حُسین شناسی کا سفر۔54۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
657

قسط چون

امام عالی مقام کا ظرف دیکھئے
میدان کربلا میں
انہوں نے سب سے پہلے
اپنے عزیز و انصار بھیجے
کہ
انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا تھا
“ ہم حوض کوثر کے مالک ہیں
اور
اپنے دوستداروں کو
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
جام سے سیراب کریں گے “
اور ۔۔۔ یہ بات ناقابل انکار ہے
انہوں نے
اپنے انصار کو پہلے میدان کربلا میں بھیج کر
ان کی پیاس بجھا کر
اپنے وعدے کونبھا دیا
اب خیام حسینی میں بنی ہاشم کے جوان تھے
جنابِ علی اکبر علیہ السلام تیسری بار
خیام امام عالی مقام کے اندر آئے
اورعرض کی
بابا!
مجھے بھی اجازت دیجئے
کہ
میں بھی اپنی جان نذر کردوں
امام حسین ع نے سر سے پاؤں تک علی اکبر ع کو دیکھا
اور اتنا کہا
کہ
بیٹا!
اپنی پھوپھی سے اجازت لو
جس نے تمہیں اٹھارہ برس بڑی محنت سے پالا ہے
جنابِ علی اکبر ع خیمے میں آئے
جنابِ زینب سلام اللہ علیھا سمجھ گئیں
کہ
جناب علی اکبر ع رخصت لینے کیلئے آئے ہیں
انہوں نے
اپنی پھوپھی سے کہا
روز حشر
جب دادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا آپ سے پوچھیں گی
کہ
تمہیں اپنا لعل پیارا تھا
جو
میرے لعل پر وار نہ سکیں
کیا جواب دیجئے گا
اور
اماں جنابِ اُمّ لیلیٰ سلام اللہ علیہا
کیا آپ دونوں یہ چاہتی ہیں
کہ
میرا باپ شہید ہو جائے اور میں رہ جاؤں
جنابِ اُمّ لیلیٰ سلام اللہ علیھا نے کہا
بیٹا! میں کون ہوں؟
جو کچھ بھی ہیں تمہاری پھوپھی ہیں
انہوں نے تمہیں پالا ہے
یہ اگر اجازت دے دیں تو میں کس طرح سے منع کرسکتی ہوں
آخر جناب زینب سلام اللہ علیہا نے علی اکبر ع کو اجازت دے دی
پھر ۔۔آپ
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے
عرض کیا
پھوپھی سے اجازت لے لی ہے ۔۔ اماں بھی راضی ہوگئیں
اب آپ مجھے اجازت دیجئے
امام حسین علیہ السلام کھڑے ہوگئے
اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبر کے سر پر رکھا
اور کہا
بیٹا!
یہ عمامہ تمہارے نانا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے
اس کو سر پر رکھ کر جاؤ
امام عالی مقام نے خود اپنے ہاتھ سے گھوڑے پر بیٹے کوسوار کیا
جناب علی اکبرع روانہ ہوئے
چند قدم چلے تھے ۔۔۔۔ منہ پھیر کر دیکھا
تو
دیکھتے ہیں
کہ
امام حسین علیہ السلام دوڑتے ہوئے چلے آرہے ہیں
فرمایا
بیٹا!
جب تک سامنے رہو ۔۔ مجھے منہ موڑ کو شکل دکھلاتے جاؤ
مجھے ۔۔۔۔ نانا ( محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) یاد آرہے ہیں
یہ ہمشکل پیغمبر علی اکبر علیہ السلام
فرزند امام حسین علیہ السلام اور جناب ام لیلیٰ سلام اللہ علیہا
تھے

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY