لائن کٹ گئی کے بعد پیش خدمت ہے بینچ ٹوٹ گیا، سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ میں فقط تین دن رہ گئے ہیں مگر ان پر تنقید کا سلسلہ ابھی سے شروع ہوگیا ہے۔ اس بار لنکا کسی اور نہیں بلکہ گھر کے بھیدی نے ڈھائی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کس طرح کی سخت تنقید اور سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ وہ اپنے بعض فیصلوں کی بنا پر اس ملک میں نہ رہ پائیں، گو کہ انہوں نے کچھ تاریخی فیصلے بھی کیے ہیں جنہیں عدالتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جیسے آسیہ بی بی کا کیس ہے جس پر نامور جریدے ہیرلڈ نے انہیں 2018ء کی بہترین شخصیت قرار دیا۔

تو بات ہو رہی تھی کہ گھر کے بھیدی کی، اس بار چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف آواز کہیں اور سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے ہی اٹھی ہے، سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے 9 مئی 2018ء کے واقعہ پر آٹھ ماہ بعد یعنی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے فقط چار دن پہلے خاموشی توڑتے ہوئے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پشاور میں بینچ ازسر نو تشکیل دینے کا چیف جسٹس کا فیصلہ غلط تھا اور وہ جسٹس قاضی فائز سے اتفاق کرتے ہیں۔ چھ صٖفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ 9 مئی کے دن پشاور میں انسانی حقوق کے مقدمات سنتے ہوئے ایک موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل سے پوچھا کہ کیا ہیومن رائٹس سیل کے ڈائریکٹر کو یہ کیس اس طرح لگانے کا اختیار تھا تو چیف جسٹس نے اس اختلاف پر فوراً کہا کہ یہ بینچ ٹوٹ گیا ہے اور ہم ازسر نو بنچ تشکیل دیں گے۔ جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلے کے مطابق دوبارہ عدالت لگی تو اس میں جسٹس قاضی فائز شامل نہ تھے، چیف جسٹس اور انہوں نے مقدمات سنے۔

بعد ازاں جسٹس قاضی فائز نے اختلافی نوٹ لکھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ وہ آج تک انتظار کرتے رہے کہ 9 مئی کو سنے گئے مقدمات میں چیف جسٹس تحریری حکم جاری کریں گے اور جسٹس قاضی فائز کے نوٹ کا بھی جواب دے کر آئینی سوالات کا جواب دیں گے مگر تاحال ایسا نہ کرنے پر وہ یہ فیصلہ لکھ رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس 17 جنوری کو ریٹائر ہو رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ وہ اپنے ساتھی جج قاضی فائز سے متفق ہیں کہ چیف جسٹس کا ان مقدمات میں بینچ کا دوبارہ تشکیل دینا غیر ضروری تھا اور اس کی عدالتی مثال پہلے نہیں ملتی جس سے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق اس دن ازسر نو تشکیل دئیے گئے بینچ کی جانب سے سنے گئے مقدمات کی دوبارہ سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیئے جائیں اور مقدمات کے اسٹیٹس کے حوالے سے عدالتی ریکارڈ کو درست کیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ 9 مئی کو سنے گئے کچھ مقدمات کے حکم نامے ان کے سامنے دستخط کرنے کیلئے لائے گئے مگر انہوں نے اس لئے انکار کیا کہ پہلے جسٹس قاضی فائز کے نوٹ کا جواب لکھا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلے کے نکات سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ناتھمنے والی تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سارے معاملات اور بھی کھلیں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا کس حد تک درست استعمال کیا۔ ڈیم فنڈ اور عدالتی ایکٹویزم پر بھی بہت سوالات اٹھ رہے ہیں۔

نادر بلوچ

SHARE

LEAVE A REPLY