طارق بٹ…چودھری نثار پھر بولے

0
853

پاک وطن میں جب سے نیوز چینلز جنگلی جھاڑیوں کی طرح اگنے شروع ہوئے تب سے سیاسی میدان میں مسلسل آگ کے الاو جلتے رہتے ہیں غیر تربیت یافتہ اینکر پرسنز نے آگ کے شعلوں کو بڑھاوا دینے میں تیل کا کردار ادا کرنا شروع کر رکھا ہے جونہی شعلے سرد ہونے لگتے ہیں سہاگے میں سے اٹھتے دھویں کو بھانبڑ بنانے کے لئے کسی نہ کسی نیوز چینل کے محترم اینکر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور بالٹیوں کے حساب سے تیل ڈال کر دھویں کے ساتھ ساتھ آگ کے شعلوں کو بھی آسمانی بادلوں تک پہنچا دیتے ہیں-

مسلم لیگ ن کے بانیوں میں شمار ہونے والے چودھری نثار علی خان گذشتہ کچھ عرصے سے اپنی شکست کے زخم سہلانے میں مصروف تھے کہ ہمارے میڈیا کے ایک دوست نے انہیں جا لیا اور پھر دکھتی پر ایسا مرہم رکھا کہ زخموں نے نئے سرے سے رسنا شروع کر دیا ابھی چھ ہی مہینے تو ہوئے تھے کہ چودھری صاحب دو قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے پر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے تھے اور بڑی مشکل سے ایک صوبائی نشست پر کامیابی کا جھنڈا گاڑھ سکے تھے اسے بھی صحیح معنوں میں جھنڈا نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پرچم کے بغیر وہ ڈانگ ثابت ہو رہی ہے جو چودھری صاحب اپنی چارپائی کے نیچے مسلسل پھیرے جا رہے ہیں مگر اس ڈنڈے پر صوبائی اسمبلی کا جھنڈا لگانے کو تیار نہیں بجا کہ نشست تو محترم چودھری صاحب ہی جیتے مگر جب تک حلف نہیں اٹھاتے ممبر صوبائی اسمبلی کہلانے کا استحقاق استعمال نہیں کر سکتے اور صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھانے کو وہ اپنے اصولی موقف کی وجہ سے تیار نہیں کہ اس طرح انہیں قومی اسمبلی کے نتائج تسلیم کرنے پڑیں گے جو وہ فی الحال تو تسلیم کرنے کو تیار نہیں مگر کب تک یہ وہ جانتے ہیں یا پھر اللہ رب العزت کو معلوم ہو گا-

دل کے پھپھولے پھولتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے ایک بار پھر اپنے اسی موقف کو دہرایا کہ پاناما ہنگامہ شروع ہونے کے بعد نواز شریف کو قوم سے خطاب اور اسمبلی میں تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی اور JIT میں سروسز کے افسران کی شمولیت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا جب JIT کی رپورٹ ان کے خلاف آ ہی گئی تھی تو اسے عدالت عظمی میں بہتر انداز میں دفاع کر کے رد کیا جانا چاہیے تھا مختصر جواب یہ ہے کہ پوری دنیا کے سامنے کیس پاناما کا چل رہا تھا اس پاناما کا جس میں ابتدا تو نواز شریف کا نام تھا مگر پھر خود پاناما پیپرز سامنے لانے والوں نے اپنی ویب سائیٹ سے نواز شریف کا نام نکال دیا تھا بعد میں احتساب عدالت سے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بریت نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ آف شور کمپنیوں سے نواز شریف کا کوئی تعلق واسطہ نہ تھا مگر عدالت عظمی میں نواز شریف کے خلاف جب پاناما میں کچھ نہ نکل سکا تو اچانک ایک اقامہ نکال لیا گیا جسے آپ ملٹی پل ویزے کا نعم البدل کہہ سکتے ہیں اسی اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف تاحیات نااہل ہو گئے جس شخص نے سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہو اس سے اوڑھنا اور بچھونا دونوں چھین لئے جائیں تو واویلا نہیں مچائے گا تو کیا کرے گا –

چودھری نثار علی خان کہ جن کی مسلم لیگ ن میں ہمیشہ من مانیاں چلتی رہیں اپنی کسی بھی بات یا مشورے کو رد ہوتا برداشت نہیں کر سکتے اور ناراض ہو کر الگ بیٹھ جانے کی تاریخ رکھتے ہیں انہیں جب بھی بولنے کا موقع ملتا ہے اپنی جماعت کے لئے اپنی قربانیوں کا ذکر بہت فخر سے کرتے ہیں مگر جو نوازشات جماعت اور اسکی قیادت نے ان پر کیں ان کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کو جتنا کروفر کے ساتھ چودھری صاحب نے استعمال کیا نواز شریف یا جماعت کا کوئی دوسرا لیڈر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا صرف جاوید ہاشمی کی مثال لے لیں کہ ماریں کھانے اور جیلیں بھگتنے کے لئے وہ آگے آگے ہوتے تھے اور جب اقتدار سے لطف اندوز ہونے کا وقت آیا تو قائد حزب اختلاف کا منصب چودھری نثار علی خان کا مقدر ٹھہرا اور جب ایک بار پھر مشکل وقت نے قیادت کو آن گھیرا تو چودھری صاحب نے لندن میں موجود ہونے کے باوجود اپنے قائد کی بستر مرگ پر پڑی شریک حیات کلثوم نواز کی عیادت تک کرنا اپنی شان کے خلاف جانا جب کہ دوسری طرف بیماری میں مبتلا اور بہ مشکل چند قدم اٹھا سکنے والے جاوید ہاشمی ملتان سے اسلام آباد سفر کر کے احتساب عدالت میں اپنے قائد کا حوصلہ بڑھاتے رہے فرق تو صاف ظاہر ہے –

موصوف چودھری صاحب جن کے طاقت کے مراکز سے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں اپنی حالیہ گفتگو میں ڈیل کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں کہ سب میرے علم میں ہے اور اگر ساری باتیں میں منظر عام پر لے آوں تو تہلکہ مچ جائے یہ تہلکہ مچانے کا دعوی بھی کوئی نیا نہیں کہ گذشتہ انتخابات کے دوران ایسے دعوے چودھری نثار علی خان اپنی ہر تقریر میں کرتے رہے اور ہر نئے جلسے میں میڈیا اور عوام اسی آس پر شریک ہوتے رہے کہ شائید آج کوئی تہلکہ خیز خبر سننے کو ملے مگر مایوسی کے سوا کسی کے ہاتھ کچھ نہ آیا جانے تہلکہ کب برپا ہو گا موجودہ حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ عوام حلقہ کے لئے اس سے بڑی تہلکہ خیز خبر شائید کوئی اور نہ ہو کہ چودھری نثار علی خان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر حلف اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس تاسف کے ساتھ موصوف اپنے قومی اسمبلی میں نہ پہنچ پانے کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت نہ کرنے کے فیصلے کے ساتھ جوڑتے ہیں اسے سن کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تحریک انصاف میں شامل نہ ہونے کا دکھ کھائے جا رہا ہے اگر وہ کبھی جاوید ہاشمی سے اندر کی داستانیں سن لیں تو شائید شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ انہیں اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ محسوس ہونے لگے-

اصول پسندی اور اصول پرستی کے علمبردار چودھری نثار شائید یہ بھلا بیٹھے ہیں کہ ہماری روایات ہمیں اس عمل کی قطعا اجازت نہیں دیتیں کہ مشکل میں مبتلا دوست کو بار بار کچوکے لگا ئے جائیں پرانے گلے شکوے تسبیح کے دانوں کی طرح ورد کئے جائیں کیونکہ صیحح معنوں میں دوست اور ہمدرد وہی ہوتے ہیں جو مشکلات میں کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہو جاتے ہیں اچھا وقت اگر نہیں رہا تو رہنا برے وقت نے بھی سدا نہیں ہے ویسے بھی اپنے ڈار سے الگ ہو کر وچھڑی کونج کی مانند پرواز کر کے آپ نے دیکھ لیا فضا میں موجود ہوا کے تھپیڑوں نے آپ کو دھڑام سے زمین پر لا پٹخا ہے اگر دوبارہ سے پرواز کا ارادہ ہے تو اپنی ڈار سے ملے بغیر اور کوئی راستہ بچا نہیں اس لئے بار بار بولنے سے بہتر ہے عملی قدم اٹھائیں…!

SHARE

LEAVE A REPLY