انیلا بخاری کا تعلق پاکستان سے ہے انہوں نے امرتا پریتم کے شہر گوجرانوالہ میں آنکھ کھولی’ یہ اردو ادب میں گریجویٹ ہیں ‘انہوں نے کم عمر بچیوں کی شادی کے حوالے سے عالمی لیول پر “مہم چلائ جو کی خاصی کامیاب بھی ہوئ ان کی اس مہم میں گیارہ ممالک نے حصہ لیا جن میں افریقہ امریکہ ترکی متحدہ عرب امارات اور جارجیا سمیت کئ ممالک شامل تھے’ انیلا بخاری بچوں کے حقوق کی ایک سرگرم رکن ہیں ‘ ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں لندن سے انٹر نیشنل کمیونٹی سروس ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا ہے ” انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے نمایاں کام کیا۔ اور دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آگاہی دن متعارف کروایا ” ان کی سات کتب انگریزی زبان میں شائع ہوچکی ہیں ” انہوں نے نابینا افراد کی آسانی کیلئے ایک یوٹیوب چینل بھی بنایا ہے اور وہاں ان کیلئے شاعری اپلوڈ کی جاتی ہے’ انیلا بخاری کی نظمیں فلوریڈا کی آرٹ گیلری فلپائن کی کافی شاپس اور کولمبیا کی بہت سی گیلریز میں آویزاں ہیں”
ماں کے نام
مجھے معلوم نہیں تھا یہ کہ
ماٸیں دھڑکن جان لیتی ہیں
تکیۓ میں آخری شب کتنے آنسو بہاۓ ہیں
کتنی سسکیاں بھری ہیں ہاتھ منہ پر رکھ کر
ڈاٸری میں رکھے کتنے گلابوں کی پتیاں سوکھی ہیں
یا پھر۔۔۔۔۔
ماضی کے سخت واروں کی یاد نے
سینے میں خنجر کہاں تک گھونپا ہے
انہیں معلوم ہوتا ہے سب
کتنے لفظ سل گۓ ہیں ہونٹوں میں
کتنی لاحاحل تمناٸیں دفن ہیں
سینے میں
کتنی شرارتوں کی چمک ہے آنکھوں میں
یا کس کا ساتھ پانے کو مچل رہی ہے روح
کس کی باتوں سے کھل رہا ہے خون ہمارا
کب کب کہاں کہاں کس نے کتنا زخم کھایا ہے
ان ماٶں کو آتے ہیں ماپنے کے سب آلے۔۔۔
درد کی شدت کو کم کرنے کا فارمولا
ان کی بوڑھی نحیف و نزار انگلیوں کے لمس میں ہے اس قدر زیادہ
کہ ٹوٹے دل کو جوڑدینے کا شفاء بخش ہنر ہے پاس ان کے
میں جب بھی ٹوٹ کر اس کے پاس آٶں تو لگتا ہے
میری ان پڑھ ماں کو آتے ہیں
نصاب محبت کے سارے
چومتی ہوں جب ہاتھ اس کے کانپتے ہونٹوں سے
تو لگتا ہے کافور کی برودت ہو
اس کے قدموں تلے جیسے
جھک جاٶں تو روح میری جنت کی چوکھٹ چومتی ہے
میری ماں کا ہاتھ جب سر پر آۓ تو
فلک پر حور جھومتی ہے
میری آنکھوں سے نکلنے والے ہر آنسو
کے اندر کتنے دکھ چھپے تھے
ان بہاٶ کا بہاٶ بھی اسے معلوم ہے
رات کی تاریکی میں گرم شال لپیٹے
کتنی بار میں روٸ
وہ اس سے بھی باخبر ہے
اسے اتنا بھی پتا ہے کہ اپنے مقدر کی تاریکیوں کو اس سے چھپانے کی خاطر
کس حوصلے سے پوروں سے آنسو صاف کر کے اس کے پاس مسکراتی ہوٸ آتی ہوں میں
اور مجھے حیرت کا دھکچا اس وقت لگتا ہے جب وہ مجھے ماتھا چوم کر کہتی ہے
چلو چھوڑو۔۔۔یہ قہقہوں کا بھرم
بتاٶ ماں کو تو آخر ماں سے کیا چھپانا
بیٹی“
اداس کس بات پر ہو ؟
چہرے پر تمہارے دکھوں کا سایہ کیوں منڈلایا ہے
یاد رکھو ماں تو وہ ہستی ہوتی ہےکہ
اولاد خواب میں بھی ڈر جاۓ تو
مری ماں کی قبر کانپ جاتی ہے!
انیلا بخاری
”لاٶ مجھے اپنا ہاتھ دو“
اے کاٸنات کی زمین پر
دکھوں کے ساگر میں غوطے کھاتے
جوانو ۔۔۔
بے بسی اور بے چارگی کے زخم کھا کر مسکراتٸ ہوٸ دوشیزاٶ
اپنے وجود سے بھی بھاری غموں کا
گٹھر اٹھاتے بچو
ہجر کا درد سہتے لوگو
لاٶ مجھے اپنا ہاتھ دو
اس سے پہلے کہ ناامیدی کے سمندر میں غرق ہوجاۓ تمہارا وجود
حسین شاموں کو اداسی کی شالوں میں گزارتی تھکی ہوٸ روحو
میرے کندھے منتظر ہیں
تمہاری شب الم کی داستان سننے کو
اپنے دلوں پر بیتی دلسوز کہانی
مجھے سنادو اس سے پہلے
کہ شدت غم سے تمہارے ہونٹ سل جاٸیں
مجھے اس سے کوٸ فرق نہیں پڑتا کہ تم لوگ کیسے دکھتے ہو
اچھے یا برے ہو
ہو تو رب کے بندے
سنوں گی میں تمہاری ساری کہانی
زخموں پر نمک چھڑکتے اپنوں کے ظلم
بھاٸ باپ کے شملوں کی لاج رکھتی حسیناٶں کے دکھ
یا پھر جرم کر کے پچھتاوے میں جلتے وجودوں کی کتھا
سناٶ مجھے اپنا حال دل
میرا دل
کھلا ملے گا تمہیں کسی دربار کی مانند
جو شب کے آخری پہر بھی بند نہیں ہوتا
بھیگے ہوۓ تکیوں کی کہانی مجھے سناٶ
منتظر رحم کے ہو تو مجھے بتاٶ
میرے کندھے موجود ہیں پوری انسانیت کیلۓ
جس مذہب جس مسلک سے بھی ہو
چلے آٶ
تم جس فرقے سے بھی تعلق رکھتے ہو
میرا تمہارا ساتھ پرانا ہے
میں ہی تو بہتی ہوں تمہارے وجودوں میں خون بن کر
تمہارے دلوں کی دھڑکن شاید میرے
ساتھ کی ہے
تم اندیشوں اور وسوسوں کے ڈر سے
نہیں سناتے اپنی کہانی تو نہ سہی
مگر سمندر میں غرق ہوتے لوگو
سنو لاٶ مجھے اپنا ہاتھ دو
تاکہ نکالوں میں تمہیں ناامیدی کے دلدل سے
میرا ہاتھ گواہ ہوگا اس پر
کہ بھٹکتی ہوٸ بے ضمیر زندہ لاشوں کی بھیڑ اندر
کچھ انسانوں میں آج بھی انسانیت زندہ ہے
انیلا بخاری













