جہان گم گشتہ کا عقاب،غلام حسین غازی، باب اول:۔پہلی قسط

0
865

باب اول: ” اس کی ماں کے گناہ” ۔۔پہلی قسط

جہاں پاکستان، ایران اور افغانستان کی سرحدیں کا ملاپ ہوتا ہے، ٹھیک اس جگہ موسموں کی مار کھائے ، بھربھرے ہوتے ہوے عجیب ہیت پہاڑوں کے درمیان لگ بھگ چالیس فوجیوں کی ٹکڑی پر مشتمل ایک فوجی پوسٹ تھی۔ ایسی پوسٹیں عموما دوری کی وجہ سے اداسی اور تنہائی کی فضا میں گھری رہتی ہیں۔ لیکن وہ پوسٹ تو تھی ہی بڑی ڈراونی۔ میلوں تک نہ کوئی سبزہ تھا نہ آبادی ماسواے چند جلے بھنے کھجور کے درختوں کے۔۔۔جو بیچارے ایک دوسرے پر جھکے تلخ دشت کی سختیاں جھیلتے رہتے۔۔۔اور پانی؟ شورزدہ چند پتھروں کے درمیان بوند بوند گر کر چھوٹی سی تلوٹی بننے والا چشمہ کہلواتا تھا، اور وہ بھی اکثر خشک پڑ جاتا۔۔۔یہ سب وہاں پر موسمی سختیوں کا غماز تھا۔

فطرت نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا تھا۔ اس زمین میں فطرت نے “باد صد و بست روز” یعنی ایک سو بیس دن کی ہواے خونخوار بھی مسلط کی ہوئی تھی۔ یہ قاتل ہوا سردیوں کے پورے چار ماہ لگاتار چلا کرتی تھی۔ اگر انسان اس ہوا میں گھر جاتے تو انھیں ریت کے ساتھ اٹھنے والے شورزدگی کے بگولوں میں سانس لینا دو بھر ہو جاتا۔ اس لئے یہ قدرتی امر تھا کہ ایسی ویران تنہائی میں زیادہ عرصہ گزارنے پر کوئی بھی انسان اپنا ذہنی توازن کھو سکتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہاں ایک رواجی معمول بنا دیا گیا تھا کہ اس جگہ کوئی بھی فوجی جوان دو سال نہیں رہے گا تاکہ وہ باد سموم کو دو بار نہ دیکھ سکے۔ ایسے ہی ویران خاموشی کے ایام میں پہاڑوں کی پر پیچ وادیوں سے ایک مرد اور ایک عورت کا جوڑا نمودار ہوا۔ ہوا تین دن سے وحشتناک غضب میں چل رہی تھی اور اگر اچانک اس ہوا کی طاقت نہ ٹوٹتی تو وہ مرد اور عورت کبھی بھی اس فوجی پوسٹ تک نہ پہنچ سکتے۔۔۔اور نہ ہی میلوں تک کسی اور پانی کے چشمے تک! بلاشبہ انھوں نے رات ہونے سے پہلے کا فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔ایسی رات جس میں شور زدہ صحرائی ریت کا ناقابل عبور پردہ کبھی بھی انھیں چند انجر پنجر کھجوروں کے قریب اس بد وضع فوجی قلعے تک نہ پہنچنے دیتا۔

جونہی ہوا رکی تھی اور آسمان صاف ہوا تھا تو قلعے کے کمروں کے اندر سکڑے پڑے فوجی بھی باہر آ گئے تھے۔ وہ لگاتار تین راتیں اور تین دن بدبودار کمروں کے اندر ٹھنسے رہنے کی وجہ سے بیمار سے اور دل شکن سے لگ رہے تھے۔ اب اپنی جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے بھر بھر کے ہوا بھی اندر کھینچ رہے تھے۔۔۔انھیں مسموم ہوا کے دوبارہ چھڑ جانے سے پہلے پہلے زیادہ سے زیادہ تازہ ہوا کھانی تھی۔

ان فوجیوں میں سے کچھ نے دو انسانی ہیولوں کو بہت دور سے ہی دیکھ لیا تھا، جو اپنے اونٹ کے ساتھ تھوڑے جھجھکتے رکتے قلعے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جوں جوں وہ قریب ہو رہے تھے۔۔۔لگ رہا تھا جیسے دائیں بائیں لڑ کھڑا رہے ہوں۔ عورت اور مرد کے لباس سیاہ تھے لیکن جہاں جہاں پسینہ آیا تھا وہاں وہاں سے لباس سفید پڑ چکے تھے۔۔۔اور باقی ماندہ لباس بھی سیاہ سے سلیٹی رنگ کے ہو چکے تھے۔ حتاکہ مرد کی ٹوپی اور عورت کے لباس پر محبت سے جڑے گئے شیشے بھی ماند پڑ کر اپنی چمک کھو چکے تھے۔

عورت سر تا پا لباس میں ملبوس تھی لیکن قریب آنے پر اس کے سر پر بندھا کپڑا ڈھلک کر گلے میں گر گیا اور چہرہ نمایا ھو گیا۔ اس نے پوری قوت صرف کر کے اسے دوبارہ سر پر جمانے کی کوشش کی پر یوں لگتا تھا نقاہت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ وہ بمشکل وہاں کھڑے فوجیوں کی طرف قدم بہ قدم بڑھتی رہی۔ اس عورت کے چہرے سے نقاب ہٹ جانے کے بعد زیادہ تر فوجیوں نے اپنے رخ پھیر لئے لیکن وہ سب دیکھ چکے تھے وہ کوئی بھر پور عورت نہ تھی بلکہ بلکل ہی بچی سی تھی۔ اگر اس کے ساتھ مرد نہ ہوتا تو اس کی پوشاک اور سرخ پپوٹوں سے ساری کہانی عیاں ہو جاتی۔

وہ ابھی فوجیوں سے تھوڑی دور ہی تھے کہ مرد نے عورت کو رکنے کا اشارہ کیا اور خود فوجیوں کی طرف بڑھا۔۔۔قلعے کے صوبیدار کی طرف۔ صوبیدار لگاتار اس زنگ الودہ بندوق پر نظر رکھے ہوے تھا جو اسکے کندھے پر جھول رہی تھی۔ وہ کسی طور بھی صورت حال خراب نہیں ہونے دینا چاھتا تھا۔ قریب آنے پر اس کے بند گلے اور خون بہاتے ہونٹوں سے ایک زنگ الودہ آواز برآمد ہوئی “پانی “ ۔ خدارا کچھ پانی دیجئیے اور ہماری جان بچائیے”۔ صوبیدار نے خاموشی سے ایک آدھ بھری بالٹی کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس آدمی نے وہ بالٹی اٹھائی اور عورت کی طرف مڑا جو اب زمین پر نیم بے ہوش آڑی ترچھی لیٹی پڑی تھی۔

اس نے عورت کے سر کو اپنے بازو میں تھام کر تھوڑا اوپر اٹھایا۔ اپنی چادر کا ایک پلو پانی میں بھگو کر چند قطرے اس کے چہرے پر گرائے ۔ بہت نزاکت سے، بنا اتنی گھورتی آنکھوں کی پرواہ کئے، اس نے اس کے چہرے کو گیلے کپڑے سے صاف کیا۔ ایک جوان سپاہی نے طنز و مزاح میں تھوڑا ہنسنے کی کوشش کی پر فورا ہی خاموش ہوگیا کیونکہ صوبیدار نے کافی غصیلی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔ جب اس نے اس کا چہرہ صاف کر دیا تو اس بلوچ نے اپنے دائیں ہاتھ کو پیالی نما بناتے ہوے اس میں پانی بھرا اور اس کے ہونٹوں پر لگانے لگ گیا۔ جونہی اس نے ہونٹوں پر محسوس کیا تو چھوٹے سے جانور کی طرح بنا آنکھیں کھولے اس کی انگلیوں اور ہاتھ کو چاٹنے لگی۔ یکایک وہ پانی کی بالٹی کی طرف سرکی۔۔۔اپنا سر پانی میں ڈال دیا اور غٹا غٹ اتنا پانی پیا کہ سانس رکنے پر آ گیا۔ تب مرد نے اس آہستگی سے بالٹی سے پرے کر دیا، خود کچھ پانی پیا پھر بالٹی اٹھا کر اونٹ کے پاس لے گیا۔۔۔اور اس نے ایک ہی سانس میں بقیہ پانی ختم کر دیا۔

وہ خالی بالٹی سپاہیوں کے پاس لے گیا۔۔۔بالٹی نیچے رکھی۔۔۔پھر خاموش و ساکت ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ کافی توقف کے بعد صوبیدار بولا۔ “ھم نے تمھیں پانی دے دیا۔ کیا تمھیں کچھ اور بھی چاہیے؟”
یوں محسوس ہوتا تھا اس مرد جوان کے اندر کوئی فیصلہ کرنے کی جنگ جاری تھی۔ کافی دیر بعد وہ صوبیدار کی طرف مڑا اور بولا۔

جاری ہے

غلام حسین غازی کا جمیل احمد کے انگلش ناول “دی وانڈرنگ فالکن“ کا ارود ترجمہ “ جہان گم گشتہ کا عقاب “

SHARE

LEAVE A REPLY