میری امی نے ماتھے پر بوسہ دیا۔شاہین اشرف علی

0
1750

میری امی نے ماتھے پر بوسہ دیا۔شاہین اشرف

اپنی امی کی گودی میں سر رکھتے ہی
انکی خوشبو محبت دعاوں کی تاثیر سے
لطف ر فرحت کے ابواب کھلتے گئے
میری امی نے ماتھے پر بوسہ دیا لمحے بھر کے لیئے مجھکو ایسا لگا
میں بھی برگد کی
ٹھنڈی گھنی چھاوں میں آ گئی
خامشی خار بند راستے اور تنہائیاں
پرسش غم کی چہرے پہ پرچھائیاں
جسم و جاں میں لہو کی طرح دوڑتی
غم کی شہنائیاں
کئی دیدہ و نادیدہ مجبوریاں
اکتساب ہنر،ایک شکستہ بدن
درد کی کھائیاں
ان گنت گونگے دکھ
دربدر رائیگاں
مخزن حزن کی بزم آرائیاں
میری بے خواب آنکھوں کی ساری جلن
مفلسی،خستگی عمر بھر کی تھکن
ماں کی پاکیزہ خوشبو کے احساس نے
میری بے نور آنکھوں کو بینائی دی
ماں کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے مس کرتے ہی
خاک نے زخم دل کی مسیحائی کی
آج پھر یاد آتا ہے لمھحہ وہی
جب میری ماں نے ماتھے پہ بوسہ دیا
بس اسی ایک لمحے میں گریہ کناں
چشم حیرت زدہ
اب بھی باران درد کی صورت رواں
خونچکاں خونچکاں
درد دل ہے نہاں
یاد آتی ہے ہر لمحے مجھکو وہ ماں
جس نے ماتھے پہ میرے تھا بوسہ دیا

SHARE

LEAVE A REPLY