غیر مسلم ممالک میں بھی ذرائع ابلاغ کا کردار انتہائی مثبت دکھائی دیتا ہے مختلف میڈیا ہاؤسز سے تعلق رکھنے والے صحافی و اینکر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور دیانتداری سے ادا کرتے ہیں، انفرادی مفاد کو پس پشت ڈال کر اجتماعی ملکی و قومی مفادات کو ہر حال مقدم رکھتے ہیں ،،،کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل خوب چھان پھٹک ہوتی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ سچ جھوٹ کی کسوٹی پہ پرکھنے کے بعد تصدیق و تردید کے عمل کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے تاکہ قارئین کسی بھی خبر کو معیار کے پیمانہ پہ رکھ کے جانچ سکیں نتیجتاً ریاست سے متعلق کوئی نقصان دہ رائے عامہ ہموار نہ ہو سکے اور ملکی و قومی سلامتی کے معاملات متاثر نہ ہو پائیں،،مہذب معاشروں میں خبر کی صحت پہ کوئی سودا بازی نہیں کی جاتی اور حتٰی الوسع کوشش کی جاتی ہے کہ پڑھنے والوں تک مثبت خبر پہنچے۔۔یوںنظرین وقارئین تک ذریعہ خبر محض اطلاع ہی نہیں بلکہ ایک علم و شعور اور تربیت کی صورت منتقل ہوتی ہے جس کے ثمرات کئی نسلیں دیکھتی ہیں
وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ ایک تو اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے عوام کو دیدہ و دانستہ علم و شعور تو درکنار حالات حاضرہ سے بھی کوسوں دور رکھا دوسرا ذرائع ابلاغ پہ سطحی قسم کے واجبی تعلیم رکھنے والے غیر سنجیدہ غیر پیشہ ور خواتین و حضرات کو مسلط کر دیا۔۔۔اخبار و جرائد اور درجنوں نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ افراد اس مقدس پیشے کو اپنا ذریعہ روزگار سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنے قومی و ملکی فرائض سے نہ صرف عاری ہیں بلکہ مکمل طور پہ بے خبر ہیں ۔۔۔
“اقراء بسم ربک” کی اہمیت و منزلت سے ناواقف ہمارا ذرائع ابلاغ صرف منفی خبروں کی نشرو اشاعت میں ہی نہ صرف ملوث نہیں بلکہ اندرون و بیرون ملک تشویش ناک رائے عامہ قائم کر کے ملک و قوم کی سلامتی کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے لیکن ارباب اختیار اقتدار خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں ۔
آئے دن اکثر ٹی وی مذاکرات و مباحثوں میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے اداکار نما شرکاء مدعو کئے جاتے ہیں جو عام عوام کیلۓ منفی رائے عامہ پہ مبنی تائثر چھوڑ کے جاتے ہیں ان میں اکثر غلط بیانی کے ماہر مالی بدعنوانی و دیگر سنگین اخلاقی و قانونی جرائم میں ملوث و سزا یافتہ بااثر شخصیات بھی پائی جاتی ہیں جن کا نقطہ نظر پیش کرنا مثبت عمل نہیں لیکن ان بہروپئیوں کو ناجائز پذیرائی دی جاتی ہے جو سراسر تشویش ناک ہے
70 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے جس کیلئے ذرائع ابلاغ پہ سوائے چند سرسری خبروں کے کچھ دکھائی سنائی نہیں دیتا،،،
مغرب کی تقلید میں ہمارا میڈیا مادر پدر آزاد ہو چکا ہے فرنگی طرز زندگی نے ہم سے ہماری زبان (عربی) تو برسوں پہلے چھین ہی لی تھی اب تہذیب و تمدن ثقافت رسم و رواج اور اعلی روایات بھی کیری لوگر کے متوالوں کے ہاتھوں نوچ ڈالے ۔۔۔۔
ہم گذشتہ کئی برسوں سے خائن حکمرانوں،رنگیلا مولویوں سیاسی شعبدہ بازوں مذہبی ٹھیکیداروں کے کرتوتوں کے باعث لسانیت صوبائی قومیت و دیگر تفریق و امتیاز میں الجھا دیئے گئے تھے لیکن افسوس آج ہمارا ذرائع ابلاغ اس تفرقے کو کم کرنےکی بجائے مزید بڑھا رہا ہے
اللہ صحافت کے مقدس پیشے سے کھلواڑ کرنے والوں کا محاسبہ فرما کر قلم کی حرمت کے پاسداروں کی حفاظت فرما۔۔۔آمین
ابو آمنہ قيصر مظفر













