آسٹریلین براڈکاسٹنگ کے چیئرمین مسٹر ملنی کو مسستعفی ہونے کا سامنا

0
787

اے بی سی آسٹریلوی نشریاتی ادارے کی سئنیر رپورٹر ایما البرسیسی کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے سربراہ جسٹن ملن نے سابق منیجنگ ڈائریکٹر مشعل گتھری کو ای میل بھیجی تھی کہ “ البریسی کو نوکری سے نکال دیا جائے کہ اس نے حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض کیا اور کڑی تنقید کی ہے “ اور مزید لکھا کہ “ حکومت کو البریسی سے نفرت ہے“ ۔

ایئر فیکس اخبارات کے مطابق جب یہ خبر البریسی تک پہنچی تو انہوں جسٹن ملن سے استفسار کیا جس سے وہ انکار نا کر سکے کہ ای میل لیک ہو چکی تھی ۔ جس میں وزیر اطلاعات اور نشریات کے حوالے سے جسٹن نے مشعل گتھری کو لکھا تھا “ البریسی سے چھٹکارا حاصل کریں.” ہمیں اے بی سی کو بچانا ہے ، ایما نہیں“

البرسیسی، جو اے بی سی کی اہم اقتصادیات کی نمائندہ ہیں، ۔ انہوں نے اے بی سی ریڈیو میلبورن کی جان فیین کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ چیرمین جسٹن ملن انہیں نکالنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ” اگر یہ سچ ہے جو میں نے پڑھا اور سنا ہے تو انتہائی مایوس کن بات ہے “ کہ وہ سمجھتی ہیں کہ چیرمین کو صحافت کی حرمت کو برقرار رکھنا چاہیئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے تجارتی ذرائع ابلاغ کی دنیا کو چھوڑ کر “اے بی سی کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا” کیونکہ وہ ایک آزاد تنظیم کے لۓ کام کرنے کے خواہاں تھیں .

البرسیسی نے کہا کہ اے بی سی کی آزادی اور اس میں رکاوٹ دور کرنے کے لئے اے بی سی بورڈ اور حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کیونکہ دو دن پہلے ہی سابقہ مینجبگ ڈائریکٹر مشعل گھتری کو بھی نکالا گیا ہے ۔

البریسی نے کہا اے بی سی نشریات کی دنیا میں اس وقت بہت بے چینی ہے کیونکہ یہ حقیقت میں ادارے کی آزادی کو بہت بڑا دھچکہ لگا ہے اور سب ہڑتال کر رہے ہیں ۔ اور اس صورتحال کے پیش نظر اے بی سی کے چیئرمین مسٹر ملنی کو استعفی دینے کے مطالبے کا سامنا ہے.۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے اس ہنگامی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ مانگ لی ہے اور فوری تفتیش کاحکم دیا ہے ۔

نگہت نسیم۔ سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY