کرونا جیسا عفریت نہ کبھی میں نے اپنی زندگی میں دیکھا اور نہ کبھی اپنے بزرگوں سے ایسی کسی وبا کے بارے میں سنا
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ
دنیا کے ایک چوتھائی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ ہوچکا ہے جس میں کئی حکومتوں نے تمام کاروبار بند کرنے کا حکم دیا ہے مگر کچھ ملکوں میں اشیائے ضرورت کی دکانیں کھلی رکھی جا سکتی ہیں
غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو دوہری آفت کا سامنا ہے وہ اپنے عوام کو بیماری سے بچائیں یا بھوک سے۔
اسی لئے پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ موقف رہا کہ وہ مکمل لاک ڈاؤن کا حکم اس لئے نہیں دے رہے کہ پھر مزدوری کرنے والے کہاں سے کھائیں گے کیونکہ پاکستان کی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ
کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے چالیس فیصد عوام کو گھر میں بٹھا کر کھلا سکے۔
چلیے یہ تو کمزور معیشتوں کی کہانی ہے۔
مگر اس عفریت نے تو امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی کمزوریوں کو بھی بری طرح آشکارہ کردیا
وہ ملک جن کے پاس ایسے ایسے ہتھیار ہیں جو چشم زدن میں بستیاں کی بستیاں نیست و نابود کردیں
وہ بھی اپنے شہریوں کی زندگی بچانے کے لئے وسائل کی کمی اور مشکلات سے نبرد آزما ہیں
احمد فراز کی ایک غزل کا کیا خوبصورت شعر ہے
بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو
کرہ ارض پے بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ
اس وقت دنیا کو ایک مشترکہ دشمن کا سامنا ہے
ایک ایسا دشمن جو ہر رنگ و نسل، ہر مذہب کے پیروکاروں اور ہربستی پر حملہ آور ہے۔
مگر وہ ملک جو برسوں سے جنگوں کا سامنا کررہے ہیں یا حالت جنگ میں ہیں ان کے نظام حیات بلکل درہم برہم ہو چکے ہیں،
مسلح تصادم سے بچنے کے لئے لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے
ایسے پناہ گزیں ، اور پس ماندہ افراد اس بیماری سے کیسے بچ سکیں گے؟
انھوں نے کہا کہ دنیا بھرمیں اپیل کرتا ہوں کہ
جنگیں ختم کریں ، اپنی اپنی توپوں کو خاموش کریں اور اس بیماری سے لڑیں جواس وقت دنیا کو اجاڑ رہی ہے یہ وقت ہے جب آپ اپنے تما م وسائل اور توانائیاں زندگی بچانے کے لئے استعمال کریں
ورنہ یہ خوف ہے کہ یہ بلا بہت سی انسانی بستیوں کو نیست و نا بود کرڈالی گی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اس اپیل کے تناظر میں سوچیئے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر، فلسطین، شام ،عراق ، ایران، لیبیا، یمن،انڈیا اور پاکستان کے نظام صحت کس حال میں ہونگے
گویا جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے کہا ان ملکوں کو اپنی ترجحات بدلنی ہونگی اور اپنے زیادہ وسائل انسانی زندگی کی بہتری پر صرف کرنے ہونگے۔
ایک اور ذکر بھی بہت ضروری ہے
ایسے گھمبیر حالات میں بھی جب کہ پیداواری فیکڑیاں بند ہورہی ہیں، پاکستان میں افواہوں کی فیکڑیاں سوشل میڈیا پر پوری طرح سرگرم ہیں۔
ایک پوسٹ گردش میں ہے کہ چین کے خلاف یہ جراثیم امریکہ اور یورپ کے لیبارٹری میں تیار کئے گئے
ایک پوسٹ آتی ہے ٰکہ کرونا حرام جانور کھانے سے پھیلا ہے اور یہ بھی کہ ایسے کھانے سے جسم میں بیماری سے نمٹنے کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔
جب کہ یہ وہ ملک ہیں جن کی خوراک جو بھی ہو، بیماریاں کم اورانسانی عمر میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
کبھی کبھی تو بلکل یوں لگتا ہے جیسے
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کی بجھاتے ہیں چراغ
مگر ایسا پروپیگنڈا اپنی موت آپ مرتا جارہا ہے کہ کرونا کے جن نے نہ کسی مذہب کو چھوڑا نہ کسی رنگ و نسل کو، نہ امیر اور نہ غریب کو، بس دیکھتے ہی دیکھتے
کرہ ارض پرچھا گیا
کاش ایسے ذہن اپنا وقت منفی سرگرموں میں ضائع کرنے کے بجائے اپنی پرو پیگنڈا لیبارٹریوں میں اس بیماری سے بچاؤکی تدابیر تلاش کریں، یا آپ بس ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں













