افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ جرمنی کے شہر میونخ میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملاقات میں افغان امن عمل کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تمام افغانوں سے گزارش ہے کہ 4 دہائیوں سے جاری جنگی فضا کو ختم کریں۔
امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ میونخ میں آج امریکی اہم قانون سازوں اور سینیٹرز سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس ملاقات میں تشدد کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور افغان طالبان 22 فروری سے تشدد میں کمی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت فریقین کی جانب سے افغانستان میں 7 دن تک پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار کرے گا، جس پر گزشتہ سال دونوں فریقوں کا اتفاق ہوا تھا۔
……………………
افغان امن عمل کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق زلمے خلیل زاد کی افغان حکام سے ملاقات کو نئی سیاسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔
واضح رہے کہ افغان امن عمل میں امریکا اور طالبان کے وفود کے مابین متعدد ملاقاتوں کے بعد معاہدے کے نکات کو حتمی شکل دی جاچکی تھی، تاہم محض معاہدے پر دستخط سے پہلے افغانستان میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر نے ٹوئٹر پر طالبان سے تمام مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
اس سلسلے میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی افغان صدر سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ امریکی صدر ایک مرتبہ پھر منسوخ کیے گئے مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
دوسری جانب زلمے خلیل زاد کی افغان دارالحکومت میں آمد کے بعد صدارتی انتخاب کے نتائج کے اعلان میں ایک ماہ کی تاخیر متوقع ہے، تاہم یہ طویل التوا سیاسی غیر یقینی اور فراڈ کے الزامات کو بڑھا سکتا ہے۔
ادھر افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صادقی نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد نے افغان صدر سے ملاقات میں ان کی حالیہ مصروفیات کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں امن کے لیے افغان حکومت کے کردار سے متعلق اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔
تمام معاملے پر افغان صدارتی دفتر کی جانب سے کہا گیا کہ ’زلمے خلیل زاد کا مقصد واضح تھا کہ اشرف غنی کو افغان امن عمل سے متعلق اپنی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے‘۔
علاوہ ازیں افغانستان کے سیاسی رہنما نے زلمے خلیل زاد کی کابل میں موجودگی کی تصدیق کی۔
نیشنل اسلاملک فرنٹ افغانستان کے رہنما سید حامد گیلانی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’انہوں نے زلمے خلیل زاد اور ان کی ٹیم سے ملاقات میں امن عمل اور صدارتی انتخاب سے متعلق تبادلہ خیال کیا‘۔
اس ضمن میں کابل میں امریکی سفارتخانے نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن حکام نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد کا اگلہ دورہ پاکستان کا ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں سینئر طالبان ذرائع نے بتایا کہ ’طالبان نے مذاکرات سے پسپائی اختیار نہیں کی، گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور اب اس کی مرضی ہے اسے جہاں چاہے لے جائے‘۔












