”اقتدار کے ایوانوں میں ٹک ٹاک اور ماڈل گرلز کی آزادانہ رسائی“

0
693

جتنی غیر ذمہ دارانہ ہماری موجودہ منتخب حکومت ثابت ہورہی ہے اس کے بارے اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اس حکومت نے بدنام زمانہ یحیی خان حکومت کو بھی مات دیدی ہے۔ ہر دن کا سورج ایک نئے سکنڈل کی نوید لیکرطلوع ہوتا ہے۔ ہر دن ہمارے لیے پریشانیوں میں اضافہ کرکے گزرجاتا ہے۔دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں اگر ایسے واقعات رونما ہوتے تو وہاں کے حکمران کب کے ایوان اقتدار سے رخصت ہوچکے ہوتے، لیکن ایک ہم ہیں کہ ہنسی مذاق میں بات کو ٹال دیتے ہیں۔
ابھی ہم وزارت خارجہ کے اہم میٹنگ روم میں ٹک ٹاک گرل حریم شاہ میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی وڈیو سے پریشان تھے اور مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت تحقیقات کروائے کہ ٹک ٹاک ماڈل کس طرح وہاں تک رسائی پانے میں کامیاب ہوئی۔ ایک اور ماڈل کے وزیراعظم آفس میں گھسنے کے چرچے زبان زد عام ہیں۔ اس حوالے سے ایک دوست اظہر سموں بات ہوئی تو اس نے جواب میں کہا کہ” بھائی عورت ابن آدم کو آسانی سے کچھ بھی منوا سکتی ہے کیونکہ یہ ابا آدم کی سنت ہے،ان کے پیچھے جنت چھوڑنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں نوکری کیا چیز ہے؟ آفس میں پہچنا کون سی بڑی بات ہے کون کافر ایسے حسینوں کو منع کرسکتا ہے۔۔ سیکورٹی اہلکار ہوں یا افسر۔۔بس خوبصورت ہونا شرط ہے”
وزیراعظم آفس اور ہمارے وزراء تک ماڈلز کی باآسانی دسترس نے سنجیدہ سوالات پیدا کردیئے ہیں.۔ہمیں اس نئی ماڈل کے وزیراعظم آفس میں سرگرمیوں بارے علم سوشل میڈیا پر ایکٹیو دوست علی حسن کھوکھرکے ذریعہ ہوا. علی حسن کھوکھر لکھتے ہیں کہ”ہم ابھی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے پیچھے تھے کہ یہ وزارت خارجہ کے اہم ترین میٹنگ روم تک
کیسے پہنچی اور ابھی ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائے تھے کہ ادھر ایک اور ماڈل گرل کے وزیراعظم آفس میں گھسنے کے چرچے زبان زد عام ہوکر ہمارے لیے رسوائی کا سامان کرگئی۔ یہ ماڈل کون ہے اور یہ وزیر اعظم آفس کیسے پہنچ پائی ہے۔ یہ بھی ابھی تک راز ہی راز ہے، مجھے (علی حسن کھوکھرکو) وزیر اعظم عمران احمد خاں نیازی کی ذاتی زندگی سے کچھ نہیں لینا دینا۔ بات وزیر اعظم کے اس آفس کی ہے جسے وزیر اعظم کا آفس کہا جاتا ہے اورجس میں اہم فائلیں ٹیبل پر ہوتی ہیں۔ سی پیک سے متعلق، کلبھوشن کی فائلیں۔ پاکستان کے دفاع سے متعلق کاغذات، چیرمین نیب سمیت سب چیزیں آپکے سامنے ہیں کہ کتنی آسانی سے انہیں انگلیوں پہ نچایا جا سکتا ہے۔”سوشل میڈیا پر وزیراعظم آفس اور وزارت خارجہ کے اہم کانفرنس روم کے محفوظ ہاتھوں میں ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے ایک صارف جمال بابر لکھتے ہیں کہ ”اہم فائلیں۔۔۔او بھاء پاکستان گند کا ٹوکرا ہے، پی ایم ہاوس میں کوء اہم فائل نہیں ہوتیں۔اگر یہ جگہ اتنی اہم ہوتی تو ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ کھبی بھی عمران خاں کو یہاں نہ بٹھاتے”سوچنے کی بات ہے کہ ہر ایری غیری ماڈل اتنے اہم مقامات تک کیسے پہنچ جاتی ہیں؟
ایک صارف محسن آرائیں لکھتے ہیں کہ ”یہ ایجنسیوں کی ہی کارستانی ہے اگلے پرائیڈ آف پرفارمنس کی پریکٹس کرنے آئی ہے” عطا محمد کا خیال ہے کہ ” جنرل رانی جیسا دور پھر شروع ہو چکا” اللہ نہ کرے کہ جنرل یحیی خان اینڈ کمپنی کا دور واپس آئے کیونکہ اس دور میں پاکستان کو بہت گہرے گھاؤ لگے تھے پاکستان دولخت کردیا گیا. ہماری بہادر افواج کو دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑے تھے۔اب پھر ہمارے اقتدار کے اہم مراکز پر ماڈلز کی حکمرانی ہوگئی تو ہمارے لیے خطرات ہی خطرات ہوں گے. حریم شاہ ہو یا صندل خٹک ہو اتنی آزادی قومی سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔
حکومت کے سربراہ کے ناطے ہم وزیر اعظم عمران خاں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو اپنی پہلی فرصت میں نوٹس میں لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بااثر سے بااثر ماڈلز سمیت کسی غیر متعلقہ فرد کو اقتدار کے مراکز تک رسائی نہ فراہم کی جائے۔اس قسم کے سکنڈلز سے نہ صرف حکومت کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ وطن عزیز کے لیے بھی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
انور عباس انور

SHARE

LEAVE A REPLY