آجکل عجیب عجیب خبریں آرہی ہیں کہ یہ ہوگیا وہ ہوگیا،عمران خان نے کسی سے ہاتھ ملا نے سے انکار کر دیا یہ کردیا وہ کردیا وجہ یہ ہے کہ وہ اس دور میں وہ کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو ابھی تک پاکستان میں سوائے جلال بابا مرحوم کے اور کسی نے نہیں کیا کہ وہ وزیر مملکت برا ئے داخلی امور ہو تے ہوئے،سا ئیکل رکشہ پر بیٹھ کر جھنڈا وزارت کا ہاتھ میں لیکر دفتر جا یا کرتے تھے اور کوئی بھی فریادی ان کو اس وقت اپنی عرضی پیش کرسکتا تھا، جوکہ عمران خان بھی جدید کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس میں اضافہ یہ ہے اپنے گھر میں رہنا، اپنی جیب سے خرچ کرنا۔ جبکہ اس سے پہلے جو لوگ حکمراں تھے وہ اپنی جیب سے خرچ کرنا جانتے ہی نہیں تھے۔جتنے بھی اور جہاں،جہاں بھی گھر تھے ، انہیں سرکاری رہا ئش گاہ کا درجہ حاصل تھا اور سب گھروں کے خرچے سرکاری خزانے سے ادا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے دور پرے کے جتنے بھی رشتہ دار تھے ان کے پاس سرکاری پے رول پر کام کرنے والے ملازم اور کاریں ان کے تصرف میں تھیں۔ چلیئے اسے جانے دیجئے،یہ ایسی با تیں ہیں کہ جن کی تشہیر نہیں ہونا چا ہیئے، لیکن آئینہ دکھا نا تو ہماری ذمہ داری ہے دوسری طرف ایک وزیر کا تھپڑ بھی ہمیں یاد آرہا جو لگا تو ایک اینکر تھا لیکن مارا ایک وزیر نے تھا۔نہ جانے کیوں سوچ کر درد ہمارے دل میں ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم سیرت نگار بھی ہیں اور مدینے کی ریاست میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی؟
آج ایک اچھی خبر ہے جو پاکستان کو 195 ملین ڈالر کی واپسی ہے۔ وہ بھی کس سے جنہوں نے اگر کمایا پاکستان سے تو پاکستانیوں پر خرچ بھی کیا وہ بھی عوام پر،وہ ہیں ملک ریاض صاحب جن کا کہناہے کہ میں نے یہ کسی نا جا ئز ذریعہ سے نہیں کمایا؟ جائز ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ میرے اوپر کوئی چارج نہیں ہے۔ اور آئندہ جو بھی باہر سے میں کما ؤنگا وہ بھی پاکستان میں ہی آئے گا۔ یہ بات انہوں نے متعدد دفعہ اپنے عمل سے بھی ثابت کی۔ بقول ان کے ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ جہاں فائل رکی وہیں انہوں نے پہیئے لگا دیئے۔ یہ فن ان کے علم میں کہاں سے آیا! میرا خیال ہے کہ وہیں سے جہاں سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ فرق یہ ہے کہ یہ ہی کام اوروں نے بھی کیا مگر انہوں نے اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا یا۔ جبکہ اِنہوں نے اس کو پاکستان میں لگا نے کافیصلہ کیا؟ حالانکہ حکمرانوں نے وہ قوانین بنا ئے اپنا کالا دھن باہر لے جا نے کے لیئے تھے۔تاکہ لانڈری میں وائٹ ہونے کے بعد کام آئے۔ چونکہ اس کھیل میں اس وقت پاکستان میں اتنی تیزی سے بڑھوتری نہیں ہورہی تھی، انہوں نے مجبوراً وہیں لگا نے اور کما نے کا فیصلہ کرلیا۔ لہذا باہر لگا نا ان کی مجبوری تھااور اس طرح سارے ملک کا پیسہ باہر چلا گیا۔
ملک صاحب نے جہاں بے انتہا بستیاں بسا ئیں وہیں انہو ں نے ہر آبادی میں مساجد بھی بنائیں جو کہ کسی زمانے میں مشکوک مال سے بنا نا منع تھا۔ اس وقت اگر کو ئی پیسہ مسجد کی تعمیر میں لگا نے کے لیئے دیتا تو مسجد کی انتظامیہ دینے والے سے پوچھتی تھی کہ قبلہ آپ کی کمائی بھی حلال کی ہے یا نہیں اگر نہیں تو منتظمین مساجد،شکریہ ادا کرکے رقم واپس کر دیتے تھے۔ مگر یہ ایک صدی پہلے کی بات ہے؟اس سے پہلے بھی جب شاہی مسجدیں ملک میں بن رہی تھیں،تو بھی کسی نے مجھے یقین ہے نہیں پوچھا ہو گا کہ یہ جو مال مسجد میں لگا رہے ہیں وہ آپ کی حلال کی کمائی کا ہے یا نہیں اور پوچھا ہوگا تو مجھے یہ بھی یقین ہے کے پوچھنے والاشاید ہی پچا ہو گا؟ ایسا ہی ایک واقعہ علی گڑھ یو نیورسٹی کے با رے میں بھی مشہور ہے کہ اس کے فنڈ ریزنگ ہورہی تھی بمبئی کی کسی طوائف نے ایک لاکھ روپیہ چندہ دیدیا جوکہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی تو لوگو ں نے سر سید احمد خانؒ سے سوال کرلیاکہ اس کی کمائی کو توسبھی جا نتے ہیں کہ حرام ہے کیا آپکو پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا پتہ تو ہے مگر میں نے اس کا صحیح مصرف سوچ لیا ہے وہ یہ ہے کہ میں اس سے بیت الخلا ء تعمیر کراؤنگا۔ ہم جن کو آجکل واشر روم اور ٹوا ئیلیٹ کہتے ہیں جوکہ اکثر حکمرانوں نے سنہرے بنوا ئے ہو ئے ہیں؟ پھر جب پاکستان بنا تو پہلا مقدمہ صوبہ سرحد کا آیا کہ ایک سرکاری آفیسر نے دس ہزار روپیہ غبن کر کے اس سے مسجد بنوا دی وہ مسجد تو بن گئی چونکہ مسجد کیسے بھی بنے ڈھا ئی نہیں جا سکتی تھی وہ مسجدرہی رہی، مگر ان کو اینٹی کرپشن نے پکڑ لیا؟ اور یہ راستہ پہلے قبضہ گروپ نے دیکھ لیا کہ جس زمین پر انہیں قبضہ کرنا ہوتا پہلے مسجد بنا تے پھر امام صاحب کا گھر اور کالونی؟اس زمانے میں میڈیا برا ئے نام تھا اس لیئےیہ ہما رے علم میں نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، انہیں سزا ملی یا بری ہو گئے۔ لہذا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنے آقاﷺ کا یہ حکم پڑھ کر گرہ میں باندھ لیا ہے کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا مگر جھوٹا نہیں ؟ دوسرے کہ ہم خود کو فقیر بھی کہتے ہیں اور تصوف کی پہلی شرط یہ ہے کہ سچ بولنا اور حلال کھانا ہے چونکہ ہمیں ان کے انجام کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے اس لیئے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ البتہ ہمیں ایک صاحب کے بارے میں علم ہے جوکہ ہمارے دوست بھی تھے جن کا نام تھا طمانچے خان تھا وہ ایس پی میر پور خاص کے دفتر میں آ فس سپریننڈینٹ تھے۔ انہوں نے چاکی پاڑے میں ایک مسجد بنا نا چاہی اور فیصلہ یہ کیا کہ وہ کسی سے چندہ قبول نہیں کریں گے اور اپنی تنخواہ سے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر جو کچھ بچے گا وہ مسجد کی تعمیر میں لگا یا کریں گے۔ وہ جس محکمہ میں تھے اس کے تمام تھانیدار جو سندھ میں صوبہ دار کہلا تے ہیں ملک کر ان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم مسجد بنا ئے دیتے ہیں آپ ہمارے اوپر چھوڑ دیں ایک مہینہ مشکل سے لگے گا اور وہ تیار ہو جا ئے گی۔ انہوں نے کہا نہیں میں اس میں حرام تو کیا مشکوک مال بھی نہیں لگنے دونگا اور نہ ہی کسی سے چندہ لونگا؟ اس کے بعد ہم وہاں بیس سال سے زائد رہے مگر وہ جس رفتار سے بڑھ رہی تھی امید نہیں تھی کہ بنے گی کہ انکا انتقال ہوگیا اور مسجد مکمل ہو گئی ؟کیونکہ اب کو ئی مشکوک مال پر اعتراض کر نے والا نہیں رہاتھا۔ جبکہ میر پور خاص کی آبادی بیس ہزار سے بڑھ کر چار پانچ لاکھ سے بھی اب تجا وز کر چکی ہے۔ہمارے پیچھے تیس سال میں ملک نے اتنی ترقی کی ہے اب حرام اورحلال کا مسئلہ ہی نہیں ریا ہے۔ بلکہ ایک مفتی صاحب کو ٹی وی پر ایک سوال کے جواب میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب حلال مال تو ملتا ہی نہیں ہے؟ لہذا جس کے مال میں حلال کا غلبہ ہے تو وہ بھی چلے گا؟ اس لیئے ہمیں یقین ہے کہ کسی نے ملک صاحب سے نہیں پوچھا ہو گا کہ آپ کے مال میں غلبہ حلال کا ہے یا نہیں۔کیونکہ اس پر عمل کیا جا ئے گا تو مسجد کی تعمیر تو بڑی بات ہے؟ جو مسجدیں بنی ہوئی ہیں ان کی مرمت کے لیئے بھی پیسہ نہیں مل سکے گا؟ انا للہ وانا الیہ راجعون ہ













