دو اگست انیس سو نوے کو کویت پر عراق کا حملہ آج بھی میرے زہن میں تازہ ہے اور ہر سال اسی تاریخ کو یہ سب واقعات میرے ذہن میں ایک بار پھر تازہ ہو جاتے ہیں۔ ان واقعات سے قبل چند باتیں مختصر طور پر کویت کے بارے میں

کویت ایک بہت چھوٹا سا امن پسند ملک ھے جو اپنے تیل کے ذخائر کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل ھے ۔کویت کے معنی چھوٹا قلعہ ھے۔کویت کا کل رقبہ 17818کیلو میٹر اور اسکی آبادی 7۔2 ملین ھے

تیل کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں 5 ویں نمبر ھے۔ تیل کی یہ دولت کئی سو سال تک ختم یا کم نیہں ھونے والی نہیں۔ کویت کے دینار کی قیمت بھی دینا کی ھر کرنسی کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی
کویت دینا کا خوش حال ترین ملک ھے

یہ 25 فروری 1961کو آزاد ھوا تھا ۔ کویت دیگر خلیجی ممالک کی طرح یہاں کا موسم گرم ھے ۔ کویت کا پرچم چار رنگوں سے بنا ھوا ھے ۔ سفید کالا ھرا اور لال رنگ

کہا جاتا ہے کہ تاریخ میں ’کویت ‘ کا نام پہلی بار سکندراعظم کے زمانے میں استعمال میں آیا۔ اس نے جزیرة فیلکا کو بسایا اور اس کا نام ایکاروس رکھ دیا۔سترہویںصدی اور اس سے پہلے یہ خطہ ’قرین‘ کے نام سے جانا جاتا تھا جس کے معنی ٹیلا، تودہ اور اونچی زمین کے آتے ہیں ۔ جدید ’کویت ‘ کی تاریخ سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی کے آغاز سے شروع ہوتی ہے ۔ بنو خالدکا قبیلہ سرزمین نجد سے تعلق رکھتاتھا ۔ انہوںنے اس شہر کی داغ بیل ڈالی اورشہر کے اطراف قلعہ کی تعمیر کروائی ۔قلعہ کی دیواریں پہلی بار 1760ءمیںپایہ ¿ تکمیل کو پہنچیں۔ آل صباح کا تعلق اسی قبیلے سے تھا ۔ نجد سے نکل کر اس خاندان نے یہاں پر سکونت اختیار کی ۔اس عہد میں یہ شہر پھولا پھلا اور دنیا والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔آل صباح کے خاندان نے اس کی تعمیر و ترقی میں بڑی قربانیاں دی تھیں ۔ لوگوں نے ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے 1752ءمیں صباح بن جابر رضى الله عنه کے ہاتھوں پر بیعت کی اور ان کو اپنا حاکم تسلیم کیا ۔

iraq kuwait1

ایک تجارتی شہر پر ہر کسی کی نظر ہوتی ہے ۔ قدیم زمانے ہی سے کویت ایک اہم تجارتی مرکز مانا جاتا تھا اور اس کی بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت اور لین دین کے سلسلے میں اہم رول ادا کرتی تھیں۔ اس لیے اس پر دشمنوں کے حملے کا اندیشہ ہمیشہ رہا ہے ۔ جدید کویت کی تعمیر کے بعد اس پر ترک عثمانیوں کی نظر تھی۔انیسویں صدی میں عثمانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا ۔ 23 جنوری 1899 میں شیخ مبارک نے برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ، جس کا مقصد عثمانیوں کے چنگل سے کویت کو نکالنا تھا ۔اس معاہدہ کی وجہ سے برطانیہ،کویت کے خارجی پالیسی پر مکمل طور پر حاوی ہوگیا۔ اس کے بعد 1913 میں اینگلو عثمان سمجھوتے پر دستخط کے بعد حکومتِ برطانیہ اور عثمانی حکومت نے امیرِ کویت ’شیخ مبارک الصباح‘ کوخود مختار کویت سٹی کے حکمراں کے طور پر نامزد کیا۔مگر پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے کے فورا ًبعد اس معاہدہ کو توڑتے ہوے برطانیہ نے اعلان کیا کہ’کویت‘ سلطنت برطانیہ کے ماتحت ایک آزاد بادشاہی نظام والا ملک ہے“۔ ’شیخ مبارک الصباح‘کے دور میں کویت میں تعلیمی بیداری پیدا ہوی ۔ 1911 ء میں ’مدرسہ مبارکیہ ‘ کے نام سے کویت کا سب سے پہلا تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا تھا ۔یہ نسبت شیخ مبارک ہی کی طرف تھی ۔

انہیں کی ایماءپر1914 ءمیں’مستشفیٰ امریکی‘ کے نام سے ’کویت سٹی‘ میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی ۔ یہ کویت کی پہلی عمارت تھی جس میں سمینٹ اور لوہے کا استعمال ہوا ۔1915 ءمیں جب شیخ مبارک رحلت فرماگئے تو ان کے بڑے بیٹے شیخ ’جابر المبارک الصباح‘ ان کے جانشین بن گئے ۔ ان کی مدّت حکومت صرف دو سال تھی ۔ ان کے بعد ان کے برادر شیخ ’سالم المبارک الصباح ‘ نے تاج و تخت سنبھالا۔ کویت کی تاریخ میں سب سے بڑا معرکہ’معرکة الجھرائ‘ انہیں کے زمانے میں پیش آیا ۔نجدی حکومت کے ساتھ حدود کا مسئلہ اس کا اہم سبب تھا ۔ 1921 ءمیں شیخ احمد جابر الصباح حکومت کی کرسی پر براجمان ہوے ۔ آپ بڑے دلیر ، حاضر دماغ اور دور اندیش لیڈر تھے ۔ مشکل گھڑیوں میں بڑی آسانی سے اپنی قوم کو بچ نکلنے کا راستہ دکھا دینا ان کی خا صیت تھی۔1937 ءکوشیخ احمد جابر الصباح کے عہد ہی میں کویت میں پہلی بار ’پٹرول ‘ دریافت ہوا اور30 /جون 1946 ءکوپہلی بار زیرِ زمین سے ’پٹرول ‘ برآمد کیا گیا ۔ 1948 ءکوشیخ احمد جابر الصباح ہی کے دورِ حکومت میں ’احمدی‘ شہر کی بنیاد ڈالی گئی جو انہیں کے نام کی طرف نسبت رکھتا ہے ۔1950 ءمیںشیخ احمد جابر الصباح وفات پاگئے اور عبد اللہ السالم الصباح کویت کے امیر قرار دیے گیے۔یہ وہ پہلے امیر تھے جنہوں نے کویت میںسیاسی زندگی کو نظم سے جوڑا اور یہاں پر سیاست کو ایک نیا رُخ دیا ۔ انہوں نے اس کے لیے ایک دستور بھی وضع کیاجس کی وجہ سے انہیں ’ابو الدستور ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کے عہد میں وسیع پیمانے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوا جس کی بنا پر قلعہ کی دیواریں منہدم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور 1957 ءکوقلعہ کے پانچ مرکزی دروازوں کو باقی رکھتے ہوے ساری دیواریں گرادی گئیں ۔

کویت دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہے ۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پانچواں امیر ترین ملک ہے ۔ کویت کی حکومت کو ایک مضبوط معیشت حاصل ہے ۔زیرزمین سے بر آمد کیا جانے والا تیل ہی اس کی مضبوط معیشت کی بنیاد ہے۔ 1934 ءسے 1937 ءزیرِ زمین تیل کی ناکام تلاش کے بعد فروری ، 1938 ءکو پہلی بار کویت کی ریتیلی اراضی ’برقان ‘ میں دریافت کیا گیا ۔یہ دنیا کادوسر ا بڑا قطعہ ہے جہاں زیرِ زمین تیل کا وافر مقدار موجود ہے ۔2009 تک کویت کے تیل کی پیداوار ی صلاحیت یومیہ 2.494 ملین بیرل تھی۔اس کا دعوی ہے کہ عالمی سطح پر اس کے پاس 7.6% یعنی 101.5 بلین بیرل تیل کے ذخائر ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کا پانچواں ملک ہے جس کے پاس تیل کے ذخائر کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔

پٹرول کے علاوہ گیس اور بعض دیگر مصنوعات پر بھی کویت کی معیشت انحصار کرتی ہے ۔ جھینگےدر آمد کرنے والا سب سے بڑا ملک کویت ہی ہے ۔کویت نے کئی ایک بیرونِ ملک کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ جیسے مرسڈیس بنز کمپنی ، Q8آئل کمپنی اور برٹش پٹرولیم میں اس کی حصہ داری ہے ۔ تیل کی دریافت سے پہلے کویتی دوسرے خلیجی ملک والوں کی طرح فنِ غواصی میں مہارت رکھتے تھے ۔ اس کے ذریعہ سمندر کے پیٹ سے موتیاں چن لاتے جواس وقت ان کی معیشت کی بنیاد تھی ۔موتیوں کے بیوپاری ’طواشین‘ کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ کشتی کی صنعت کے لیے بھی کویت بہت مشہور تھا ۔ بلکہ کویتی کشتیوں کی اس وقت بڑی مانگ رہتی تھی ۔اس کے لیے تختے اکثر ہندوستان سے برآمد کیے جاتے تھے ۔ جو زیادہ تر ناریل یا ساگوان کے درختوں سے بنائے جاتے تھے ۔

iraq kuwait2

ھم طویل عرصہ سے کویت کی پرسکون سرزمین پر مقیم ھیں ھم نے اتنے برسوں میں صحراۓ کویت کو تیل کی دولت کی بدولت گل و گلزار بنتے دیکھا ھے

یہ آج سے 27 سال قبل کی بات ھے اسکی تفصیل میرے حافظے میں ایسے محفوظ جیسے کل کی بات ھو میں کیا کوئی بھی کویتی اور اس وقت کویت میں موجود غیر ملکی اس المناک دن کو نیہں بھول سکتے ۔ایک ایک منظر ایک ایک نقش سب حافظے کی دیوار پر محفوظ ھے

اس دن بھی صبح بیدار ھوتے ھی ھر روز کی طرح میں نے اپنا فلپس کا تھری ان ون ریڈیو آن کیا اور کافی بنانے کے ارادے سے کچن میں گئی ۔ ریڈیو سے روزمرہ کے پروگرام کے بجاۓ خاموشی تھی کبھی کھبی کوئ آواز آرھی تھی مگر مبہم سی ۔ میں ایک دم پریشان ھوگی ۔ گھر پر تہنا تھی ، عجیب سی الجھن نے گھیر لیا ۔ خوامخواہ گھبراھٹ ھونے لگی جیسے کچھہ ھونے والا ھو کافی بناتے ھوۓ بھی ایکدم انجانا سا خوف دامن گیر ھوگیا

میں نے کچن کی کھڑکی سے باھر دیکھا تو ایک ناقابل یقین منظر دیکھا اسلحہ سے لیس سخت چہرے والے بے رحم فوجی کھڑے تھے ۔یہ کویت کی فوج تھی نہ کویتی فوج کے یونیفارم میں ملبوس تھے
خونی چہرے والے خوفناک چہرے والے عراقی جدید ھتیاروں سے لیس ھمارے گھروں میں گھسنے کو تیار کھڑے تھے ۔مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ تھا ۔میں نے دروازہ کھولا باھر ایک دم سے شدید فائرنگ شروع ھوچکی تھی جگہ جگہ دھواں تھا آگ تھی چیخ وپکار تھی

ھمارے شامی پڑوسی ابو جاسم بالکونی اور دروآزے پر کھڑے لوگوں سے چیخ کر اندر جانے کو کہہ رھے تھے ، انکی اواز میں خوف کا عنصر صاف محسوس کیا جاسکتا تھا ،عراقی فوج نے کویت پر قبضہ کرلیا ، اندر جاو اندر جاو

یہ کسی اداس صبح تھی کہ میں بیدار ھوتے ھی شیخ شعراوی کی آواز نہ سن سکی نہ سورہ رحمان کی تلاوت سے اپنے نئے دن کا آغاز کرسکی ۔ یہ کیسی بدشگونی تھی ۔ھم فخر سے کہتے تھے کہ کویت بہت پرامن ملک ھے ھم کو بھی ڈر نیہں لگتا ، ھم نے کبھی خود کو غیر محفوظ نیہں محسوس کیا ۔ابو جاسم کی آواز میں خوف بھی تھا فکر مندی بھی تھی ۔وہ سبکو دروازہ بند کرنے کا حکم دے رھا تھا
کیونکہ کسی رعایت کا وقت تو گذر چکا تھا
اندر جاو اندر جاو
باھر خطرہ ھے
چلو کھڑکی بند کرو دروازہ بند کرو
گھر میں کسی محفوظ مقام پر رھو
باھر بہت خطرہ ھے

مجھے اسکی آواز بہت دور سے آتی محسوس ھور ھی تھی ۔ انجانے خوف کا شکار دل وسوسے میں گھرا ھوا تھا ، مجھے لگا جیسے یہ ایک خوفناک خواب ھے ابھی سب ٹھیک ھوجاۓ گا مگر یہ بہت خواب نہ تھا حقیقت تھی کہ عراق کی فوج دنیا کی چوتھی بڑی فوج نے دینا کے بہت چھوٹے سے ملک پر راتوں رات قبضہ کرلیا تھا ساری دینا کے لیے یہ اک انہونی بات تھی ،ابھی دینا موبائل ٹیکنالوجی سے چند قدم دور تھی بریکنگ نیوز کا چلن عام نیہں ھوا تھا ،بیرونی دینا کو علم ھوچکا تھا کہ صدام نے کویت پر قبضہ کرلیا ھے وہ تیل جیسی قیمتی بیش بہا دولت کو اپنے
ھاتھوں میں رکھنا چاھتا تھا ، کون تھا جو اسکی راہ میں حائل ھوتا

حملے سے قبل امریکی سفیر نے صدام کو یقین دھانی کرائ تھی کہ امریکہ عرب تنازعات میں دخل نیہں دیگا ،میں سوچتی ھوں کہ بھلا امریکہ عرب تنازعات سے کیسے دور رہ سکتا ھے ،تاریخ شاھد ھے امریکہ تو تنازعات کو ھوا دیتا ھے ،مسلمانوں کی ھلاکت پر خوش ھونے والا امریکا جس کے اشارے پر کویت پر قـبضہ کی سازش کی گی
عراقی فوج کے آگے ،کویتی شہریوں نے تھوڑی مزاحمت کی اور اپنے لہو سے کویت کی نئی تاریخ مرتب کی ،درجنوں کویتی شہید ھوچکے تھے بعد عراق نے کویت کے 600 تیل کے کنووں کو آگ لگا دی تھی

عراق کویت کو اپنا 19 وا ں صوبہ قرار دے چکا تھا شام تک پورے کویت پر عراق کی فوج قابض ھوچکی تھی کویت کے حکمران فرار ھوکر سعودیہ عرب بھاگ چکے تھے ،جنگ تو تباھی بربادی کا پیغام لیکر آتی ھے ،سارے زمینی راستوں پر فوج قابض ھوچکی تھی
ھر جگہ آگ
دھواں
بربادی
خوف و دھشت
لوٹ مار
تشدد قتل
مار پیٹ
عراقی فوج جو ایک ملین فوجیوں پر مشتمل تھی کویت پر مکمل طور پر قابض ھوچکی تھی

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا سن 1990 میں کویت پر حملے کے وقت ذہنی طور پر ‘بیمار’ تھے۔ صدام کا منحرف داماد ایک ‘سرطان’ بن چکا تھا جو اپنے سسر کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا تھا۔”

ان خیالات کا اظہار صدام حسین دور کے سابق مرد آہن اور ڈپٹی وزیر اعظم طارق عزیز نے عراقی حکومت کے سابق ترجمان علی دباغ کو خصوصی انٹرویو میں کیا تھا۔ تین گھنٹوں پر مشتمل یہ گفتگو صرف ‘العربیہ’ ٹی وی پر اٹھارہ اپریل کو نشر کی گئی
صدام حسین کے دست راست اور وزیر خارجہ طارق عزیز نے انٹرویو میں عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں کھل کر تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے صدام حسین کے خاندان سے اپنے بنتے بگڑتے تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عراقی صدر کے منحرف داماد حسین کامل کو ‘کینسر’ سے تعبیر کیا کہ جو اپنے سسر کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

علی الدباغ سے گفتگو میں طارق عزیز نے ان اطلاعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا جن میں کہا گیا تھا کہ جرمنی اور سپین نے عراق کو کیمیاوی ہتھیار فراہم کئے۔

امریکی قیادت میں کئے جانے والے حملے میں صدام حسین کا اقتدار سن 2003ء میں ختم ہو گیا تھا۔ ان کی حکومت پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا، جن کا سراغ آج تک نہیں مل سکا۔ صدام حسین کو اپنے دور اقتدار میں انسانیت سوز جرائم کی پاداش میں سن 2006ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

کویت پر عراقی حملے کے وقت ھر طرف یہی خبر تھی کہ سبکو گیس ماسک لینے پڑینگے عراق کسی وقت بھی زھریلی گیس کا استعمال کریگا ،ھم ڈر کے مارے گھر کی لائٹس بند رکھتے تھے ۔دن کے وقت بھی نقل و حرکت میں احتیاط برتے
گھر کا آضافی راشن ضرورت مندوں میں تقسیم کرکے مجھے بہت خوشی ھوتی جان کو کیہں محفوظ نہ تھی ،گھر میں بھی ڈر و خوف باھر موت کا خطرہ کیہں امان نہ تھی ھم سب کلمہ پڑھ کر سوتے اللہ جانے نیا دن دیکھانا نصیب ھوگا یا نیہں ،مگر اس مشکل گھڑی میں بھی اللہ پاک نے مدد کی اور ھم لٹ کر دو ماہ خوف و ھراس کے عالم میں گذار کر مصر آگئے
یہ ایک دوسری تکلیف دہ داستان ھے جس کا ذکر پھر کبھی سہی

آج نہ صدام ھے نہ جارج بش ،مگر دینا کے مختلف ممالک میں جنگ کا شیطانی کھیل جاری ھے ،جنگ تو صرف اور صرف تباھی کا راستہ دکھاتی ھے ،تباھی سے نقصان ھی ھوتا ھے ،مالی نقصان تو کسی طور پوری ھوجاتا ھے مگر جو بے گناہ انسان مارے جاتے ھیں انسانی جانوں کا نقصان ،ناقابل تلافی ھوتا ھے

شاہین اشرف علی۔ بیورو چیف عالمی اخبار خلیجی ممالک

SHARE

LEAVE A REPLY