ہم نے ہمیشہ اپنے بزرگوں سے سنا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق خیرات کا ایک سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ ایک ھاتھ سے دیجئے تو دوسرے ھاتھ کو پتہ نہ چلنے پائے، اب ظاہر ہے عملا ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ، مگر اس کا مقصد محض حد درجہ احتیاط اور نمود و نمائش سے پر ہیز ہے

سچ پوچھئے تو اس قسم کی احتیاط کا عملی مظاہرہ میں نے یہاں برطانیہ میں دیکھا، یہاں لوگ اپنا قیمتی سامان، اپنے ملبوسات بہت خاموشی سے چیرٹی کی دکانوں پر پہنچا دیتے ہیں، جہا ں انتہائی سستے داموں فروخت کر دئیے جا تے ہیں، جو بہت قلیل آمدنی والے بھی خرید سکتے ہیں سامان کہاں سے آیا ، کس نے خریدا، کسی کو علم ہی نہیں ہوتا۔

خیرات کا یہ بنیادی رکن پاکستان کے ایک نجی ٹی وی پر ایک مارننگ شو میں شادی آسان بناؤ پروگرام دیکھتے ہوئے مسلسل میرے ذہن کا طواف کرتا رہا۔

اس مارننگ شو میں لوگوں کے شادی کے پرانے ملبوسات سے ان بچے اور بچیوں کی شادیاں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو مالی مجبوریوں کے باعث خود اپنے لئے شادیوں کے نمائشی لوازمات کا بندوبست نہں کرسکتے۔

جہاں تک کسی کی مدد کا جذبہ ہے، انتہائی قابل تعریف اور مذہب انسانیت کی روح کا آئئینہ دار ہے۔

پروگرام کے دوران اینکر نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے اپنے لباس دئیے۔ مثلا دولہا کی شیروانی کس نے دی ہے۔ یا لڑکی کا جوڑا کس نے دیا، زیور کہاں سے آیا۔

چلئے یہاں تک بھی ٹھیک ہے،مگر دولہا کو کھڑا کرکے یا دلہن پر کیمرہ فوکس کرکے یہ بتانا کہ اس کا زیور کس نے دیا ہے، یا اس نے کس کا پرانا جوڑا پہن رکھا ہے،

مجھے یہ دیکھتے ہو ئے یقین کئجیے تکلیف ہو رہی تھی، یہ چیرٹی نہیں دکھا وے اور نمائش کے زمرے میں آتا ہے۔

خیرات کے جذبے کے ساتھ ساتھ خیرات لینے والے کی عزت نفس کا بھی خیال رکھنا بھی ایک لازمی شرط ہے ۔ جتا جتا کر دینا ، لینے والوں کو سب کے سامنے بیٹھا کر ان کی غربت کا بار بار ذکر کرنا، یہ کونسی سخاوت ہے۔ نہ جانے کیوں ہم لوگ اس احساس سے عاری ہیں کہ اس طرح کی نمائش خیرات عطا کرنے والے میں احساس برتری اور لینے والے میں احساس کمتری کا سبب بنتی ہے۔

مجھے پروگرام کے پیش کاروں کی نیت پر کوئی شبہ نہں ہے۔

تاہم کئُی سوال مجھے مسلسل الجھائے ہوئے ہیں، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ لوگوں کو حسب استطاعت سادہ کپڑوں میں شادی کی ترغیب دی جائے ۔

دلہن کے لئے سب کے سامنے کسی کا پرانا ڈیزائنر کا تیار شدہ بھاری لباس زیب تن کرنا زیادہ ضروری ہے، یا عزت نفس کے ساتھ سادہ کپڑوں میں رخصت ہونا۔

اس کی حوصلہ افزائی کیوں نہ کی جائے کہ اپنی نئی زندگی کا آغاز اپنی جائز آمدن اور دستیاب وسائل سے کیا جائے؟

سادگی میں اپنا ایک حسن ہوتا ہے کیا ایسی روایات اب ماضی کا حصہ ہو کر رہ جائیں گی ؟

مگر میرے لئے اس سے بھی زیادہ افسوس ناک یہ تھا کہ چینلز کی جانب سے اس تمام تزک و اہتمام پر خاندانوں نے اظہار خوشی کیا، وہ کسی بھی قسم کے احساس ندامت یا محرومی سے عاری تھے۔

تو کیا اب ہمارے بہن بھائی اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنا بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ یا زندگی کی تلخیوں’ معاشی نا ہمواریوں اپنی محرومیوں سے اتنا اکتاچکے ہیں کہ مستعار لی گئی خوشیوں پر بھی مطمئن ہیں ۔

اور سب سے اہم سوال یہ کہ ہمارا میڈیا اپنے پروگراموں کی خاطر لوگوں کو کس سمت میں لے جا رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY