ہندوستانی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنائی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد معروف سیاستدان اور وزیراعلیٰ جیارام جے للیتا چل بسیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جے للیتا نے اپنی آخری سانسیں رات ساڑھے 11 بجے لیں، جس کے بعد ان کے دل کی دھڑکن بند ہوگئی۔

قبل ازیں جے للیتا کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ہزاروں افراد کے جمع ہونے کے بعد ہسپتال کے باہر پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔

ریاست میں لوگوں کے لیے بھگوان کا درجہ رکھنی والی 68 سالہ سابق فلم اسٹار اور وزیراعلیٰ جیارام جے للیتا عارضہ قلب کے باعث چنائی کے اپولو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) وارڈ میں زیرعلاج تھیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز جے للیتا کی اینجیوپلاسٹی کی گئی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چنائی کے نجی ہسپتال اپولو میں وزیراعلیٰ جے للیتا کو داخل کرائے جانے کے بعد ہسپتال کے باہر جمع ہونے والے ہزاروں مداحوں نے جے للیتا کی صحت یابی کے لیے دعائیں کیں اور اشک بار ہوگئے۔

ہسپتال کے باہر اپنی اماں (جے للیتا) کے لیے دعائیں مانگنے والوں میں سے ایک مداح کا کہنا تھا کہ اماں کی زندگی کے لیے ان کی زندگی بھی لے لی جائے تو انہیں کوئی افسوس نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ جے للیتا رواں برس ستمبر سے صحت کی خرابی کی وجہ سے منظر سے غائب تھیں، چنائی کے نجی ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا اور ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ان کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق جے للیتا کی طبیعت میں خرابی کے بعد پولیس نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہسپتال کے باہر ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا جب کہ شہر کے کئی اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ جے للیتا کی جانب سے ریاست میں ’اماں کینٹین‘ کے نام سے غریب افراد کو 3 روپے میں کھانا فراہم کرنے والی اسکیم سے ووٹرز کے دلوں میں ان کے لیے عزت بڑھی۔

یاد رہے کہ 2014 میں وزیر اعلیٰ جے للیتا کو کرپشن الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ریاست تامل ناڈو میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے، جب کہ چند خودکشی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔

جے للیتا کی رہائی کے لیے تامل ناڈو کے سیکڑوں فلم ڈائریکٹرز، اداکاروں اور پروڈیوسرز نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للیتا کو خصوصی عدالت نے آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کا الزام ثابت ہونے پر 4 سال قید اور 100 کروڑ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

جے للیتا کے خلاف مقدمات بنانے اور سزا سنانے پر ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ان کی شہرت کو داغدار کرنے کی سیاسی چال ہے۔

جے للیتا کو جب گرفتار کیا گیا تھا تب وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر براجمان تھیں، بعد ازاں صحت کی خرابی کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ جے للیتا نے رواں برس صحت کی خرابی اور گرفتاری کے باعث اپنے اختیارات نائب وزیر اعلیٰ کو سونپ دیئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY