وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت

0
526

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی دوستوں کو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ’مذاکرات کا راستہ‘ کھلا رکھنے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عمران خان نے وزیراعظم آفس میں حکومتی ترجمانوں سے ملاقات میں یہ ہدایات دیں۔

اس معاملے پر جب وزیراعظم کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تجویز زیرغور ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے رابطہ بحال رکھا جائے اور انہیں ان کے مطالبے پورے کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ معاملے پر ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہیے‘۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں دھرنے سے نہیں روکا جائے گا تاہم اگر مظاہرین نے انتشار پھیلایا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان کا موقف واضح ہے کہ ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں‘۔

عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے مزید بتایا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی لائن پر عمل کررہے ہیں کیونکہ وہ اپنی بقا کی جدوجہد کررہے ہیں‘۔

علاوہ ازیں اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اس مرتبہ مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں اور دھرنے میں مدارس کے طلبہ کو استعمال کریں گے۔

دوسری جانب وفاق وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے تصدیق کی کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ہدف نہیں دیا۔

انہوں نے میڈیا پر نشر ہونے والی ان خبروں کی تردید کی کہ وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی تشکیل دے کر معاملہ سنبھالنے کا ٹاسک انہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں پنجاب یا خیبرپختونخوا میں گرفتار کرلیا جائے گا۔

دوسری جانب سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت جی یو آئی (ف) کی آزادی مارچ میں تعاون کرے گی۔

قبل ازیں اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ‘آزادی مارچ’ اب 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا جبکہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ ‘یوم سیاہ’ منایا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY