مری میں کچھ افراد کی موت نے افسردہ کر دیا ہے اللہ کریم ان لوگوں کی بخشش فرمائے آمین
افسوس اور ماتم حکومت کی نااہلی پہ کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ سرکاری غفلت لوگوں کی موت کا سبب بنی ہے
راولپنڈی اسلام آباد ٹول پالازہ؛ مظفرآباد ؛ ایبٹ آباد ؛ کے راستے سے عمومی طور پر مری میں داخل ہوا جاتا ان راستوں سےمری میں داخل والوں کا ڈیٹا اینڑی حکومت کے پاس موجود ہوتا ہے جس کو استعمال ہی نہیں کیا گیا اور اگر خیال بھی آیا ہےتو اتنی دیر ہوچکی تھی کہ ریسکیو کرنا مشکل ہوگیا ۔آخر کار مبینہ طور پہ وزارتِ داخلہ کہ یہ کہنا کہ اب ہم بے بس ہیں مدد کے لیے فوج طلب کر رہے ہیں ۔کمشنر اور ڈسی آڈر آڈر کرتے رہ گئے اسی طرح محکمہ موسمیات کے سب لوگوں کو جیل میں ہونا چاہیے جو گوگل سے دیکھ کر پیش گوئی کرتے ہیں ۔بروقت موسمی پیش گوئی کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے ۔
بہرکیف اللہ ہمارے اداروں کے ذمہ داروں کو ہدائیت دےآمین
کچھ لولوں کا خیال ہے کہ یہ اموات سردی سے ہوئی ہیں ۔اور ماہرین کا کہنہ ہے کہ سردی سے موت نہیں ہوتی ورنہ سائبیریا میں کوئی زندہ نہ ہوتا
“ماہرین کے مطابق مری میں اموات گاڑیوں میں دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہیں “
تااہم سردی سے موت ہوبھی تو یہ ہائپوتھرمیا (کم جسم کا درجہ) کے باعث ہوسکتی ہے . عام انسانی جسم کا درجہ 98.6 ڈگری سمجھا جاتا ہے.جب جسم کسی مخصوص درجہ سے نیچے آتا ہے اور خود کو گرم نہیں دے سکتا تو یہ ہائپوتھرمیا کہلاتا ہے یہ عمومی طور پر 95 ڈگری سے کم کچھ سمجھا جاتا ہے.تاہم یہ طبی وجہ بھی ہوسکتی ہے اور اس کی کئی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں ۔
* گاڑی میں دم گھٹنا*
آپ کا کار میں پھنس جانے کے بعد دم گھٹنا بہت آسان اور ممکن ہے۔ لوگ اپنی کاروں میں برف باری کے دوران بیٹھے رہتے ہیں اور انجن گرم رکھنے کےلیے گاڑی اسٹراٹ کیے رکھتے ہیں تاکہ کچھ گرم ہوا ریڈی ایٹر پائپ سےجڑے ہونے کے باعث بطور ہیٹر استعمال ہوتی رہے ، اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کی گاڑی کا (ٹیل پائپ) سئائلنسر پائپ بند ہو گیا ہے ۔ ( ٹیل پائپ) سائلنسر کا منہ برف زیادہ ہوجانے کے باعث بند ہوجاتا ہے اور خارج نہ ہو سکنے والی کاربن مونو آکسائیڈ واپس کار میں آجاتی ہے ۔ کاربن مونوآکسائیڈ نسبتاً کار کی چھوٹی جگہ کو تیزی سے بھردیتی ہے ۔کاربن مونو آکسائیڈ آپ کے خون میں آکسیجن کی جگہ ہوموگلوبین کو کم کرتی چلی جاتی ہے چونکہ کار میں کم جگہ اور افراد کی موجودگی کے باعث آکسیجن آہستہ آہستہ ماحول میں سے ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے ،(یاد رہے کہ یہ عمل تب واقع ہوتا جب کار کے شیشے سردی سے بچنے کے لیےمکمل بند کردیے جاتے ہیں ) اب کار میں موجود افراد زیادہ کاربن مونو آکسائیڈ میں سانس لینے لگتے ہیں، آپ کے کم ہیموگلوبن پروٹین آکسیجن کے باعث آپ کا آہستہ آہستہ دم گھٹنے لگتا ہے۔ اور غنودگی طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سردیوں میں کوئلے دہکا کر لوگ سوجاتے ہیں اور کئی بار موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کو آکسیجن کی کمی کا احساس ہونے سے پہلے ہی یہ علم ہو جائے گا کہ آپ کا دم گھٹ رہا ہے، یاد رہے کہ کاربن مونو آکسائیڈ بے رنگ اور بے بو گیس ہے جس کے باعث یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اور کیوں ہورہا ہے ۔ اللہ نہ کرے کہ اگر آپ کار میں پھنسے ہوئے اپنے آپ کو سوتے ہوئے یا غنودگی محسوس کرتے ہیں، تو یہ یقینا کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہے جو آپ کے خون کو آکسیجن کی سپلائی ختم کر رہی ہے۔اور غنودگی آپ کو موت کے منہ میں لے جا رہی ہے ۔
اس سے کیسے بچیں:
اگر آپ اپنی گاڑی میں پھنس گئے ہیں، تو باہر نکلیں اور چیک کریں کہ آپ کی گاڑی کا سائلنسر بند تو نہیں اور اگر انجن کو دوبارہ آن کرنا چاہیں تو (ٹیل پائپ) سائلنسر صاف ہے اور کوئی رکاوٹ حائل تو نہیں ہے۔
باوجو شدید سردی کے کار کے شیشے معمولی کھلے رکھیں اور ریسکیو کو فوری اگاہ کریں گاڑی کا نمبر لوکیشن اور افراد کی تعدد بھی ریسکیو کے عملہ کو ضرور بتائیں ۔
فون سے اپنے قریبی عزیز کو اطلاع دیں اور مدد طلب کریں ۔
اپنےآپ کو کپڑوں سے گرم رکھیں اور بچوں کو خاص طور پہ اپنے جسم کے ساتھ لگا لیں اسطرح بچوں کےجسم اور آپ کی حرارت کچھ حد تک قائم رہ سکے گی ۔
سید ناظر کاظمی













