کرونا وائرس نے بت کدوں کو ویران کردیا، کعبہ بھی سنسان ہے، دیوار گریہ اور کربلا میں اتنا ویرانہ ہے کہ وہ خود پہ نوحہ کناں ہیں، ویٹی کن سٹی کے کلیساؤں میں ہُو کا عالم ہے، یروشلم کی عبادت گاہیں سائیں سائیں کررہی ہیں۔
وضو کو کرونا کا علاج بتانے والے مذہبیوں نے کعبے کو زم زم کے بجائے جراثیم کش ادویات سے دھویا ہے، گئوموتر کو ہر بیماری کی دوا بتانے والے پنڈت کہیں منہ چھپائے بیٹھے ہیں، کلیساؤں کی گھنٹیاں پیروکاروں کے درد کا مداوا نہیں کررہیں۔
کرونا وائرس نے عقیدت کا جنازہ نکال دیا ہے، شراب کو حرام بتانے والے الکحول سواب کی مدد لے رہے ہیں، ارتقائے حیات اور بگ بینگ تھیوری کی بنیاد پر سائنس کو تماشہ کہنے والے لیبارٹریوں کی جانب تک رہے ہیں کہ یہیں سے وہ نسخہ کیمیا نکلے گا جو دنیا کے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچاسکتا ہے۔
کرونا نے انسانوں کو خیالی دنیا سے نکال کر ایک حقیقی دنیا کا چہرہ دکھایا ہے، اپنی بقا کی سوچ نے انسانیت کو مجبور کردیا کہ وہ سچ کا سامنا کرے اور سچ یہی ہے کہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر تو شاید مکالمہ ہوسکتا ہے مگر مذہبی عقیدت کی بنیاد پر کبھی دنیا کے فیصلے نہیں ہوسکتے۔
عثمان غازی














یہ آپ کی خام خیالی ہے وگرنہ آج بھی ان مسلمانوں سے بات کرو جن کو نچلے طبقے کا مسلمان بولتے ہو تو سب یہی کہیں گے موت برحق ہے نبی کا کہا برحق ہے اسلام سچا مذیب ہے اور آپ جیسے نام نہاد ہی ان خرافاتی لیبارٹریوں کو دیکھتے ہیں اور ان سے شفا کے امیدوار ہیں ۔ وگرنہ ہمارا یقین نا تو اس وقت متزلزل ہوا جب طاعون پھیلا اور نا اب اس یقین میں کمی ہے ۔ یقین میں کمی مغرب اور مغرب زدہ لوگوں میں ہے ۔ چاہے وہ یہودی ہوں چاہے وہ ہندو ۔ عیسائی یا کیمونسٹ یا بدھ یا مسلم ۔
الحمد للہ نا عقیدہ کمزور ہے اور نا ہی عقیدت ۔۔۔۔