پاکستانیو ناشکرا پن مت کرو ۔تمہارے سر پر چھت ہے۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1062

ان لوگوں سے مخاطب ہوں جنہین جشن آزادی منانا ناگوار گزرا ۔۔۔ جنہوں نے جی بھر کر پاکستان کی برائی کی ۔۔ میں انتہائی افسردہ اور مایوس ہوں کچھ پاکستانیوں سے ۔

دوستو!

پاکستان نہ آدمی ہے اور نہ عورت ۔۔۔پاکستان ہم ہیں ۔۔ ہر فرد پاکستان ہے ۔

ناقص حکمت عملیاں ۔۔ منافق سیاستدان پاکستان کی بدحالی کے قصوروار ہیں ۔۔۔ پاکستانی عوام نہیں ۔۔۔ یعنی پاکستان نہیں ہے۔

پاکستانیو ناشکرا پن مت کرو ۔۔ تمہارے سر پر چھت ہے جس کے لئے تم نے قطعا کوئی محنت نہیں کی ۔ ہمارے آباواجداد نے چھت اور چاردیواری اپنی جانوں کی قربانی سے بنائی ہے ۔ صدافسوس انہیں ناشکری اولادوں کی خبر نہ تھی ۔

کبھی اپنی کاہلی ، بزدلی، شغل میلوں اور اوور سمارٹنس سے فرصت ملے تو لبنانی ۔۔شامیوں ۔۔افغانیوں ۔۔ فلسطینیوں سے پوچھنا ۔۔ ان کے کپڑے کے بنے ہوئے خیموں کی زبوں حالی سے پوچھنا ۔۔۔ ان کے دلوں میں بیٹھے خوف سے پوچھنا۔

نہیں۔۔۔ دور کیوں جانا ۔۔۔ کشمیریوں سے پوچھو ۔۔۔ سال بھر کے کرفیو میں ان پر کیا گزر رہی ہے ۔۔ ان سے پوچھو اپنی چھت کیا ہوتی ہے۔ ۔۔؟

امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور لندن رہنے والے سوتے ہوئے خوشیاں نہیں پاتے ۔۔ تم سب پاکستانیوں سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔۔ مزدوری کرتے ہیں ۔۔ منہ اندھیرے اٹھتے ہیں اور اندھیرے میں گھر واپس آتے ہیں ۔۔ ٹیکس دیتے ہیں اپنی خوشی اور خوشحالی کا ۔۔۔ اپنےہاتھ سے کھانا بناتے ہیں ۔۔ اپنا گھر اور باتھ روم خود صاف کرتے ہیں ۔۔ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ سب کام سوئے ہوئے ہو جاتے ہیں ۔

ہم اپنے وطن کے گن اس لئے گاتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس قابل کیا کہ دوسری قوموں کے سامنے فخر سے کھڑے ہو سکیں اور اپنے وطن کا نام ان کے سامنے لے سکیں ۔

ہم میں زیادہ تر پاکستانی روزگار کی تلاش میں یہاں تک پہنچے ہیں اور بڑی محنتوں سے یہاں تک آئے ہیں ۔ ہم سب نے بھی اچھے برے وقت کاٹے ہیں۔ پرشکر خدا کا ہم ناشکرے نہیں ۔

ہم اپنے وطن سے اس وقت بھی محبت کرتے تھے جب جیب میں ایک دھیلا تک نہیں تھا اور اس وقت بھی کرتے ہیں جب اللہ پاک نے اپنے فضل سے بہت کچھ نواز رکھا ہے۔

اپنے وطن سے محبت کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور وطن ثانی سے وفادار رہنا دراصل اپنے وطن سے ہی وفاداری کی مثال ہے۔

دوستو صاحب وطن ہونا نصیب کی بات ہے ۔۔ شکر گزاری کے ساتھ رہنا سیکھئے اور خود پر مسلط حکمرانوں کا احتساب کیسے کرنا ہوتا ہے جانیئے۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY