جمعرات 13 اپریل 2023 کو سی بی اے یونین ریڈیو پاکستان نے چیئرمین احمد نواز نیازی اور سیکرٹری جنرل محمد اعجاز اور مرکزی صدر جناب تیمور احمد کی سربراہی میں ملازمین کے ساتھ کھلی کچہری کا اہتمام کیا جس میں ملازمین کی جانب سے پیسے ہونے کے باوجود ترسا ترسا کر تنخواہیں اور پینشن دینے اور ڈیڑھ ماہ لیٹ کرنے پر شدید رنج غم کا اظہار کیا گیا جس پر سی بی اے یونین کے کور کمیٹی نے فوری احتجاج کا فیصلہ کیا اور موقف اختیار کیا کہ ڈی جی ریڈیو جناب طاہرحسن متعدد غیر ادارہ جاتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جس سے ریڈیو پاکستان کوشدید نقصان ہو رہا ہے۔ اور ریڈیو پاکستان کے انفراسٹرکچر کے اندر توڑ پھوڑ کوئی خاطر خواہ فواہد نہیں دے رہی بلکہ سوائے اخراجات بڑھانے اور پیسے کے بے تحاشہ استعمال کو پوائنٹ آؤٹ کیا گیا۔
اس موقع پر ڈی جی ریڈیو کی جانب سے کوالفائڈ انجینئرز سے راج گیری اور مستریوں کا کام لینے کی سخت مزمت کی۔
اور احتجاج کے دوران ملازمت گو ڈی جی گو کے نعرے لگاتے رہے جس سے شاہراہِ دستور کی فضا گو ڈی جی گو کی آواز سے گونجتی رہی۔
سیکٹری جنرل محمد اعجاز کی سربراہی میں ملازمین نے پارلیمنٹ کے گیٹ پر احتجاجی دھرنہ دیا اور ایک ہی مطالبہ رکھا کہ ڈی جی ریڈیو کو ہٹایا جائے اور اپریل کی پینشن اور تنخواہ جلد ادا کی جائے۔
جس پر سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان نے سی بی اے یونین کو مذاکرات کی دعوت دی اور مذاکرات کے دوران مسائل سننے کے بعد انکے حل کے لئیے احکامات جاری کئیے۔ اور ریڈیو پاکستان میں بے جا توڑ پھوڑ کو فوری روکنے کے احکامات دئیے اور وعدہ کیا کہ جلد ڈی جی ریڈیو تبدیل کر دیا جائے گا۔
میڈیا سیل یو ایس او سی بی اے یونین رپورث













اس توڑ ہھوڑ اور شفٹنگ کے نتیجے میں ڈیڑھ کروڑ روپوں کے غبن کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا جو نجانے کس کی جیب ۔میں جانے والے ہیں؟؟؟یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔