شاید فیصلہِ قدرت یہ ہے کہ“ انتخابات منصفانہ ہوں“ ؟ شمس جیلانی

0
730

جبھی تو یہ عالم ہے کہ اس ملک کو اس وقت بہترین چیف جسٹس ، بہترین کمانڈرا نچیف، بہترین نیب کا چیرمین اور الیکشن کمیشن ملا ہوا ہے ایسا پاکستان کی71 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا؟ابن الوقت سمجھ رہے تھے کہ مار شلا ء لگ جائے گا اور ہم پھر پہلے کی طرح اس سے فائدہ اٹھالیں گے۔ یا ہمیں جیل بھیجد یا جائے گا اور ہم خود کو مظلوم ثابت کرکے اپنی مظلومیت کی دہائی دیکر پھر ووٹ حاصل کرلیں گے ؟،اورپھر اپنی مرضی کا عملہ لاکر پہلے کی طرح کامیاب ہوجائیں گے؟ اور یہ کہ انتخاب کاعمل بھی اسی طرح ہوگا جس کی کہ ابتدا ء یہاں سے ہوتی تھی، ہر ایک حلقہ انتخاب میں ڈپٹی کمشنر صاحب منتخب ممبرِ اسمبلی سے ملکر نام پوچھ کر ایک کمیٹی بنا دیتے تھے جو آفیشل تو نہیں ہوتی تھی، مگر سب پر بھاری ہوتی تھی ؟ اس کاکام یہ ہوتا تھا کہ جس حلقے میں جو علاقہ ممبر سے کسی وجہ سے ناراض ہے تواس کو حلقہ بندیوں کے دوران اس حلقے سے نکال کر دوسرے حلقے میں ڈالدیا جا تا تھا؟ جبکہ جعلی ووٹ تو بہت پہلے ہی انتخابی فہرستوں کے بنتے وقت ہی شامل کردیئے جاتے تھے اس کی نادر مثال 2013 کے انتخاب میں کراچی نے پیش کی تھی کہ 120 گز کے مکان میں سیکڑوں کے حساب سے ووٹر درج تھے ۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ آتا تھا ، کہ انتخابی عملہ کا انتخاب بھی یہ ہی کمیٹی کرتی تھی۔اور اس کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ کوئی اپنے آدمیوں کے سوا غلطی سے بھی ایماندار اور غیر جانبدار انسان انتخابی عملے نہ شامل ہونے پائے۔پھر انتخابات منعقد ہوتے تھے۔ ان میں کوئی غلطی سے بھی کہیں ایماندار فرد عملے شامل ہو جاتا تھا تو پولنگ اسٹیشن پر ہی تھپڑوں سے تواضع کردی جاتی تھی؟کوئی فریاد لے کر جائے تو کہاں جائے ،وہاں بھی پارٹیوں کے لائے ہوئے بندے بیٹھے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اپیل میں چلا جائے تو اس میں اتنی تاخیر ہو جاتی تھی کہ عموماً وہ اپنے پانچ سال پورے کرلیتا تھا۔ کیونکہ عدالتوں میں کلرک کبھی فائل نیچے دبا دیتے تھے۔ اور جج صاحب اٹھ کر چلے جاتے تھے ۔اس کے بعد اگلے سال کی کوئی تاریخ کلرک دیدیتا تھا۔ اگرزیادہ دباؤ بڑھ جائے تو ہیڈ کلرصاحب فائل اپنی گدی کے نیچے رکھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ نہ مال خانے میں فائل ملے نہ مقدمہ آگے بڑھے؟
اس وقت جو ٹیم کام کر رہی ہے اس کا جواب نہیں ہے۔ جو موروثی حلقوں کے مالک تھے ۔ا ن کی ایک نہ چلی؟پھر انہوں کہا کہ خبردار نگراں حکومت میں کوئی جج اور جنرل نہ آنے پائے؟ مگر انہیں سمجھوتہ کرنا پڑاور ملک کا نگراں وزیرآعظم جج لینا پڑا؟ سندھ والوں نے ہوشیاری کی کہ وہ آپس بن گئے؟ اور ایک آفیسر کو لے لیا جسے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ تھا، جو کہ اس وقت سب سے مشکل کام تھا۔ کیونکہ حکم نہ ماننے والے پھر کہیں دکھائی نہیں دیتے تھے؟خیبر پختونخوا کے نگراں وزیرِ اعلیٰ ایک جج صاحب آگئے۔ بلوچستان کے لیے ایک جوان کا انتخاب ہوا کچھ دیکھ کر ہی کیاہوگا۔ اور وہ صوبہ جس پر فتح اور شکست دارومدار ہے اس کے لیے ایک دانشور الیکشن کمیشن نے چن لیا۔ جو اپنی صاف گوئی کے لیے مشہور ہے۔اس پر حکمراں پارٹی نے اپیل کی جو ناکام ہوئی۔ یہاں تک تو سیٹ اپ ٹھیک ہوگیا ہے۔ رہے اوپر والے تو ان کے فیصلے بول رہے ہیں ۔چیف جسٹس صاحب ملک کانظام بھی چلارہے ہیں اور گھاگوں کے پینتروں کابھی کامیابی سے توڑ کر رہے ہیں؟ وہ انتہا ئی تندہی سے ہفتے میں سات دن کام بھی کر رہے ہیں۔ان کا عالم بقولِ علامہ اقبال (رح) یہ ہےکہ
ع جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے۔ شاید اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اس منصب تک پہونچا یا ہی اس لیے ہے تھا کہ وہ جسٹس منیرکا عدلیہ پر لگایا ہوا داغ دھوکر مملکت خداداد کو صراطِ مستقیم پر گامزن فرمادیں۔ اگر ہم کمانڈر انچیف کا ذکر نہ کریں تو بات ادھوری رہ جا ئے گی؟ کہ شروع سے انکا ایک ہی موقف رہا ہے کہ فوج کا کام سرحدوں اور ملک کی حفاظت کرنا ہے؟ سیاست کرناسیاست دانوں کا کام ہے۔ ہمارا کام صرف دستور کے مطابق عمل کرنا ہے ، جبکہ ہمارا دوسرا کام قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے دوسرے اداروں کی معاونت بھی کرنا ہے جوکہ ہم حلف اٹھایا ہوا ہے، یہ اسی کے مطابق ہماری ڈیوٹی ہے۔چونکہ ان کے دور میں سیاستدانوں کو فرصت نہیں تھی سوائے مال بنا نے اور خود کو قانون سے بچا نے کے۔ لہذا وہ اس میں بڑے مصروف دکھے تو انہیں مجبوراً ملک کی بقاکے لیئے اس کے مفادات بھی دیکھنے پڑے اور انہوں نے اپنے فرائض بخوبی پورے کیئے ،ورنہ نہ جانے ملک کا کیا حال ہوتا۔ جہاں تک احتساب کے عمل کاا تعلق ہے۔ وہ بھی بخوبی چل رہا ہے، نیب کے نئے چیر مین کے ہاتھوں میں آنے کے بعد اس میں بھی جان پڑگئی ہے۔ ان کے ساتھ بھی وہی مسئلہ ہے کہ سیاستدانوں کو جوسیاسی شہید بننا چاہتے ہیں؟ وہ انہیں شہید بنا ئے بغیرا پنا کام پور کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ان سب نے ملکر سیاسی شہید بننے کے تمام امکانات پر قدغن لگائی ہوئی۔ ورنہ وہ بے گھر امریکن باشندوں کی طرح جن کے پاس سردیوں میں خودکو سردی سے بچانے کے لیے کوئی چھوٹا موٹا جرم کرلیتے ہیں جیسے کہ پتھر مارکر شوروم کے شیشہ توڑنا تاکہ سردی کاموسم جیل میں با آرام گزار سکیں ؟ یہاں ملزمین چھوٹے چھوٹے جرائم کنے کے بجائے بڑے بڑے جرم کرکے سب کوآزماتے رہے برابھلا کہتے رہے مگرحکام نے وہ صبر ایوبی ختیار کیا کہ جواب نہیں اور ابھی تک یہ اپنی کوششوں میں کامیاب جارہے ہیں۔
ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے جس کو دے جس سے جو کام لے ؟ اگر پاکستانی عوام خود سے توبہ کرکے اللہ سبحانہ تعلیٰ کی یہ بات مان لیں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے تمہیں صرف مظلوم کا ساتھ دینا ہے ظالموں کا نہیں؟ تو ان کی عاقبت بھی سدھر جائے گی؟ بھائی لوگوں نے بہت کوشش کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کےدستور سے اسلام نکالدیں کبھی قوانیں کی تبدیلی سے کی کبھی فارموں کی تبدیلی سے؟ مگر موجودہ خدائی نگرانوں کی وجہ سے وہ اب تک ناکام رہے ہیں۔ اگر انہیں بال پر دوبارہ مل گئے تو ملک کا پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ لہذا عوام بھی توبہ کر کے اس صفائی کی مہم میں موجودہ سیٹ اپ کاساتھ دیں۔ توا نشاء اللہ دین اور دنیا دوں ملیں گے ؟ کیونکہ نبی کریم (ص) کاارشادِ گرمی ہے اگر تم دین کے راستے پر چلوگے تو تمہیں دنیا خود بخود مل جائے گی ۔ مگر دنیا کے راستے پرچلوگے تو تمہیں صرف دنیاملے گی دین خود بخود نہیں ملے گا۔؟جبکہ قر آن کے شروع میں ہی سورہ بقر کی آیت نمبر 256 اور 257 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو فرما دیا ہے وہ بہت واضح ہے، جس کی پوری تفسیر اور تفصیل وہاں جاکر پڑھ لیجئے ان دونوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے۔ راستے ہم نے دونوں بتا دیے ہیں، چاہو تومیرے دوست بن جا ؤ ، چاہوتو شیطان کے دوست بن جاؤ دونوں راستے الگ اگ کردیے ہیں۔ میری راہ پر چلنے والوں کے لیے ابدی جنت ہے اور اس کی راہ پر چلنے والوں کا ٹھکانہ ابدی جہنم ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ان آیت کے مطابق صراط مستقیم اختیار کرکے اللہ کاولی بننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ دین اور دنیا دونوں اچھی ہوں اور ہم سب جنت کے ابدی حقدار بنیں ( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY