طارق بٹ۔ مینوں نوٹ وکھا تیرا ووٹ بنے

0
1154

صاحبو پیارے پاکستان کے دبنگ سیاستدان چودھری نثار علی خان پھر بولے اور ایسا بولے کہ ہر ایک کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا باقی باتوں کو رکھئے ایک طرف جو انہوں نے بڑے دکھ سے ارشاد فرمایا کہ کوئی مجھے بتائے تو سہی کہ مسلم لیگ نواز کی قیادت کا بیانیہ ہے کیا تو فی الحال صرف اسی پہ بات کر لیتے ہیں ۔ صاحبو نواز شریف کی نااہلی کے بعد ووٹ کو عزت دینے کے حوالے سے جو مہم انہوں نے شہر شہر شروع کر رکھی ہے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا اسی کو ان کا بیانیہ قرار دے رہا ہے اور اب تو ووٹ کو عزت دو کو نواز شریف نے آئیندہ الیکشن میں اپنے منشور کا بنیادی جز بھی قرار دینے کا اعلان کر دیا ہے ووٹ کو عزت وہ کن طاقتوں سے دلوانا چاہتے ہیں یہ عام عوام کو بھی اچھی طرح معلوم اسی لئے تو وہ ان کے جلسوں میں جوق در جوق شرکت کر رہے ہیں نہ صرف شرکت کر رہے ہیں بلکہ نواز شریف کے بیانیے پر ان کا ساتھ دینے کا عہد بھی کر رہے ہیں اب نہیں معلوم کہ جب عام عوام کو نواز شریف کا بیانیہ سمجھ میں آ رہا ہے تو انتہائی زیرک سیاستدان چودھری نثار علی خان کے پلے کیوں نہیں پڑ رہا کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بیانیے کے بعد مزید آگے بڑھتے ہیں تو محترم نثار علی خان کا فرمان سامنے آتا کہ میرا موقف ہے کہ فوج اور عدلیہ کے ساتھ مخالفت درست نہیں بالکل ٹھیک کوئی بھی ذی شعور پاکستانی آپ کے اس موقف سے اختلاف نہیں کر سکتا یہ دونوں ادارے ہمارے اپنے ہیں اور انتہائی قابل احترام بھی مگر یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ آہین پاکستان نے ہر ادارے کے لئے کچھ حدود کا تعین کر رکھا ہے اس لئے ہر قابل احترام ادارے کو اپنی اپنی حد کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہو گا یہی نواز شریف کی بھی خواہش ہے اب آپ ہی بتائیےکہ اس میں غلط کیا ہے ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرما تے ہوئے ارشاد فرمائیےکہ سینٹ کے انتخابات سے پہلے بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کا بے ڈھنگے انداز سے خاتمہ ایم کیو ایم کے اندر گروپ بندی اور پھر وسیع پیمانے پر ووٹوں کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ زور اور طاقت کا استعمال کیا اپنی حد سے تجاوز نہیں ہے یہ صرف میں نے کہہ رہا اب تو یہ سب زبان زد عام ہے اسی پر بس نہیں عدالت عظمی میں محترم ججوں کی تعداد سترہ ہے مگر نواز شریف کے تمام کیس گھوم پھر کے انہی سات محترم ججوں کی عدالتوں میں کیوں لگائے جا رہے ہیں اس حوالے سے بھی کبھی آپ نے غور فرمانے کی کوشش کی ۔دیگر ججوں کے پاس صرف ایک کیس گیا حدیبیہ والا آپ کو یاد ہوگا کہ وہ کیس آج بن میں پڑا ہے کیسے اٹھا کہ اسے محترم ججوں نے بن میں پھینک دیا ۔ چودھری نثار علی خان مزید فرما تے ہیں کہ انصاف انہی عدالتوں سے ملنا ہے اور ریلیف بھی۔ صاحبو میں نے تو نواز شریف کی زبان سے کبھی نہیں سنا کہ انہیں ریلیف چاہیے ہاں وہ اپنے لئے انصاف کے طلبگار ضرور ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ یہ ہر پاکستانی کا حق ہے ۔

اب تھوڑی سی بات ہو جائے چودھری نثار علی خان کے آئیندہ الیکشن کے حوالے سے کہ آپ نے فرمایا مئی میں فیصلہ کروں گا کہ ایک حلقے سے الیکشن میں حصہ لینا ہے یا دو سے ، جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لوں گا یا آزاد ۔ تو اس حوالے سے گزارش ہے کہ میری ناقص معلومات کے مطابق PP10 سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کا تو جناب فیصلہ کر چکے باقی رہی قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے حصہ لینے کی بات تو مجبورا آپ کو دونوں حلقوں سے الیکشن میں حصہ لینا پڑے گا کیونکہ اس وقت تک جو گراونڈ پہ صورت حال ہے وہ آپ کے حق میں سازگار نہیں اگر ہوتی تو اب تک جناب اعلان فرما چکے ہوتے ۔ نئی حلقہ بندیوں نے دیگر امیدواروں کی طرح جناب کو بھی کافی ذہنی کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے خصوصا روات سے کلر سیداں تک کے علاقے کی آپ کے حلقے سے علیحدگی نے آپ کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے کہ اس علاقے میں آپ کا اثر و رسوخ سر چڑھ کے بولتا تھا مگر موجودہ صورت حال میں کافی تبدیلی آ گئی ہے جو کم از کم آپ کے تو حق میں نہیں ہے ۔

تو صاحبو نئی حلقہ بندیوں کے مسائل اپنی جگہ مگر عدالت کے احکامات پر عمل درآمد لازم ہوتا ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو معاشرہ اور معاشرت باقی نہیں رہتے جنگل بن جاتا ہے اسی لئے حکومت وقت نے عدالت عظمی کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک میں مردم شماری کا ڈول ڈال دیا اس وقت نہ تو عدالت عظمی کے محترم ججوں اور نہ ہی حکومت وقت نے یہ سوچا کہ مردم شماری کے بعد آئیندہ انتخابات اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک نئی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیاں نہ ہو جائیں کہ یہ آئینی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی ۔ مردم شماری کے بعد محکمہ شماریات کی جانب سے جو غیر حتمی نتائج سامنے آئے ان پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے شروع ہو گئے کچھ جماعتوں نے تو سرے سے نتائج تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا ۔

طویل سوچ و بچار کے بعد حکومت وقت نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ مردم شماری کے حتمی نتائج مئی 2018 سے پہلے تیار نہیں ہو سکتے اگر حتمی نتائج کا انتظار کرتے رہے تو انتخابات اپنے وقت مقررہ پر کروانا ممکن نہیں ہو گا اس لئے کہ اس کے بعد نئی حلقہ بندیاں لازم ہوں گی جن کے لئے مزید چھ ماہ کا وقت درکار ہو گا اس لئے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے یہ ممکن بنایا جائے کہ ایک بار غیر حتمی مردم شماری نتائج پر نئی حلقہ بندیاں کر لی جائیں اور ان کی بنیاد پر بر وقت انتخابات کروا لئے جائیں قومی اسمبلی کی نشستیں جوں کی توں برقرار رکھنا طے ہوا اس کے لئے پنجاب کو اپنی سات جنرل اور دو مخصوص قومی اسمبلی کی نشستوں کی قربانی دینی پڑی جبکہ خیبر پختون خوا کی چار بلوچستان کی دو اور اسلام آباد کی ایک قومی اسمبلی کی نشست کا اضافہ ہو گیا اس کے بعد لازم تھا کہ نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔

نئی حلقہ بندیوں کا یہ عمل شروع ہوا اور بالآخر اختتام پذیر بھی ہو گیا مگر الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں کرتے ہوئے جو کمال دکھایا اس نے حکومتی اور اپوزیشن کے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو شدید ترین آزمائش میں ڈال دیا۔ آج آپ پورے پاکستان میں کسی بھی حلقے میں کسی بھی جماعت کے کسی بھی امیدوار سے اس کے حلقے کے بارے میں پوچھ لیں جواب یہی ملے گا یار کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا یہ ہو کیا گیا ہے اور میں الیکشن میں کیسے حصہ لوں گا جن علاقوں میں میں نے کروڑوں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے وہ تو میرے ساتھ رہے نہیں اتنے عرصے میں بڑی مشکل سے اپنے حلقہ انتخاب میں اپنی جگہ بنائی تھی مختلف اثرورسوخ والے دھڑوں کو اپنا ہمنوا بنایا تھا ۔ حلقے میں جوڑ توڑ کے ماہرین کو ان کے مختلف مفادات پورے کر کے انہیں اپنے ساتھ شامل کیا تھا پھر ان جوڑ توڑ کے ماہرین کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مخالفت جماعتوں کے کیمپ میں نقب لگائی اور ان کے کیمپ کو کمزور کر کے اپنے کیمپ کو مضبوط سے مضبوط تر کیا ۔ کیا سمجھتے ہو صاحب یہ سب آسانی سے ہو گیا نہیں ہر گز نہیں اس کے پیچھے میری برسوں کی محنت ہے تمہیں کیا پتا صاحب میں نے ووٹ کے حصول کے لئے کس کس لینڈ مافیا، قبضہ مافیا، ٹھیکیدار مافیا ، تھانہ اور کچہری مافیا کی سرپرستی نہیں کی ۔ پورے حلقے کی کونسی ایسی گندی نالی اور گلی نہیں ہو گی جہاں سے میرا گذر نہیں ہوا اور تو اور مجبورا مجھے ٹوٹے پھوٹے اور انتہائی بدبودار گھروں میں ووٹ مانگنے جانا پڑا اور وہاں بدبو سے پھٹتے دماغ کے باوجود اپنے چہرے پر مسکراہٹ لانی پڑی ۔مگر کیا فائدہ ہوا سالوں کی محنت سیکنڈوں میں ضائع ہو گئی نئی حلقہ بندیوں نے میرا ناس نہیں سوا ستیا ناس مار کے رکھ دیا ہے ۔

دوسری طرف لینڈ مافیا، قبضہ مافیا، ٹھیکیدار مافیا، تھانہ اور کچہری مافیا نئی حلقہ بندیوں سے بہت خوش ہے وہ اپنے دھڑوں کو مزید مضبوط کرنے میں جت گیا ہے بلکہ دوسرے دھڑوں اور گروپوں کو اپنے گروپ میں شامل کر کے اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے ان تمام مافیا گروپوں سے پوچھئے کہ تمہارے سرپرست کا سایہ تو اب تمہارے سر پر رہا نہیں اس لئے اب تمہارا کیا ہو گا تو جواب ملتا ہے موجاں ہی موجاں ۔ پھر سوال کیجئے کہ وہ کیسے؟ جواب ملے گا جانے والا پرانا ہو گیا تھا اب اس کے ووٹر کے ساتھ براہ راست تعلقات بھی بن گئے تھے اس لئے ہماری اہمیت کم ہو گئی تھی مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد نئے امیدوار ہوں گے نہ گاوں کا پتا نہ ہی کسی محلے اور گلی کا ۔ ہم دھڑے اور گروپ ان کی مجبوری ہوں گے اس لئے جو بھی ووٹ مانگنے آئے گا ہمارا جواب ہو گا ۔ مینوں نوٹ وکھا تیرا ووٹ بنے

SHARE

LEAVE A REPLY