اسلامی طرزِ زندگی (12)۔۔۔۔۔شمس جیلانی

0
869

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہنچے تھے۔ کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ ماں بہن بھائی بیوی اور بچے اسے عار دلا ئیں گے اور اس طرف جا نے پر مجبور کردیں گے اور وہ غلط کاموں میں پڑکر خود کو تباہ کر لے گا۔اب آگے بڑھتے ہیں۔
آج کے معاشرہ میں غیبت کرنا کارِ ثواب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ گناہِ کبیرہ میں سی ایک ہے۔یہاں میں جو حدیث پیش کرنے جا رہا ہوں اس میں سخت وعید ہ ہے۔حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ فرمایا رسول ﷺاللہ نے کہ جس کے سامنے اس کے مسلمان بھا ئی غیبت ہورہی ہو اور وہ اس(بھائی) کی حمایت پر قدرت رکھتا ہواور حمایت کرے اللہ تعالیٰ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی حمایت فرما ئے گا۔اور اگر قدرت رکھتے ہوئے اس کی حمایت نہ کی تو اللہ تعالیٰ اس پر گرفت فرما ئے گا(شرح السنہء حیات المسلمین)
مسلماں بھائی سے بحث و مباحثہ۔حضرت ابنِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدسﷺ نے ارشاد فرمایااپنے مسلمان بھائی سے بلاوجہ بحث نہ کیا کرو۔ نہ ایسی دل دلگی کیا کرو کہ اسے ناگوار گزرے اور نہ ہی ایسا وعدہ کیا کرو جس کو تم پورا نہ کر سکو(ترمذیحات المسلمین)
پاکی و صفائی۔حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان اپنے گھروں کے صحن کو صاف وستھرا رکھا کریں کیونکہ وہ ایک قوم کے مشابہ ہیں جو اپنے گھروں صاف ستھرا نہیں رکھتے رکھتے ہیں (طبرانی)ایک دوسری جگہ حضرت ابو ہریرہ (رض) راوی ہں کہ فرمایا رسول ﷺاللہ نے کہ اللہ تعالعالیٰ نے کہا کہ اسلام کی بنیاد پاکیزگی پر رکھی ہے اور جنت میں وہی داخل ہوگا جو پاک اور صاف ہوگا۔ مسلمانو!اپنے جسموں کو پاک اور صاف رکھاکرو(ابوالصنعا)
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے یہاں ملاقات کے لیئے حضورﷺ تشریف لا ئے توآپﷺ نے ایک آدمی دیکھاجو گرد و غبار میں اٹا ہوا تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔فرمایا ﷺاس آدمی کے پاس کوئی کنگھا نہیں ہے جو اپنے باللوں کو درست کرلیتا۔ جبکہ آپﷺ نے ایک دوسرے آدمی کو دیکھا کہ جس نے کپڑے میلے پہن رکھے تھے تو فر مایا اس آدمی کے پاس وہ چیز(صابون وغیرہ )نہیں ہی جس سے یہ اپنے کپڑی دھولیتا۔(مشکواۃ)حضرت ابو ہریرہ فر ماتے ہیں (رض) کہ رسول ﷺاللہ نی ارشاد فرمایاکہ جس شخص کے سرپر اور داڑھی کے بال ہوں اس کے چاہیئے کہ ان کو اچھی طر ح رکھے(ابوداود۔ مشکواۃ)
کسی کی مدح سرائی میں مبالغہ۔رسول ﷺاللہ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے سنا تو فرمایاﷺ کے تم نے توا س کو برباد کردیا۔ایک اورموقع پر کسی کو فرمایا کہ تم نے تواس کی گردن ماردی۔ اگر تم کو تعریف ہی کرنا ہی تو یوں کہوکہ میں یہ گماننکرتا ہوں بشرطِ کہ وہ اس کے علم میں واقعی ایساہو اور قطعیت کے ساتھ غیب پر حکم نہ لگانا چاہیئے(صیح بخاری سیرت النبی ﷺ)
قناعت۔ فضالہ بنت عبید ؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ خوشخبری ہواس کو جس کو اسلام کی ہدایت ملی۔اس کی روزی ضرورت کے مطابق ہے اور اللہ تعالٰ نے اس پر اس کو قانع بنادیا(زوائدصحیح ابن حبان۔ سیرت النبیﷺ)
بہتان پر سزا۔۔۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اپنے غلام یا نوکرپر تہمت لگا ئے حالانکہ وہ بے گناہ ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مالک کی پیٹ پر کوڑے لگا ئے گا۔نیز یہ کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس میں جو برائی نہ ہواس کی طرف اس کی نسبت کرنا بہتان ہے اس سے بچنا چاہیئے(سنن ابوداود۔سیرت النبیﷺ)
بزرگوں کی تعظیم۔حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺاللہ نے ارشاد فرمایا کہ جس جوان کسی بوڑھے شخص کی اس کے بڑھاپے کے سبب تعظیم اور تکریم کی تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑھاپے کے لیئی ایسے شخص کو مقرر کر دیگا جواس کی تعظیم اور تکریم کریگا(ترمذی۔مشکواۃ)
کسی مصیبت زدہ کا مزاق اڑانا۔۔۔حضرت واثلہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرورنہ اللہ اس پر رحم فرما ئے گا اور تجھکو مصیبت میں ڈالدے گا(ترمذی)

SHARE

LEAVE A REPLY