکرنے والے وکیل کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔
سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس مظاہر نقوی کے بیٹوں تصدق مصطفیٰ نقوی اور تصدق مرتضیٰ نقوی نے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ میاں داؤد نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی ساکھ مجروح کی، پندرہ دن میں معافی نہ مانگنے اور الزامات واپس نہ لینے پر میاں داؤد قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔
واضح رہے کہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے جسٹس مظاہر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکیا تھا۔
…………….
پاکستان بار کونسل کی جانب سے بھی سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا گیا۔
شکایت پاکستان کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے دائر کی۔
کونسل نے کہا ہے کہ شکایت آئین کے آرٹیکل 209کے تحت دائر کی گئی ہے۔
پاکستان بارکونسل نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایت کی فوری تحقیقات کرنے کی استدعا کی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں۔












