واقعی بندہ خدا۔ نائب خدا بنتا ہے ۔یا ؟فائزہ عباس

0
934

قرآن کریم کا اہم ترین موضوع انسان ہے چونکہ کلام مجید کتاب ھدایت ہے اس لیے اس کا اہم ترین موضوع انسان ہے۔ ۔ ۔

اور پھر اس سے جڑے موضوع کہ مثلا. ۔ ۔
انسان کی زات کیا ہے ۔ ۔ ۔؟
اسکا ھدف خلقت کیا ہے ۔ ۔ ۔؟
اس تک پہنچنے کا راستہ اور وسائل کیا ہیں۔ ۔ ۔؟
کامیابی اور ناکامی انسان کی قرآن کی نگاہ میں کیا ہے ۔ ۔ ؟

انسان کے متعلق دو پہلو ہیں یا دو گروہ ایک گروہ جو کہ مادیت پہ یقین رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ انسان کی زات حیوانی ارتقا کی ایک شکل ہے ۔ ۔ ۔یا اسکی ایک جدید صورت ہے ۔ ۔ ۔اور انسان کا آغاز اسکی پیدائش اور انجام موت پہ آکر ختم ہے ۔ ۔ ۔
سو مادی پہلو سے لینے والوں کے اھداف زندگی، منزل اور راستے بھی پھر اسی مناسبت سے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔اور انکی علمی ، اخلاقی، عملی منزل کا ایک خاص دائرہ کار بھی اسی مناسبت سے ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

مگر قرآن کی نگاہ سے خلقت انسانی ۔ ۔ ۔ایک اہم ترین موضوع ہے کہ جسکے تحت انسان کو رب نے مٹی کے نچوڑ سے نکلے جوہر سے خلق کیا اور اس جسمانی پتلے میں جب روح پھونکی تو خلقت انسانی وجود میں آئ ۔ ۔ ۔

یعنی اس خلقت کے پیچھے رب کا ارادہ، اس کی حکمت ، علم اور بصیرت اور خاص ھدف شامل ہے کہ رب نے کچھ بھی بے مقصد خلق نہیں کیا ۔ ۔ ۔

قرآن کے مطابق انسان حیوان کی اتقائ شکل نہیں ہے بلکہ رب کریم نے اسے انسان ہی پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔لیکن اس مادی قانون کے مطابق ہرگز نہیں کہ جسکے تحت حیوانی مادے کی تبدیلیوں کے باعث انسان بنا ۔ ۔ ۔ بلکہ انسان کی مادی خلقت اور روحانی خلقت ایک خاص سانچے کے تحت ہوئ ہے جہاں رب نے انسان کو تمام مخلوقات کی جامع شکل ہے جسکے مطابق انسان میں وہ تمام خوبیاں رکھ دی ہیں کہ جنکی مدد سے انسان ملائکہ سے بھی افضل ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔

مثلا ۔ ۔ ۔ہمارے پاس دس گاڑیاں ہوں اور ہر گاڑی میں ایک خاص خصوصیت ہو اور پھر ایک گاڑی وہ ہو کہ جس میں تمام گاڑیوں کی خصوصیات موجود ہوں ۔ ۔ ۔

تو یہ خلقت انسانی کاشرف ہے کہ رب کریم نے تمام مخلوقات سے اشرف بنایا ہے
۔ ۔ ۔کہ وہ چاہے تو ملائکہ سے بھی بلند تر ہوسکتا ہے ۔ ۔ ۔اور یہ شرف ، و کرامت صرف رب نے انسان کو عطا فرمائ ۔ ۔ ۔” کہ فرمایا ہم نے بنی آدم کو شرف اور کرامت عطا کی ۔ ۔ ۔”

قرآن کیمطابق انسان حیوان کی اتقائ شکل نہیں ہے بلکہ رب کریم نے اسے انسان ہی پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔لیکن اس مادی قانون کے مطابق ہرگز نہیں کہ جسکے تحت حیوانی مادے کی تبدیلیوں کے باعث انسان بنا ۔ ۔ ۔ بلکہ انسان کی مادی خلقت اور روحانی خلقت ایک خاص سانچے کے تحت ہوئ ہے جہاں رب نے انسان کو تمام مخلوقات کی جامع شکل ہے جسکے مطابق انسان میں وہ تمام خوبیاں رکھ دی ہیں کہ جنکی مدد سے انسان ملائکہ سے بھی افضل ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔

شرف ۔ ۔ ۔یعنی برتری، تقدس، پاکیزگی ، فضیلت ، جامعیت ، یہ سب اس شرف کا حصہ ہیں ۔ ۔ ۔اور اشرف بھی شرف ہی کا حصہ ہے اور ۔ ۔ ۔
عربی میں اشرف برتری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔یعنی انسان اشرف یا شریف سلسلے سے جڑا ہے ۔ ۔ ۔

اور رب نے انسان کو زمین پہ ۔ ۔ ۔
” خلیفہ خدا یا نائب خدا بناکر بھیجا ہے ۔ ۔ ۔”

اب اگر انسان اس بات پہ سنجیدگی سے غور کرے تو اس کو اپنی قدر منزلت کا احساس ہو گا کہ ۔ ۔ ۔

رب کے نائب یا خلیفہ میں کیا خصوصیات ہونی چاہییں اور کون سی باتیں اس کی شایان شان ہر گزنہیں ہیں ۔ ۔ ۔

مگر انسان نے اپنی قیمت ہوس، جنس، دولت، پیٹ، شہرت اور رتبہ رکھی جبکہ رب نے اس کو اپنے نائب ہونے کا شرف دیا اور اسکی زات میں اسکے نائب ہونے کے تمام جواہر و کمالات رکھے حتی وہ وضو زمین پہ کرتا ہے اور ملائکہ اس کا گھر جنت میں تخلیق کرتے ہیں ۔ ۔ ۔اور ہر شے سے افضل رب کا عبد ہونے ۔ ۔ ۔ اسکے خلیفہ ہونے کی صلاحیت رکھی یعنی اس میں یہ طاقت رکھی کہ وہ دنیا پہ رہ کر اس رب کی محبت و عظمت کا مظہر بن سکے ۔ ۔ ۔

انسان جسمانی ، غیر جسمانی ہے اسکے وجود میں ایک فطرت اور دو رحجانات رکھے ہیں ۔ ۔ ۔

اب یہ انسان کے انتخاب پہ ہے کہ وہ اپنی قوت انتخاب کس انداز سے بروئے کار لا کر واقعی بندہ خدا ۔ ۔ ۔
نائب خدا بنتا ہے ۔ ۔ ۔یا کہ ایک گمشدہ انسان کی شکل میں دنیا سے چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔؟

فائزہ عباس۔ ۔ ۔

SHARE

LEAVE A REPLY