کیاہمارا احتجاج رائیگاں ہے؟؟؟

0
432

یہ اپنے موضوع پر ایک اہم سوال ہے کہ کیا ہمارے احتجاج رائیگاں جارہے ہیں یا پھر حکومت پر ان کا کچھ اثر پڑرہا ہے؟؟؟ یہ بات میڈیا اور بی جے پی کے لیڈر باربار دُہرا رہے ہیں کہ ان احتجاج کا کچھ فائدہ نہیں کیونکہ سی اے بی اب قانون بن چکاہے اور قانون بدلتانہیں۔

غورکریں
جولوگ یہ کہ رہے ہیں کہ حکومت پر ہمارے احتجاج کا کوئی فرق نہیں پڑرہاہے وہ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں
امیت شاہ کو وزیر داخلہ یعنی وزیر داخلہ بنے ہوئے تقریبا 7 ماہ ہوئے مگر اس دوران کیا آپ نے کبھی یہ دیکھا کہ اس نے کسی طرح کی پریس میٹنگ کی ہو؟ یہ اور بات ہے کہ میڈیا والے خود کہیں نہ کہیں اس سے مل کر انٹرویو کر لیا کرتے تھے، مگر 12 تاریخ سے آج 18 تاریخ تک اس نے تقریبا 10 پریس کانفرنس بلائیں، *آج تک آج تک چینل کے شو ” ایجنڈا آج تک ” میں صرف سی اے بی کی صفائی دینے کے لیے پہنچا ہوا تھا اور تقریبا ایک گھنٹہ تک اس سے سوال وجواب ہوتا رہا، جبکہ یہ وہی شخص ہے جس سے میڈیا پرسن بات کرنے میں ڈرتے تھے اور یہ خود میڈیا سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا، بات بات میں میڈیا والوں کو جھڑک دیتا تھا۔ اب سے پہلے مسلمانوں کو پاکستانی، بنگلہ دیشی، اورگھسپیٹھیا کہہ کر خطاب کرتا تھا مگر 12 دسمبر کے بعد سے ” میرے مسلمان بھائیو اور بہنو !! ” کہہ کر خطاب کرتا ہے۔
مودی جی
یہ مودی جو، اب سے پہلے این آر سی کے معاملہ میں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی کہہ رہے تھے مگر اب یہ بھی میرے مسلمان بھائیو اور بہنو!! کہہ کر گفتگو کررہے ہیں، ابھی جھارکھنڈ کی کوئی ایسی چناوی ریلی نہیں جس میں وہ سی اے بی کو لےکر مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے۔
آخر ان کی تاناشاہی انداز کو کس نے بدل دیا؟ صرف اور صرف مسلمانوں کے پُر زور احتجاج نے۔
یہ لوگ باربار کہتے ہیں کہ “ہمیں ان تمام احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتا” اگر واقعی ایسا ہوتا تو باربار میڈیا کے سامنے آکر صفائی نہ دیتے بلکہ ان معاملات کو وہ لوگ قابل اعتناء ہی نہ سمجھتے، مگر ایسا نہیں ہے، روزانہ بی جے پی کے ذمہ داران پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ سی اے بی پر مسلمانوں کے رد عمل نے حکومت کو ہلاکر رکھ دیاہے، ان کی رات کی نیند اور دن کا چین وسکون اڑ گیاہے، (شاید آپ لوگوں نے وہ نیوز چینل دیکھاہوگا جس میں بتایا گیاتھا کہ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کے طلبہ کے احتجاج کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے رات کے دو بجے افسران کی میٹنگ بلائی تھی) پوری دنیا میں ان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے، ان باتوں سے ڈر کر انہوں نے ایک نیا حربہ یہ اپنایا ہے کہ باربار یہ بول کر” ہمیں کوئی فرق نہیں ہڑتا ” مسلمانوں کا حوصلہ پست کیاجائے۔

یادرہے کہ سی اے بی کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور جعرات 19 دسمبر سے شنوائی شروع ہونی ہے، یہ معاملہ تقریبا ایک مہینہ تک دراز ہوسکتا ہے اگر حالات وہی بنے رہے جو آج ہیں تو پھر کم ازکم ملک کی سالمیت کے لیے ہی سہی سپریم کورٹ کو سی اے بی پر پابندی لگانی پڑےگی۔

امت محمدیہ کے جاںباز نوجوانو!
یاد رکھنا کہ اگر اس تاریخی احتجاج کا سلسلہ دراز ہوتا رہا تو حکومت کو یا تو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑےگا یا پھر اس بل میں ترمیم کرنی پڑےگی اور یہ دونوں باتیں ہمارے لیے مفید ہیں۔

خبردار!!!!
ملک میں ہورہے تاریخی احتجاج کو بند کرنے یا پھر اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے * حکومت کوئی نیا گیم کھیل سکتی ہے* کیونکہ اس معاملے میں یہ سرکار بہت ماہر ہے۔
یاتو کوئی نیا مسٸلہ یا موضوع اٹھایا جاسکتاہے یا پھر فیس بک اور واٹس اپ کو بند کیا جا سکتا ہے۔ لھذا احتیاطا آپ تمام حضرت ٹیلیگرام یا ٹوئٹر اکاؤنٹ کھول لیں، تاکہ ایسے حالات میں ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا رہے۔

آپ حضرات یہ عہد کریں کہ حالات کیسے بھی ہوں، مسٸلہ کوئی بھی اٹھایا جائے ہم اپنے جوش و خروش میں کمی آنے نہیں دیں گے۔
جس طرح ایک ہفتے سے سڑکوں اور سوشل میڈیا پر ہمارا عنوان سخن سی اے بی اور این آر سی ہے یہ اسی طرح تب تک جاری رہےگا جب تک کہ اس کالے قانون کو واپس نہ لےلیا سوشل میڈیا رہے یا بند جائے ہماری فعال رہنے میں کوئی اڑچن نہیں آنی چاہیے، ہم کسی بھی حال میں اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہونگے خواہ جان ومال کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

لڑو! یا مرو!
اب ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ایک ہمیشہ کی عزت دلانے والا اور دوسرا دین ودُنیا میں ذلیل وخوار کرنے والا، لھذا ہمیں فیصلہ کرناہے کہ کیا چاہیے؟؟؟

ایک ضروری احتیاط
یاد رہے کہ جو بھی اور جہاں بھی احتجاج ہو پُرامن ہو ورنہ ان دنگوں اور فسادات سے ہماری اپنی شبیہ خراب ہوسکتی ہے اور مقصد بھی۔ لھذا اپنے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر حال میں پرامن مظاہرہ جاری رکھیں، توڑ پھوڑ یا کسی طرح کی آتش زدگی سے بچیں اور ہر طرف آگے پیچھے نظر رکھیں کہ کوٸی دوسرا ہمارے احتجاج میں چنگاری نہ ڈال دے کہ ہمارے دشمن چالاک اور عیار ہیں # منقول

انتخاب، مسعود حساس

SHARE

LEAVE A REPLY