مجھے یاد ہے سد گرو جی کا وہ لیکچر جب وہ بتا رہے تھے کہ جب سانپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے جانے کا وقت آگیا ہے یا جب وہ خود فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے اب اور نہیں جینا ۔۔خاصطور پر کوبرا سانپ بڑی انا والا ہوتا ہے ۔۔جب وہ دنیاچھوڑنے کافیصلہ کرلیتا ہے تو ایک جگہ پر کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔ پندرہ بیس دن کچھ نہیںکھاتا اور مرجاتا ہے ۔۔۔اسے جتنا بھی لالچ دیا جائے وہ کسی کی بات میں نہیں آتا ۔۔ نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہے اور نہ ہی کچھ کھانے کے لئے راضی ہوتا ہے ، کیونکہ اس نے جانے کافیصلہ کر لیا ہوتا ہے ۔۔ کیا ہم انسان ایک کوبرا سے ایسی شاندار موت کا گر نہیں سیکھ سکتے ۔۔۔ شاید نہیں انسان ایسا نہیں کر سکتے ۔۔ کیونکہ انہیں دنیا کی چاہت گھیرے رہتی ہے۔
میںنے کتنی ہی کتابوں میںپڑا تھا اور کئی لیکچرز میںسنا تھا ۔۔۔ اور اب مالی بھی یہی بتا رہی تھی کہ مراقبہ کرنے والی نیک روحیں اس بات کا ادراک رکھتی ہیں ۔۔انہیں اپنی موت کا چھ ماہ پہلے سے پتہ لگ جاتا ہے اور وہ اپنے کام سمیٹنا شروع کر دیتے ہیں اور دنیا سے باوقار انداز میںچلے جاتے ہیں ۔۔اس کے ساتھ مجھے تسلسل سے کتنے ہی بزرگ روحیں یاد آ گئیں جن میں میرے بڑے تایا جی الیاس بھی تھے جنہیں معلوم تھا کہ اب وہ واپس نہ آئیں گے اور جس طرح سے انہوں نے اپنی ماں بی بی جی سے رخصت لی تھی وہ ہمیں آج بھی رلاتی تھی ۔۔ والدین کے لیئے اس کے جوان شیر کے جانے کا غم ناقابل بیان دکھ ہے ۔۔تایا جی اپنےکفن کا انتظام کر کے ہسپتال گئے تھے اور دفن کے لئے جگہ بھی تیار کروا رکھی تھی ۔۔ اور کچھ نیک روحیں تو اپنی نماز جنازہ تک کا بتا کر رخصت ہوئی تھیں ۔

ابا جی 10 دسمبر 2019 کو سڈنی کے شام ساڑھے 4 بجے ہماری دنیا سے پردہ کر گئے
مجھے یاد ہے ابا جی کی بیماری کے آخری چھ ماہ ۔۔ 2019 اپریل میں جب انہوںنے مجھے سڈنی سے اور دلشاد کولاہور سے لندن بلا لیا تھا کہ وہ ہم سارے بہن بھایئوں کے ساتھ کچھ وقت ساتھ گزارانا چاہتے تھے ۔۔ میرا بھائی شاہد نماز فجر میں اباجی ، دلشاد اور میرے لئے چائے بناتا ، اباجی کے حکم پر ہم سب کو ایک ایک کجھور اور ابلا ہوا انڈہ پلیٹ میں رکھ کر دیتا اور خاموشی سے ابا جی کے قدموں بیٹھ جاتا ۔۔ وہ اباجی کے ساتھ میرا آخری دنیاوی ساتھ تھا۔۔۔ پھر وہ لاہور چلے گئے اور میں سڈنی واپس آگئی تھی ۔ ابا جی لاہور سے نورپور ساہیوال چلے گئے جہاںانہوں نے مسجد بی بی آمنہ بنائی تھی ۔۔محفل میلاد اور عرس مبارک ہوا کرتے ۔۔اللہ اللہ کیسی رونقیں زمین پر اتر آئیں تھیں ۔ ۔۔2019 کا دسمبر شروع ہو چکا تھا ۔۔ہم سمجھ ہی نہ پائے کہ اباجی نے آہستہ آہستہ سارے کام سمیٹنے شروع کر دیئے تھے ۔۔ چھوٹے بھائی جاوید نسیم کو اپنے پاس بلا کر وصیت نصیحت کی ۔۔ پھر انہوں نے ڈائیلسز پر جانا چھوڑدیا اور آخری ہفتے میں تو دوا بھی نہیں کھائی تھی ۔۔ میںنے پوچھا تو کہنے لگے بس اب اور نہیں۔۔۔ میں تب ہی جان چکی تھی لیکن سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔نیک روحیں اپنے جانے کے وقت شاہانہ انداز میں فیصلے کرتی ہیں اور باوقار اس دنیا سے چلی جاتی ہیں ۔ابا جی 10 دسمبر 2019 کو سڈنی کے شام ساڑھے 4 بجے ہماری دنیا سے پردہ کر گئے ۔۔ اپنے پیچھے اپنی محبت اور شفقت چھوڑگئے ۔۔ مجھے احساس ہوا میرے آنکھوں کے عدسوں میں تو میرے والدین رہتے تھے ۔۔
اردو ادب میں بھی ایک ایسی منفرد مثال استاد نواب مرزا داغ کی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی ایک قطعے کی شکل میں اپنی تاریخ وفات نکالی تھی اور بالکل اسی تاریخ کو عدم کے سفر پر روانہ ہوئے
مالی بتا رہی تھی ۔۔
ہمیں اپنی روحکی عزت کرنی آنی چاہیئے ۔۔ روحیں دنیا میں زیادہ دیر ٹھہرنے کا ڈرامہ پسند نہیں کرتیں ۔۔۔زندگی پہلی اور آخری سانس تک کاسفر ہے ۔۔ موت زندگی کی بنیادی حقیقیت ہے اسے جاننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہم زندگی کو جاننا چاہتے ہیں ۔ ۔۔ آخری لمحات کو بالکل ایسے ہی گزارنا چاہیئے جیسے نیند آنے سے پہلے والا لمحہ ۔۔ خوش کن اور حسین ترین۔۔۔اس لیئے کہ جیسے ہم نیند سے پہلے ہوتے ہیں وہسے ہی نیند میں رہتے ہیں ۔۔ اس لیئے ضرروی ہے کہ موت سے پہلے بھی ہم اسی کیفیت میں رہیں کہ بعد از موت بھی خوشگوار وقت گزرے ۔۔ اپنے آخری سفر کو خوشگوار بنانا ہمارا ہی کام ہے ۔

مالی کی باتوں پر میری سوچیںبکھر بکھر جارہی تھیں ۔۔میری سمجھ سے باہرتھا کہ مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔ میں مالی کے پاس تھی یا اپنے ہی پاس بیٹھی تھی ۔۔ مجھے یاد آیا جب میںاولڈایج سائیکاٹری کی چھ ماہ کی ٹرم کر رہی تھی تو تقریبا روزانہ ہی اولدڈہوم جانا ہوتا تھا ۔۔ اور وہاں روزانہ ہی کوئی ایک دو بزرگ مر جاتے تھے ۔۔ لیکن ایک چہرہ جو میں کبھی نہیں بھول سکونگی ۔۔ کوئی اتنی گریس سے بھی مر سکتا ہے ۔۔ شاید اسی وقت سے مجھے گریس فل موت کیسے ممکن ہے ؟ کی کھوج تھی ۔۔ میرے ہاتھ میں اس کا بزرگ ہاتھ تھا ۔۔ میں نے نرس سے انجیکشن اور میڈیکیشن لانے کو کہا ۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے مجھے پاس آنے کو کہا ۔۔ اور میں اس کے اتنے پاس آگئی تھی کہ اس کی اکھڑتی سانسوں کی کیفیت کو خود پر گزرتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ کتنی آسانی سے اس نے کہہ دیا تھا ۔۔
DOC LET ME GO PLEASE
ڈاکٹر پلیز مجھے جانے دو ۔۔ اور پھر میںنے اسے جانے دیا ۔۔ کوئی دوا نہیں۔۔ کوئی سی پی آر نہیں ۔۔ اس کی آنکھوںمیں تشکر جیسے ٹھہر سا گیا تھا ۔۔۔ میںنے خوبصورت بزرگ آنکھیں اپنے ہاتھوں سے بند کر دیں ۔۔ اتنا سکون تھا اس کے چہرے پر ۔۔اس کے جانے کا اتنا شاہانہ انداز ۔۔اف کتنی چاہ تھی اس کی آخری خواہش میں ۔۔ لیٹ می گو ڈاکٹر پلیز ۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے ۔۔۔ سفید بال جیسے نور کا ہالہ ہوں ۔۔اس کا حسین ترین باوقار چہرہ ۔۔۔ باوقار روح ۔۔ باوقار موت سے ہمکنار ہو کر جسم کی قید سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔ایسے جیسے کوئی سفید پرندہ پنجرے سے اڑکر سفید بادلوںمیں خوشی اور سرور میں اڑتا جا رہا ہو۔
زندگی تو راستہ ہے موت کا
موت نگہت زندگی کا نام ہے
نسیم ۔۔۔۔ تم کچھ پوچھ رہیں تھی ۔۔مالی نے میری توجہ پھر اپنی طرف کر لی ۔۔ میںنے چونک کر انہیں دیکھا ۔۔ ان کے چہرے پر پر اعتماد سی مسکراہٹ تھی ۔۔جیسے ان کے پاس میرے ہر سوال کا جواب ہو بالکل ایسے جیسے ڈاکٹر برلنگ کے پاس تھا ۔
مالی ۔۔مجھے یقین ہے میرا رب جومجھے اس دنیا میںسب سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ مجھے اپنی عبادات کا حساب کتاب معاف کر دے گا ۔۔لیکن مجھ سے جوغلطیاں اس کی مخلوق سے اخلاق برتتے وقت ہوئی ہیںان کا کیا ہوگا ۔۔؟
وہ کہتا ہے کہ اگر وہ لوگ تمہیں معاف کریں گے تو ہی وہ مجھے معاف کرے گا ۔۔
میرے گھر والے ۔۔میرے بہن بھائی ۔۔ میرے دوست ۔۔ میرے مریض۔۔ میرے ہمسائے ۔۔ میرے ساتھ چلنے والے ۔۔۔ جانے کون کون ۔۔ اور ہاں میری بلیاں ۔۔پرندے
مالی جانے کہاں کہاںمجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔۔ میری آواز بھرا گئی ۔۔ میری آنکھوںمیں بے بسی کی نمی اتر آئی تھی
میں ان سے کیسے معافی مانگوں ۔۔ کیسے ۔۔ کہاں کہاں جاؤں ۔۔وقت واپس پلٹتے ہی نہیں ہیں ۔
مالی میںتو یہ بھی نہیں جانتی کہ کون کون اس دنیا سے جا چکے ہیں۔۔ میں اپنی نادانیاں ۔۔ غلطیاں اور کم ظرفی کی معافی کیسے مانگوں۔۔
میں زندہ رہ بھی گئی تو مجھے یہ دکھ جینے نہیںدے گا ۔۔۔ میں کیا ایسا کروں ۔۔ مجھے کیا کرنا چایئے۔۔پلیز ہیلپ مالی
میں جانتی تھی میرے سوال بےربط تھے ۔۔ پر میری خواہش کی سچائی ان تک پہنچ رہی تھی ۔
مالی مسکرا دیں ۔۔ روپا کے آنکھوںمیں بھی نمی تھی ۔۔
شاید ہم سب معافی چاہتے ہیں لیکن ہماری انا ہماری ہی طرح بہت ضدی اور بڑی بہانے باز تھی ۔۔ لیکن مہلت کم تھی اور مجھے باوقار اور شاہانہ انداز سے مرنا تھا۔۔میںمالی کی طرف بڑی امید سے دیکھ رہی تھی ۔

سنو اے ہواؤ ۔۔۔ اے بارشو
تمہاری باتیں بڑی میٹھی ہیں
مالی بتا رہی تھیں انسان کا ایک دوسرے سے جہاںسکھ کا رشتہ ہوتا ہے وہیں دکھ کا بھی ہوتا ہے ۔۔ یہ لین دین کارمک اکاؤنٹ بناتا ہے ۔۔ اور اس کے لئے سب سے بہترین میڈیٹیشن یہ ہے کہ ان سے معافی مانگ لیجئے ۔۔ اپنے سے جڑے ہر رشتے سے ۔۔چاہے وہ ہمارے درمیان ہوں یا نہ ہوں ان سے روحانی معافی مانگ لیں۔۔ آپ تصور کریں ۔۔ یکے بعد دیگرے سب کو اپنے سامنے بیٹھا تصور کریں ۔۔اور باری باری ان سے محبت سے التجا کیجئے ۔۔ جیسے آپ اپنے والدین کاتصور کیجئے اور ان سے کہیئے ۔۔۔
میں آپ سے اپنی غلطیوں ، بدگمانیوں اور برے سلوک کی معافی مانگتی ہوں
اللہ پاک کے لئے مجھے معاف کردیجئے
آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے مجھے معاف کر دیا
میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں
اسی طرح اپنے بہن بھائی ، گھر والے ، اساتذہ ۔۔دوست احباب ۔۔ مریض ۔۔جس جس سے معافی مانگنی ہو مانگتے جاؤ ۔۔ روحیںبہت عظیم ہوتی ہیں۔۔ معاف کر دیتی ہیں ۔
آٹھ بجنے والے تھے ۔۔ میڈیٹیشن کی کلاس ختم ہونے والی تھی ۔۔ مالی نے ایک منٹکی آخری میڈیٹیشن میں سب کو ہدایت کی کہ سب نسیم کے لئے صحت کی دعایئں مانگیں ۔۔ جب ہم مل کر ایک ہی دعا مانگتے ہیںتو اخلاص کی انرجی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دعا قبولیت پاجاتی ہے ۔۔ میڈیٹیشن کی زبان میں اسے “بٹی “ کہتے ہیں جس کا پہلی بار مجھے پتہ چلا تھا ۔۔اور میں یہ بٹی پا کر بہت خوش اور مطمئن تھی ۔۔
پھر مالی نے مجھ سے کہا کہ جب وہ مجھے دعاؤں والاکارڈاور تبرک دیں تو صرف ان کی آنکھوں میں دیکھوں تاکہ صحت اور سکون کی روحانی کرنوں سے میری روح اور جسم کو روشن کر سکیں ۔۔ بیماری دراصل ہمارے جسم میں رکی ہوئی انرجی کالے دھبوں جیسی ہوتی ہیں ۔۔انہیں روشن کرنا دراصل شفایاب ہونا ہوتا ہے ۔۔۔ہماری آنکھیں روح کی زبان ہوتی ہیں وہ دوسری روحوں سے ایسے ہی ہمکلام ہوتی ہیں ۔ پھرمیں نے اور روپا نے ایسے ہی کیا ۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ روپا کا کیا حال ہوا تھا لیکن مجھے یوں لگا تھا جیسے کوئی روشنی تھی جو میری آنکھوںسے ہوتی ہوئی دل تک پہنچ رہی تھی ۔۔ کیا تھا مالی کی آنکھوںمیں جو مجھ سے سنبھل نہیں رہا تھا ۔۔میری پلکیں تعظیم و تشکر سے جھک گئی تھیں ۔۔جیسے میں اس روحانی تحفے کو سب سے چھپالینا چاہتی تھی ۔۔ مالی نے بتایا کہ اسے “درشٹی “ کہتے ہیں ۔
مجھے بہت کچھ یاد تھا ۔۔ پر ان کی سمجھ ابھی ابھی آئی تھی ۔۔
ایک دن ہوسپٹل جاتے ہوئے میں مشہور روحانی شخصیت ایشور پوری جی کا لیکچر سن رہی تھی وہ بتا رہے تھے کہ ان کے مرشد ساون بابا جی سے کسی سالک نے پوچھا کہ مرشد کا دیدار کیوں ضروری ہے ؟ انہوں نے اپنے سالک کو کہا سفر پر جاؤ اور جو جو تمہیںاس سفر میں ملے ان سے یہی سوال پوچھنا ۔۔کہ مرشد کے دیدار سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔ سالک اپنے سفر پر نکل گیا ۔۔رستے میں اسے چیونٹی سے لے کر سانپ تک ملے ۔۔ جس سے وہ سوال پوچھتے وہ جانور مرجاتا ۔۔ آخرمیںایک بچہ ملا اس سے بھی وہی سوال پوچھا تو اس نے جواب میں کہا کہ میںوہی چیونٹی ہوں جس سے تم سب سے پہلے ملے تھے ۔۔ بعد میںبھی جو جو جانور تمہیں ملے ، وہ بھی میں ہی تھا ۔۔ مرشد کا دیدار ۔۔اس کی نظر التفات ایک چیونٹی کو انسان بنا سکتی ہے ۔۔۔ اس کی نظر کا نور انسان کے اندر کا میلا پن ختم کر دیتا ہے اور اس کے اندر کے جانور کو انسان بنا دیتا ہے ۔
ابا جی اکثر کہا کرتے کہ جب میں تمہارے درمیان بیٹھا ہوا ہوںتو مجھے دیکھا کرو ۔۔ مرشد کادیدار شفا ہے ۔۔قلب کی صفائی کا اہتمام ہے ۔ صدقے ان نوری آنکھوں پر جو بعد از حیات بھی بھی پیغام شفا بن جاتی ہیں ۔
اف اب سمجھ آیا کہ ہمارے پیارے نبی آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیوں فرمایا تھا کہ مولائے کائینات حضرت علی کو دیکھنا ، علی کو سننا ، علی کا زکر عبادت ہے ۔۔۔ تاکہ ہر زمانے میںان کی شفا اور پیار ہمارے ساتھ رہے ۔۔ کتنے ہونگے جنہیں ان کا دیدار نصیب ہوا ، کتنی خوش نصیب ہیں وہ سماعتیں جنہوں نے انہیں سنا ۔۔اور ہمارے زمانوں کے لیئے زکر علی ع رکھ دیا ۔۔ میں صدقے ۔۔میںقربان اس انصاف پر کہ اللہ پاک کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں کو عبادت کا ایک ہی جیسا درجہ دے دیا ۔۔ کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں ۔۔ مولائے کائینات ۔۔ولیوں کے ولی ۔۔سراپا شفا ۔۔سراپا دلدار و غمگسار ۔۔ان کازکر ہی ہمارے لئے درشٹی تھا۔
عالم علیم شاہد و سرمد علی ہی ہے
یہ بھی ہے سچ کہ نفس محمد علی ہی ہے
شربت پلایا اپنے ہی قاتل کو جس نے وہ
نگہت تمام خلق میں واحد علی ہی ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم
آج کیسے کیسے اسرار کھل رہے تھے ۔۔۔ درشٹی شفائے قلب کی سیڑھی ۔۔۔ مجھے لگا جیسے میں اتنی ہلکی ہوگئی ہوں کہ اب آسمانوں میں اڑ ہی جاؤنگی ۔۔۔یہی تو شفا تھی ۔۔اسے ہی تو شفا کہتے ہیں ۔
مالی نے بڑی محبت سے میر اتحفہ قبول کیا ۔۔ مجھے معلوم تھا کہ انہیں مجھ سے اپنے لئے محبت اور انسیت کی خوشبو آتی تھی ۔۔جبھی توہماری روحانی کالز کبھی ڈراپ نہیں ہوتی تھیں ۔۔
تم ہم سب کی دعاؤں میں ہو نسیم
جلد ملیںگے ۔۔ روپا نے گلے لگاتے ہوئے الودعی جملے کہے
باہر بارش اور بھی تیز ہو گئی تھی ۔۔۔ اور یوں لگ رہا تھاجیسے میرا وجود قطرہ قطرہ بارش کے سنگ ناچ رہا ہو۔
اے ہواؤ !
تم پتوں اور پھولوں سے
آخر ایسا کیا کہتی ہو جسے سن کر
وہ خوشی سے جھومنے لگتے ہیں
اے بارشو !
جب ۔۔ تم
پھولوں کے کانوں میں رم جھم گنگناتی ہو
پتوں کے شانوں کوپیار سے تھپتھپاتی ہو
شیشے کی بند کھڑکیوں پر دستک دیتی ہو
آخر ایسا کیا کہتی ہو جسے سن کر
سب کھلاکھلا پڑتے ہیں
اور تقدیس سے زمین کے پیروں پر جھک جاتے ہیں
سنو اے ہواؤ ۔۔۔ اے بارشو
تمہاری باتیں بڑی میٹھی ہیں
ان میں خواب اور دلداری ہے
اے میرے خدا
مجھے بھی ہواؤں اور بارشوں کی طرح
فطرت سے ہمکلام ہونا ہے
مجھے محبت ہونا ہے !!!
(ڈاکٹر نگہت نسیم)
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














پاکیزہ روح نگہت تمہارے لئے خاص طور پر صحت ، خیر و عافیت خوشگوار زندگی کی دعائیں پیار اور جس جس نے تمہیں سکون اور خوشی دی ان سب کو بھی دلی دعائیں
بہت ہی عمدگی سے تحریر کیا
شاداب رہیں
بہترین تحریر