پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت نااہلی کیس میں عدالت میں 40 سال کا ریکارڈ پیش کرنے کا دعویٰ کردیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ساری دنیا جانتی ہے کہ میں نے کرکٹ کھیل کر لندن میں فلیٹ خریدا اور جسے فروخت کر کے پیسہ پاکستان میں لایا، یہ لوگ میرے لندن فلیٹ کا اپنے اربوں کے محلات سے موازنہ کر رہے ہیں، ایک کھلاڑی 60 لاکھ روپے کا فلیٹ لیتا ہے اس کا مقابلہ چوری کے پیسہ باہر بھیجنے والے سے کرایا جارہا ہے، کہاں 60 لاکھ کا فلیٹ اور کہاں حسین نواز کا ساڑھے 600 کروڑ کا گھر، جبکہ وزیر خزانہ اسحٰق دار کے دبئی میں ڈیڑھ، ڈیڑھ ارب روپے کے گھر ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں 24 سال کا تھا جب بیرون ملک کرکٹ کھیلنا شروع کی، صرف میرے نہیں میرے ساتھ کھیلنے والے دیگر کھلاڑیوں کے بھی لندن میں فلیٹ تھے، جبکہ میرے باہر کمائے گئے پیسے پر ٹیکس وہاں لگنا تھا لیکن اس ملک نے تو کچھ نہیں کہا۔‘

عمران خان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے عدالت میں 40 سال کا ریکارڈ ڈھونڈ کر دے دیا ہے، میں نے فلیٹ سے متعلق بینکنگ ٹرانزیکشنز دکھادیں، فلیٹ لینے کی منی ٹریل جو ناممکن تھی وہ بھی عدالت میں دکھا دی، کیس فائل کرنے والوں نے عدالت میں ابھی تک ایک بینک ٹرانزیکشن نہیں دکھائی، جبکہ انہوں نے جو دستاویزات دیں وہ فراڈ نکلیں۔‘

انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’لاہور میں دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا لیکن وزیر اعظم مالدیپ چلے گئے، ملک کو اس وقت چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے لیکن وہ ہے ہی نہیں۔‘

حکومتی وزرا، مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان پر نشتر کے تیر برساتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ساری حکومت وزیر اعظم کی کرپشن بچانے میں لگی ہوئی ہے، بجائے اپنی صفائی پیش کرنے کے، کہا جارہا ہے کہ ملک میں باقی بھی سب کرپٹ ہیں، لوگوں کو خریدنے کے لیے پیسہ استعمال ہو رہا ہے، یہ قوم کو پاگل سمجھتے ہیں اور دونوں بھائی معصوم شکلیں بنا کر 30 سال سے قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کسی جمہوریت میں یہ نہیں سنا کہ کسی ملک کا وزیر اعظم اقامہ لے کر دوسرے ملک کا سیلز منیجر بنا ہو، جھوٹ بول بول کر ان کی نسیں پھولی ہوتی ہیں، ارسطو بنا ہوا ان کا ایک وزیر بڑی معتبر باتیں کرتا ہے لیکن وہ بھی ایک ملک کا اقامہ لے کر بیٹھا ہے، یہ سارے قوم کے مجرم ہیں اور واقعی گاڈ فادر ہیں، جبکہ (ن) لیگ میں شاید ہی کوئی ایک نمبر شخص ہو۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY