مارچ23سنگِ میل تھا منزل نہیں تھی۔ ۔۔شمس جیلانی

0
1129

بہت سے لوگ آج بھی اعتراض کرتے ہیں اوراس وقت بھی کیا تھا جبکہ قائدَاعظم ؒ نے اپنابٹوہ دکھافرمایا تھاکہ کہ“ اگر مجھے اس کے برابر بھی پاکستان ملتا تو میں قبول کرلیتا “ کیوں اس کی دووجوہات تھیں ایک تو یہ تھی کہ انہوں نے یہ قول دیدیا تھا کہ سائیمن کمیشن جو بھی فیصلہ کریگا مجھے منظور ہوگا۔ کیونکہ حضور (ص) کے ارشادات کے مطابق “مسلمان جھوٹا اور بد عہد نہیں ہوسکتا۔“دوسری وجہ وہ دور اندیشی تھی کہ جو مل رہا تھا وہ بھی نہیں ملتا، کیونکہ انگریزوں نے ایک تاریخ مقرر کردی تھی کہ ہم اس کے بعد ہندوستان سے چلے جائیں گے۔ تم پاکستان لو یانہ لو؟ اگر قائد اعظم پاکستان نہ لیتے تو جن لوگوں سے واسطہ پڑنا تھا وہ ، وہ لوگ تھے جن کے نزدیک عہد و پیمان کی کوئی اہمیت نہ تھی اگر ہوتی تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ کیونکہ سب باتیں طے ہوچکی تھیں جو کبینٹ مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس درمیان میں پڑ کر طے کرادی تھیں۔ جس کوکہ نہرو نے کانگریس کا صدر ہوتےہی یہ کہہ کرختم کردیا کہ“ کس کا معاہدہ اور کیسا معاہدہ یہ تو ہماری آنے پارلیمنٹ فیصلہ کریگی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگاً “ بظاہر تو یہ بہت ہی جمہوری بات تھی۔ مگر اس میں اس کہاوت کے مصداق کہ“ پوت کے پیر پالنے میں نظر آجاتے ہیں “ ۔ وہی ہوتا ! جہاں سے جھگڑے چھوڑ کر انگریز گئے اورا بتک ہورہا ہے۔ جیسے فلسطین کے مسلمان ،برما کے مسلمان کہ وہ ایک علاقے میں اکثریت بھی رکھتے تھے حکومت بھی رکھتے تھے مگر آج تک انہیں چین نصیب نہیں ہوسکا۔ دانشمندی کاتقاضہ یہ تھا کہ جو کچھ مل رہا وہ لے لیا جائے؟ ایک آزاد مملکت قائم ہوجائے ،باقی پھر دیکھا جائے گا۔ وہی انہوں نے کیا کہ جو ملا وہ لے لیا۔کیونکہ ان کے سامنے حضور(ص) کا وہ ا سوہ حسنہ بھی تھاکہ حضور (ص)نے مدینہ جیسے چھوٹے قصبہ سے پہلے بارہ، پھر بہتر آدمیوں کی مختصر تعداد کو اللہ کی نصرت کے بھروسے پر کافی سمجھا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ پر بھرسہ کرکے ا نہوں نے بھی وہ روش اختیار کی جس طرح حضور (ص) نے اللہ کی نصرت کی امید واثق رکھتے ہوئے یہ چھوٹا سا تکڑالے لیا اور پاکستاں بن گیا۔قوم متحد تھی لہذا نہیں یقین تھا کہ پاکستان کے ساتھ بھی اللہ کی نصرت شامل رہے گی۔ اور ابتدا میں رہی بھی، اتنے نا مساعد حالات کے باوجود ملک تیزی سے ترقی کرتا چلاگیا۔ اسے وہ ا ہمیت عطا فرمادی کہ ساری دنیا اس کی طرف جھکنے کے لیے مجبور ہوگئی اور وہ ا یٹمی طاقت اور دنیا کی ایک بہت بڑی اور منظم فوج کا حامل بن گیا۔ پھرکیاہوا!کیونکہ قوم نے وعدہ کیا تھا اور گڑگڑا کر دعا مانگی تھی کہ اگر تو ہمیں دوبارہ ایک خطہ زمین عطا فرما دے تو ہم تیرے نام اور دین کو بلند کریں گے۔ مگر اس پر عمل کرنے کہ وعدے سے قوم پھر گئی۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے؟ کہ سب کچھ رکھتے ہوئے ہم پستی سے پستی کی طرف جاتے گئے ۔ وہ ہمارا قومی اتحاد اورا سلامی اخلاق قصہِ پارینہ ہو گیاہے۔ اب مسلمان تاریخ کی کتابوں میں تو پایا جا تا ہے۔ مگر مثا ل کے طور پر کوئی ایک فرد یا ملک ہم دکھا سکیں کہ مسلمان ایسا ہوتا ہے اور اسلامی ریاست ہوتی ہے، وہ دنیا میں کہیں عام طور پرموجود نہیں ہے، جو تھوڑے بہت ہیں بھی وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔ اس کی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمارے بدترین لوگ بطور عذاب ہم پر اپنی سنت کے مطابق مسلط کردیئے ہیں، جن کا ڈراوا ہمارے لئے پہلے ہی قرآن میں متعدد جگہ آچکا ہے۔ اور احادیث میں بھی موجود ہے۔ جس کالب لباب یہ ہے کہ“ جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تم پر حکمراں مقرر کیئے جائیں گے “ یہ بھی اس کی رحمت اور سنت ہے۔کہ تھوڑا شکنجہ کس کے بار بار مہلت دیتا رہتا ہے کہ کسی کے دل میں رتی برابر ایمان کی رمق ہو تو وہ تائب ہوجائے۔ اس ملک کو بھی بار بار یہ موقع دیا گیاکہ شاید اب یہ اپنے وعدے پر واپس آجائیں، اورتب یہ اپنے وعدے پر واپس آجائیں۔ آجکل جو دور چل رہاہے اسی نے کچھ اچھے لوگوں کا مجمو عہ اس برے وقت میں ہمیں میسر کر دیا ہے اور ہمیں میں سے کچھ اچھے لوگ فراہم کردیئے ہیں جو انسانی عقل کے لیے تو نامکن تھا کہ کہاں سے آئیں گے۔ مگر اس کے لیئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ اوریہ اسی لیے ہے کہ شاید ہم من حیثیت القوم سدھر کر تائب جائیں۔ اگر اب بھی نہیں سدھر ے تو اس کے ڈراوے بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اللہ اس قوم کو توفیق دے کہ حق کو حق کہہ سکے اور خود کو قومِ حضرت یونس(ع) کی قوم کی طرح برے ا نجام سے بچا لے ۔( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY