ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے !قسط نمبر 52

0
1902

دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔۔ مجھے ہلکا سا محسوس ہوا کہ واش روم جانا ہے ۔۔ دل میں طمانیت کی ایسی لہر امنڈی جو بیان سے باہر تھی ۔ ریمورٹ کنٹرول کا بٹن دباتے ہی نرس کمرے میں آگئی ۔ اس نے مجھے آہستہ سے اٹھایا اور واش روم تک پہنچایا اور خود دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی ۔ پیشاب کا سرخی مائل گہرا زرد رنگ میرے اندر کا زخمی حال سنا رہا تھا ۔ لیکن ایک بات نے دل خوشی سے بھر دیا کہ بلیڈر اسکین میں یورین صرف پچیس سی سی ہی مثانے میں بچا تھا جس نے مجھے کیتھیٹر کی متوقع تکلیف سے بچا لیا تھا۔۔ نرس کے چہرے کا اطمینان بتا رہا تھا کہ میری صحت صحیح سمت میں چل پڑی تھی ۔

پہلا قدم ہی تو اہم ہوتا ہے ۔۔

اپریل کے آخری ہفتے میں انفیکشن اور ماہواری کی طرح کے خون کا آنا ۔۔ پہلا قدم الٹرا ساؤنڈ ۔۔ دوسرا قدم بایئوپسی ۔۔تیسرا قدم آپریشن تھا ۔۔ دعاؤں کے حصار میں دھیرے دھیرے قدم اٹھا رہی تھی ۔۔ دعا ہی تو انسان کا پہلا اور آخری سہارا ہوتا ہے ۔ دعا کا یہ فلسفہ بھی عجیب تھاکہ دعا دینے سے زیادہ دعائیں پانا مشکل تھا ۔ دعائیں انہیں کا نصیب تھیں جو خوش نصیب تھے ۔۔ اور میں خوش نصیب ٹھہری تھی
۔۔میں اس اعزاز پر جتنا مان کرتی کم تھا ۔۔اور میں سر سے پیر تک شکرگزار تھی۔ یوں‌ لگا جیسے ایک دیا اور جل گیا ہو ۔۔۔ خود کو تصور میں دیا بنتے دیکھا تو تمنا نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ۔۔۔ ایسا اکثر ہوتا تھا ، یقیننا اور لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہوتا ہو گا ۔۔ کہ ۔۔ کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن بیماریوں کی شکل میں رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے ۔۔ لیکن میں جسمانی ، نفسیاتی اور روحانی شفایاب ہونا چاہتی تھی ۔

صحت کا مطلب “‌ پورے پن “‌ کا ایک خاص احساس تھا جس میں جسمانی ، نفسیاتی اور روحانی تندرستی سب شامل ہوتی ہے تو شفا مکمل ہوتی ہے ۔

Health کا لفظ ’Whole

‘ سے ماخوز تھا ۔ یعنی صحت صرف بیماری کی عدم موجودگی ہے۔ دنیا بھر میں دائمی بیماریوں‌

( Chronic Disease)

میں زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے ۔ ورلڈ ‌ہیلتھ آرگنائزیشن کی پشین گوئی کے مطابق سال 2025 تک دائمی بیماریوں میں 57٪ اضافہ ہوجائےگا۔ اور کئی ملکوں میں صحت کیسے بہتر ہو سے زیادہ بیماریوں کے علاج پر خرچ کیا جائے گا۔ جدید ادویات ، تشخیص اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود 2018 میں 10 میں سے 8 اموات کسی انفیکشن سے بیماری لگنے کی وجہ سے نہیں ہویئں تھیں بلکہ کینسر ، قلبی امراض ، ذیابیطس اور سانس کی بیماریوں (دمہ) سے ہویئں تھیں ۔

اپنے جسم اور اپنی روح کا خیال رکھنا ہماری انفرادی زمہ داری ہے ۔۔ مجھے یاد ہے 2019 میں 27 سے 28 جولائی میں میلبورن میں سد گروجی کاسیمینار ہوا تھا۔ میں وہاں تھی اور انہوں نے کہا تھا “ یقین کریں‌ ہم کسی مہلک بیماری یا بیماری کے امکان کو کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کر سکتے ہیں‌ پر ہمیں خود پر یقین کی کمی رہتی ہے ، جبکہ جسم میں‌ خود کو ٹھیک کرنے کی قابلیت ہمارے یقین سے کہیں زیادہ ہے “‌۔۔ وہ ہم سب سے پوچھ رہے تھے کہ جب جسم خراب ہوجاتا ہے تو وجوہات اور علاج کو جسم سے باہر کیوں ڈھونڈا جاتا ہے ؟ ۔ بیمارکو باہر سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا ایک بہت ہی آسان کام ہے۔ لیکن اگر آپ باطن تک رسائی حاصل کر لیں تو صحت مند رہنا ایک فطری رجحان بن جائے گا ۔ “‌

سچ بات یہ تھی کہ ہمارا سب سے بڑا مسلہ اندھی تقلید کا ہے ۔ جہاں مذہب اور عقائد کے ساتھ ایسا ہو تھا وہیں کھانے پینے میں اس سے بھی کہیں زیادہ ہوا تھا ۔ کیا اس سے انکار ممکن ہے کہ اس وقت دنیا ہر اس کام کی تقلید کر رہی ہے جو بڑی طاقتیں کرتی ہیں یا کرنے کا کہتی ہیں ۔ امریکہ کے پاس صحت کی دیکھ بھال کے لئے تین کھرب ڈالر کا بجٹ ہے جو ان کے لئے بڑے خسارے کاباعث بنا رہتا ہے ۔ میڈیکل سائنسز بیماری کے مطالعہ میں مصروف ہے جبکہ یہ وقت بیماری کی بجائے صحت کے مطالعہ کا وقت ہے ۔ یعنی اس وقت صحت ، بیماری اور مجموعی طور پر انسانی جسم کو سمجھنے کے ایک نئے انداز کی طرف شفٹ ہونے کا وقت ہے ۔

مجھے ان کی بات سے اس وقت مکمل اتفاق تھا کہ ” ‌آج ستر فیصد دائمی بیماریاں اندر سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کا علاج جسم کے اندر ہی سے کیا جاسکتا ہے۔ اور وہ بھی محض اپنے ارد گرد کے ماحول کوبہتر رکھنے سے ، رہنے سہن سے اور کھانے پینےکے بہتر انتظام سے کیا جاسکتا ہے۔۔۔ جیسے کم از کم ہماری غذا کا 40٪ حصہ تازہ سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل ہونا چاہیئے تاکہ جسم ہلکا پھلکا محسوس رہے۔ “‌

ہوسپٹل کے کمرے میں مکمل خاموشی تھی ۔۔اور خاموشی ہو تو کیا کیا یاد آنے لگتا ہے ۔اسی لیکچر کا حیران کن نقطہ مجھے اس وقت یاد آرہا ہے ۔۔ صحت بخش غذا کے بعد جسم میں 4 عناصر ( ہوا ، پانی ، زمین اور آگ ) میں تواز ن ہونا بہت ضروری ہے ۔ اگر یہ عناصر کسی عدم توازن کاشکار ہو جایئں تو جسمانی ، نفسیاتی اور روحانی بیماریوں کا موجب بن جاتے ہیں ۔

اس وقت میں نے جسم میں عناصر کی ترتیب میں نوٹ کر لی تھی ۔۔ جو کچھ یوں تھی ۔۔
1۔ پانی ۔۔ انسانی جسم میں 72فیصد پانی ہوتا ہے ۔
2۔ مٹی ۔۔ انسانی جسم میں تقریبا 99 فیصد بڑے پیمانے پر چھ عناصر شامل ہیں جن میں آکسیجن ، کاربن ، ہائیڈروجن ، نائٹروجن ، کیلشیم اور فاسفورس۔ صرف 0.85 فیصد دوسرے پانچ عناصر پر مشتمل ہے جن میں پوٹاشیم ، سلفر ، سوڈیم ، کلورین ، اور میگنیشیم ہوتا ہے ۔۔۔ یہ 11 نمکیات زندگی کی حیات تھے ۔
3۔ ہوا ۔۔ انسانی جسم دو تہائی آکسیجن ہوتی ہے۔ یعنی جسم کا 65 فیصد حصہ اوکسیجن پر مشتمل ہے ۔
4۔ آگ ۔۔ جسم کا درجہ حرات ہے اور یہ وہ توانائی ہے جس پر جسم روا دواں رہتا ہے ۔ایک جوان انسانی جسم میں ایک ٹن بیٹری جتنی انرجی ہوتی ہے جو اس کی چربی میں جمع رہتی ہے ۔

لیکچر میں یہ بھی انہوں نے سمجھایا تھا کہ ہم خود کو کیسے جسمانی انتشار سے بچا سکتے تھے ۔
جیسے ۔۔
1۔ جوکام کریں فطری آسانی کے ساتھ کریں یعنی اپنی زہنی اور جسمانی استطاعت کے مطابق کام کریں ۔
2۔ کام کے دوران مناسب وقفہ ضرور کیا کریں جسے ” کام میں آرام ” کہتے ہیں ۔
3۔ مکمل انہماک اور توجہ سے ایک ہی کام کریں یعنی ملٹی ٹاسک سے بچیں کہ یہ وقت کا ضیاع اور زہنی انتشار کا سبب ہے۔

نفسیاتی انتشار سے بچنے کے لئے انہوں نے بہت ہی اہم گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا ہم تنہا ہی ختم ہونا چاہتے ہیں یا ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ۔۔
1۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے والا ہو
2۔ پرایئویسی کے نام پر اپنے اسپورٹ سسٹم (‌گھر ، دوستوں ) سے دورنہ ہونے والا ہو
3۔ جو مطالبہ نہ کرنے والا یعنی ڈیمانڈنگ نہ ہو ۔ ۔۔بس جتنا ہے ، جیسا ہے ، جو ہے کافی ہے

روحانی انتشار سے بچنے کے لئے انہوں نے یوگا (جسم ) اور میڈیٹیشن (روح ) کرنے کو کہا تھا ۔۔
سد گرو جی کے نزدیک یہ بلکل ایسے ہی تھا جیسے آپ مٹی کو زرخیز رکھیں یعنی ضروری کھاد اور پانی دیں اور اس میں صحیح قسم کا بیج بھی موجود ہے تو وہ پھولوں اور پھلوں کی صورت میں ضرور مہکے گا اور پھل بھی لائے گا۔ مراقبہ یا میڈیٹیشن سے ہم اتنا غور و فکر کرتے ہیں کہ پہلے پہل ہم ایک خالی گھر کی طرح ہو جاتے ہیں پھر آہستہ آہستہ یہ خالی گھر ہرے بھرے گھر میں بدل جاتا ہے ۔۔۔ دونوں‌صورتوں میں‌ دل میں اتنی نرمی اور گداز پیدا ہو جائے گا کہ آپ سراپہ محبت اور شفقت ہو جایئں گے ۔ آپ کی شخصیت اتنی سحر انگیز اور گہری ہوتی چلی جائے گی کہ آپ کا تاثر بہت دیرپا اور دل کے نہاں خانوں تک رسائی پا جائے گا۔ اس وقت آپ پیار نہیں کریں گے بلکہ سراپا پیار ہوجایئں گے ۔

مجھے یاد ہے لیکچر کے بعد ہم سب یہ نتیجہ نکال چکے تھے کہ دائمی بیماریوں کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ ہماری اپنے ہی جسم سے آگاہی کا نہ ہونا تھا ۔ مثلا
1۔ رہن سہن ۔۔ ( تازہ ہوا اور حسن سلوک )
2۔ عادات ۔۔ ( سونے جاگنے کے اوقات کار ، نوکری کی نوعیت )
3۔ خوراک ۔۔ ( تازہ کھانا ، سبزیوں اور پھلوں کا استعمال )
4۔ خیالات ۔۔ ( منفی سوچیں ، زہنی انتشار )
5۔ جسم کی جیومیٹری ( بیٹھنا کیسے ہے ، یوگا ، ورزش ، پیدل چلنا )
6 ۔ روحانی ضرورت ( میڈیٹیشن ، شکرگزاری ، عاجزی )

کمرے میں دوپہر کا کھانا آیا رکھا تھا ۔۔ مجھے بھوک نہیں تھی ۔۔کھانے کی ٹرے یونہی پڑی ہوئی تھی جسے کچن لیڈی واپس لے جا چکی تھی ۔ میں اپنے خیالوں میں کہاں سے کہاں بھٹک رہی تھی ۔۔کتنا کچھ یاد آگیا جس کے معنی اب کھل رہے تھے ۔۔ انسان سکھی رہنا بھول رہے تھے ۔۔ مجھے لگا جیسے یہ ٹاسک مجھے سونپا جا رہا ہو کہ مجھے اطمینان میں رہنا ہے اور سکھ کو پھیلانا ہے ۔۔ مجھے یاد آیا میرے بھائی عاصم نسیم نے آج صبح ہی تو فون پر بتایا تھا ایک دفعہ رات کے کھانے کے بعد سب بیٹھے ہوئے تھے ابا جی نے اچانک ہم سب سے پوچھ لیا کہ نعمت اور رحمت میں کیا فرق ہے ۔۔ ہم سب چپ رہے کچھ ادب مانع تھا اور کچھ اپنی کم علمی بھی وجہ بنی ۔۔ انہوں نے کمال شفقت سے اتنی آسانی سے سمجھا دیا کہ اب کبھی نہیں بھول سکتا ۔۔ اباجی رح نے فرمایا کہ اللہ پاک جب ہمیں کسی اچھے کام کی توفیق عطا کرتا ہے وہ اس کی نعمت ہے اور جو شخص اس کی عطا کردہ نعمتوں کو آگے بڑھاتا ہے تو وہ اس پر اللہ پاک کی رحمت ہے ۔۔ جیسے اگر آپ کے پاس علم ہے تو یہ اللہ پاک کی عطا اور نعمت ہے اور جب یہی علم آپ آگے بڑھاتے ہیں تو وہ علم آپ پر اس کی رحمت بن جاتا ہے ۔۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جوظالمین ہوتے ہیں ان پر سے پہلے رحمتیں ہٹا دی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ ان کی زندگیوں سے نعمتیں بھی اٹھا لی جاتی ہیں ۔

اے میرے معبود!
مجھ پر
اپنی برکتوں کو آشکار کر دے
میرے دل کو
اپنی رحمتوں سے دھو چمکا دے
اے پہچان والوں کے دلوں کو روشن کرنے والے
اپنے نور کے صدقے
میرے ہر اعضاء کو
اپنے احکام کی بجا آوری عطا کر دے
کار خیر میں عجز و انکسار عطا کر دے
الہی آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY