ممتاز صحافی اور براڈ کاسٹر رضی احمد رضوی بھی چل بسے۔
اس خبر سے سخت صدمہ ہوا کہ پاکستان کے ایک اور بزرگ صحافی اور براڈ کاسٹر رضی احمد رضوی کا اسلام آباد میں انتقال ہو گیا۔ یہ خبر لطافت علی صدیقی نے فیس بک پر شیئر کی ہے۔جسے پڑھ کر بڑا صدمہ ہوا کہ پاکستان ایک اور بڑے صحافی اور نشریاتی ماہر سے محروم ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے۔ وہ مستقل واشنگٹن امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ پاکستان کے دورے پر تھے کہ ان کو دل کا دورہ پڑا۔فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ بڑے صحافی اور نامور براڈ کاسٹر اور پروڈیوسر تھے۔ان کا نام ۱۹۷۰ کے عشرے سے سن رکھا تھا۔وہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی پی پی آئی سے وابستہ اور ڈھاکا میں اس کے نمائندے تھے۔ ان کے بارے میں زیادہ علم اس وقت ہوا جب ہم ۱۹۷۰ میں متحدہ پاکستان کے ڈسٹرکٹ ایڈیٹر بنے اور پورے پاکستان کے ضلعی اور تحصیل کی سطح کے نامہ نگاروں سے ہمارے روابط قائم ہوئے۔ ہمارے ضلعی نامہ نگار اپنے ضلع کے ان نامہ نگاروں کا اکثر ذکر کرتے تھے جو صحافت میں بڑا نام اور جن سے ان کا مقابلہ رہتا تھا۔ڈھاکا کے ہمارے نمائندے زین العابدین ان کا ذکر بھی کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ ان کا تعلق کراچی ہی سے ہے۔سقوط ڈھاکا کے بعد وہ کراچی آگئے اور پی ٹی وی جوائن کیا۔پاکستان میں ان سے ہماری ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔کراچی پریس کلب یا ہمارے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی بھی ہو تو کم ازکم ہمیں یاد نہیں لیکن ان کا نام ہمیشہ بڑے صحافیوں میں ہوتا تھا اور ہر صحافی ان کا نام بڑے احترام سے لیتا تھا۔پی ٹی وی اور ریڈیو میں خدمات انجام دیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ان کا شمار صحافت کے قابل احترام استادوں میں ہوتا تھا۔
رضی رضوی سے ہماری ملاقات پاکستان میں تو نہ ہوئی لیکن ۲۰۱۹ میں ان سے واشنگٹن میں اس وقت ملاقات ہوئی جب ہم چند روز کےلئے واشنگٹن میں تھے اور ہم نے عملی صحافت میں ۵۲ سال کا عرصہ مکمل کرلیا تھا اور پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان امریکہ پریس ایسوسی ایشن (پاپا) نے ہمیں لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ دیا تھا۔ہمارے ساتھ وائس آف امریکہ کے جن اور صحافیوں کو یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ان میں دوسروں کے علاوہ رضی احمد رضوی بھی شامل تھے اور وہیں ان سے یہ بھی علم ہوا کہ انہوں نے بھی اپنی صحافت کا آغاز ہماری طرح ۱۹۶۷ ہی میں کیا تھا۔جن دوسرے صحافیوں کو ہمارے ساتھ یہ ایوارڈ دیاگیا تھا ان میں ہمارے کلاس فیلو سید قمر عباس جعفری، اسد نذیر، مسعود اللہ خان،مختار خلیل اور ڈاکٹر منظور اعجاز شامل تھے۔وہیں یہ علم ہوا کہ وہ کافی عرصے سے امریکہ میں ہیں اور وائس آف امریکہ کے سینئر ترین صحافیوں میں شامل اور اس کی اردو سروس کے سربراہ بھی ہیں۔وہ ابھی حال ہی میں وائس آف امریکہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ پی پی آئی، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور وائس آف امریکہ میں ان سے سینکٹروں صحافیوں نے خبر سازی اور نشریاتی امور میں رہنمائی حاصل کی۔
عارف الحق عارف
ممتاز صحافی اور براڈ کاسٹر رضی احمد رضوی بھی چل بسے۔
794
0












