برطانوی پارلیمنٹ کا ایک بار پھر بریگزٹ معاہدے کے التوا کے حق میں ووٹ

0
596

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے برایگزٹ منصوبے کو ایک بار پھر دھچکا لگ گیا اور برطانوی قانون سازوں نے یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے کو ملتوی کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔

ووٹنگ کے نتیجے کے بعد برطانوی حکومت کے رواں ماہ کے آخر یورپی بلاک سے نکلے کے منصوبے کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بریگزٹ معاہدے کی توثیق کے لیے بلایا گیا تھا جس میں 322 قانون سازوں نے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی تک اس کے التوا کے حق میں ووٹ ڈالا، جبکہ مخالفت میں 306 ووٹ ڈالے گئے۔

برطانوی پارلیمنٹ سے معاہدے میں التوا کے ووٹ کے بعد بورس جانسن کو یورپی یونین سے نئے مذاکرات کرنے ہوں گے کیونکہ پارلیمنٹ قانون منظور کرکے وزیر اعظم کو اس کے لیے مجبور کر چکی ہے۔

تاہم حکومت اب بھی پرامید ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک ضروری قانون منظور کرالے گی تاکہ برطانیہ بروقت یورپی بلاک سے علیحدہ ہو سکے۔

معاہدے کے التوا کے لیے زیادہ ووٹ دیے جانے کے بعد بورس جانسن کا کہنا تھا کہ وہ اس نتیجے سے بد دل نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے حوصلے پست ہوئے ہیں، جبکہ وہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے لیے اگلے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY