سجدہ پروردگارِ عالم کے ساتھ تجدیدِ عہد ہے ۔ ۔ ۔ وہ عہد جو روزِ الست تمام مخلوقات نے کیا ہے ۔ ۔ ۔
سجدہ دراصل علامتی یا سیمبالِک عمل ہے ۔ ۔ ۔
1: سجدہ روزِ الست کے عہد کی تجدید کا تمام انسانی وجود سے علامتی اظہار کرنا ہے ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے ” دونوں ہاتھ زمین پر رکھنا ” : یعنی اس بات کی علامت ہے کہ میرا اپنا مکمل وجود اور اس سے جڑی ہر شے ، تیری ملکیت اور میرے پاس تیری امانت ہے ۔ ۔ ۔ ہاتھ رکھنا ہینڈ آپ یا ہینڈ ڈاؤں ، کا علامتی فعل ہے جو خالی پن ، محتاجی اور نیاز مندی ، فقیری اور جس کے سامنے ہاتھ رکھے جائیں ، اس کی رضا پر بحرحال راضی رہنے کی علامت ہے ۔ ۔ ۔
2: بعد از ہاتھوں کے ” گھٹنے رکھنا ” یعنی کہ میں اپنے وجود اور اس سے جڑی ہر شے جو میرے پاس تیری امانت تو ہے ، لیکن اس امانت کے استعمال میں بھی اپنی مکمل نیاز مندی اور تیری مطلق بے نیازی و قدرت مندی کا اظہار کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ اتنی قدرت و قوت بھی نہیں رکھتا کہ انہیں استعمال میں لاؤں ، چونکہ جو قوت اور علتِ حرکت ہے وہ بھی تیری ہی دستِ قدرت سے ہے ، تیری ہی ملکیت سے ہے اور تیرے ہی اِذن سے کار آمد ہوگا ۔ ۔ ۔
3: اس کے بعد اپنا سر رکھنا ، جو انسانی وجود کی عظمتوں کا محور و مرکز ہے ۔ ۔ ۔ سر ، کہ جس سے انسان کا اپنے آپ کے ” ہونے کے درک کرنے ” سے رابطہ قائم ہے ۔ ۔ ۔ تمام حواس سر ہی میں ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی کہ جو تیری ملکیت تو نے مجھے امانتََ دی ہے ، تو اگر دیکھوں گا بھی تیری ہی مرضی سے ، سُنوں گا بھی تیری ہی مرضی سے ، بولوں گا بھی تیری ہی مرضی سے ، اور اپنے فکر کی گہرائیوں میں رواں موجیں بھی تیری ہی حد میں رکھوں گا اور طغیانی و سرکشی نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ مختصراََ جو ملکیت تو نے بطورِ امانت دی ہے ، ان کا استعمال تیرے مقرر کردہ ہدفِ قربت و معرفت کیلئے ہی کروں گا اور بغیر اس کے ، جَو کے دانے کے برابر بھی کسی اور کام میں استعمال نہیں کروں گا جس سے تیرے مقرر کردہ ہدف سے راہ گم ہو اور رفتار کم ہو ۔ ۔ ۔ اور گردن جو کہ جھکی ہوئی ہے اس کو تیرے اَمر کیلئے کٹنے میں لحظہ بھی نہیں لینے دوں گا اور یہ ہر لمحہ بحرصورت حاضر ہے اور رہے گا ۔ ۔ ۔
4: پھر سبحان اللہ کا تذکرہ یعنی کہ میں جو تیرے سامنے تیرا ہی دیا ہوا وجود پیش کر رہا ہوں کہ دراصل تو ہر عیب و نقص سے پاکیزہ و مبرہ و منزہ ہے اور اس لائق ہے کہ تیرے سامنے یہ پیش کیا جائے ، تیرے سامنے زیر ہونے جھکنے تیرے لیے مرنے تجھے تلاشنے اور چاہنے اور تیری جستجو میں خاک ہونے میں کوئی ایسی رکاوٹ نہیں نظر آتی ہے اور کوئی وجہ نہیں ملتی ہے کہ میں یہ سب نہ کروں چونکہ تجھ میں کوئی عیب ہی نہیں ہے اور تو ہی لائقِ پرستش و عشق ہے چونکہ تجھ میں کوئی کم و نجاست نہیں ہے اور تو ہر مایوسی سے پاکیزہ ہے سو مجھے کوئی وجہ نہیں ملتی کہ تیرے سامنے نہ جھکوں ۔ ۔ ۔
انسان عبدِ خدا ہے ، یعنی کہ خدا کی مکمل ملکیت ہے ۔ ۔ ۔ اور اپنی عبودیت کا اظہار عبادت کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ سجدے میں عبودیت کے اظہار کے تمام تر لوازمات موجود ہیں ۔ ۔ ۔ اس لیے یہ عابدوں اور عارفوں کی معراج اور صالحین و صادقین اور اولیاء اللہ کی زینت ہے ۔ ۔ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
جسٹن سنو
انتخاب، فائزہ عباس













