کبھی کبھی ہمیں یقین نہیں آتا کہ ہم جو کچھ دیکھ اور سُن رہے ہیں وہ سب ایسا ہی ہے ؟ لیکن جب ہم حقیقت کی دنیا میں آتے ہیں تو بہت سی کمزوریوں کے با وجود بہت سی طاقتور باتیں بھی محسوس ہوتی ہیں ۔یعنی جو جو احتساب کے حلقے میں پھنسے ہیں وہ سب وہ ہیں جنہیں شاید یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ احتساب ہوتا کیا ہے ۔کیونکہ وہ سب سے بنا کر چل رہے تھے ۔جب اپنی حکومت ہو تو انہیں کھلی چھوٹ دیتے تھے جو کرپشن اور اکاؤنٹس کی ہیر پھیر میں شامل تھے ۔اور جب اُنکی حکومت آتی تھی تو وہ صرفِ نظر کر کے حساب برابر کیا کرتے تھے ۔یہ شاید پتہ ہی نہیں تھا کہ برا وقت کہہ کر نہیں آتا ۔پہلے صدائیں تھیں مجھے کیوں نکالا ؟اب کمزوری کے باعث وہ ندا نہیں آرہی ۔ووٹ کی عذت کی پکار پڑی لیکن خود اُس پر پورے نہیں اُترے ۔اور پھر بیماری نے آسرا دیا اور شاید ایسا آسرا دیا جو پہلے کبھی کسی بھی بیمار قیدی کو نصیب نہیں ہوا تھا اور شاید دنیا میں کہیں اسکی نظیر بھی نہ ملے ۔
عجیب سا مذاق ہے یا ہم ہی بہت بے زوق ہیں ۔ویسے با ذوق ہونے کا دعویٰ ہم نے کبھی کیا بھی نہیں ۔بس ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب یہ بڑے احتساب کے حصار میں آتے ہیں تو سارے ہی قانونی اور ملکی اداروں کے دل اتنے نرم اور انسانیت دوست کیسے ہو جاتے ہیں ۔ یعنی نظریاتی کونسل کو بھی شریعت یاد آگئی ۔ہمیں بہت خوشی ہوئی کہیں تو بولے ۔کہا گیا ہتھکڑی نہ لگائی جائے انسانیت کی تزلیل ہوتی ہے ۔یقین جانیں ہم اپنا سِر دُھن کر رہ گئے کہ جن باتوں میں اس کونسل کو بولنا چاہئے تھا اُن پر تو انہوں نے کبھی توجہ نہیں دی ۔ کبھی رشوت پر نہیں بولے ۔کبھی بے ایمانی سے کمانے پر کوئی قد غن نہیں لگائی ۔کبھی بد زبانی پر کوئی شرعئی حکم نہیں بتایا ۔کبھی ذاتی ذندگی پر بات کرنے پر شرعئی احکامات نہیں بتائے ۔کبھی دروغ گوئی پر کوئی حکم نہیں بتایا ۔لیکن بڑے ملزموں کی شان میں کمی نہ آئے اس لئے اُن کے حق میں کونسل نے بیان دے دیا ۔ساری انسان دوستی اور احترام جب ہی مانگا جاتا ہے جب یہ لوٹنے والے یہ جعلساز اور مافیا گھیرے میں آتے ہیں ۔جب غریب کی تزلیل ہوتی ہے ہر ہر قدم پر جب وہ بغیر رشوت کام نہیں کرا سکتا ۔جب وہ دھکے کھاتا پھرتا ہے ان بڑوں کے آفسوں کے جب وہ اسپتالوں میں رسوا ہوتا ہے جب یہ نظریاتی کونسل خراٹے لے رہی ہوتی ہے اُس وقت کوئی بیان نہیں دیا جاتا کہ یہ سب شریعت کے خلاف ہے ۔کاش یہ سب ہی اپنی اپنی زمے داری نبھاتے ۔
ہم تو اپنی اقدار کا مذاق بھی اس شان سے اُڑاتے ہیں کہ عدالت جاتے ہوئے ہمیں لوٹنے والے فتح کا نشان بنا تے ہیں ۔کہ دیکھو کیسا تمہیں خوار کیا اور اب بھی بچ نکلینگے ۔
مولانا صاحب پھر میدان میں آگئے ہیں اور ایک مریض کی تیمار داری کو گئے لیکن باہر نکل کرجو جوابات دیئے اُن میں مریض کا زکر کہیں نہیں تھا بلکہ ساری سیاسی باتیں تھیں دو گھنٹے ایسا مریض اُن کے ساتھ بیٹھا رہا باتیں کرتا رہا جس کے بارے میں اُس کے وکیل کہہ رہے تھے کہ انہیں کوئی اعتبار نہیں کہ کب کیا ہوجائیگا ،ہمیں بڑیی حیرت ہے کہ ان بڑوں کو بیماری بھی بڑی ہی ہوتی ہے ۔وہ جب چاہے ان کے پاس سے چلی جاتی ہے جب چاہے آجاتی ہے ۔وہ بھی ان کے زیرِ کفالت ہی لگتی ہے ۔
اُسی دن میاں صاحب کے ڈاکٹر نے بتایا کہ سڑک کا نقشہ (روڈ میپ ) تیار ہے ۔جب اور جیسے میاں صاحب کہینگے اُس پر عمل در آمد کیا جائیگا ۔ہم جب سے خلجان میں مبتلا ہیں کہ بھائی یہ ڈاکٹر کون سا روڈ میپ دیتا ہے یا تو علاج کرتا ہے یا شِفا یاب ہونے کی خوشخبری دیتا ہے یا پھر اگر مرض آخری مرحلوں میں ہوتو دعا کی درخواست کرتا ہے ۔لیکن یہ کیسا مرض ہے جس کے لئے ڈاکٹر روڈ میپ دے رہا ہے اور مریض کے اختیار میں ہے کہ وہ اس سڑک پر چلے گا یا نہیں ؟ ویسے ہمیں سڑک کے نقشے پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ یہ میاں صاحب کا شوق ہے ایک اور سڑک صحیح ۔لیکن کس طرف لندن کی طرف یا کسی اور ملک کی طرف ؟ ڈاکٹر صاحب یہ بتانا بھول گئے کیونکہ وہ میاں صاحب کے کہنے پر علاج کرینگے اب یہ کیسا مرض ہے جس میں مریض خود علاج تجویز کرے گا شاید ہمارے چیف جسٹس صاحب نوٹس لیں یا تشریح کریں ؟؟؟؟؟اگر ایک سزا یافتہ بھی ملک سے باہر جا سکتا ہے تو ہمارے قانون کی تو بلے بلے ہو جائیگی ،کیونکہ آج کل کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔بیل پر بیل مل رہی ہے ریلیف پر ریلیف دیا جارہا ہے ۔کیونکہ ملزم ہیں ہی اس قدر عوام دوست کہ انہیں تکلیف دینا ملک کے کسی ادارے کے بس میں نہیں ہے شاید ۔وقت اتنا دیا جارہا ہے کہ جو کچھ چھپانا چھپا لو جو کچھ ادہر اُدہر کرنا ہے کر لو تاکہ بری ہو سکو ۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب نیب حکام کے پاس ثبوت تھے تو ان کے گھروں پر چھاپے مارتے سب کچھ نکل آتا لیکن ان اداروں میں ابھی سانپ ہیں جنہیں نہ نکالا گیا تو شاید عمران خان کی ساری کوششیں بے کار ہو جائینگی ۔ایسا تو نہیں کہ یہاں نیب میں بھی کچھ لوگ اپنے طور پر پیسہ لے رہے ہوں انکی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے جناب جسٹس اقبال صاحب کو ۔۔
ہماری معیشت پر جو کچھ گزر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے اور یہ تمام باتیں وہ ہی ہیں جو ہم سالوں سے بھگت رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس حکومت کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے یہ سوچ دی ہے کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ہم اپنے ملک کو اسکے پیروں پر کھڑا کرنے کی سوچ رکھتے ہیں ۔جس طرح ہماریےاینکرز تجزیہ نگار اس حکومت پر طنز اور تشنعے کرتے نظر آتے ہیں ہمیں دُکھ ہے کہ یہ اب سے چند سال پہلے کا حال بھول گئے جب ٹماٹر ایک سو دس روپئے تھا دالیں بھی مہنگی ہو گئیں تھیں ۔تیل کا بھی کال پڑ گیا تھا چینی بھی نہیں مل رہی تھی لیکن اتنا شور نہیں تھا ۔جتنا اس حکومت میں اُٹھایا جارہا ہے ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ ہم سب ہی اپنے ملک کی ترقی اور اس کی خوشحالی کی راہ میں حائل ہیں کسی نہ کسی طور ۔ہمارا سوال ہے کہ بھائی اگر پچھلی حکومتیں اتنا ہی اچھا کر رہی تھیں جیسا وہ تمہارے پروگراموں میں بیٹھ کر بتاتی ہیں تو تم نے اس نئی پارٹی کو حکومت کیوں دی انہیں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہتے ۔شاید ہم اس قانبل ہی نہیں ہیں کہ کچھ اچھا کرنے کا ساتھ دے سکیں ۔ہمیں یہ عجیب سا لگتا ہے کہ دس پندرہ سال کا گند دس پندرہ مہینوں میں ختم کرنے کا جواب مانگا جائے کیا ہم یہ بھی قد غن لگانا چاہتے ہیں کہ آئیندہ کوئی ہمیں یہ آس نہ دلائے کہ اگر ہم کچھ مصیبت جھیل لینگے تو اچھے دن بھی ہمیں نصیب ہونگے ۔ہم کیسی سوچ رکھتے ہیں صرف منفی ۔صرف کمزور ۔۔مہاتیر محمد نے اکیلے کچھ نہیں کیا جب تک اُسکے عوام اُسکی اپوزیشن نے اُس کا بھر پور ساتھ نہیں دیا اُس نے جو کچھ کیا اپنے لوگوں کی مدد سے کیا ۔اگر یہ مدد انہیں حاصل نہ وہتی تو شاید مہاتیر وہ کچھ نہ کر گزرتے اس عمر میں بھی جو انہوں نے اپنے ملک اپنے لوگوں کے لئے کیا ۔مہاتیر محمد کو طعنے نہیں سننے پڑے انہیں تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ان کا ساتھ دیا گیا ۔ہم کیا کر رہے ہیں حکومت کا کوئی ایک اچھا کام نہیں دکھا رہے بلکہ ہر وہ کمزور پہلو اُجاگر کر رہے ہیں جو نیا نہیں ہے ۔ایلیکشن کی تقریریں دکھا دلکھا کر شرمندہ کر رہے ہیں ۔بجائے اس کے کہ ہمت بڑھائی جائے کہ ہاں اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے ۔۔۔۔۔
ہم یقین کرتے ہیں آئی ایم ایف کا ہم یقین کرتے ہیں ورلڈ بینک کا ۔ہم یقین کرتے ہیں غیر ملکی ادروں کا جو ہمیں کبھی بھی بڑھتا اور آگے آتا برداشت نہیں کرتے ۔ہمارا سوال ہے کہ کیا ہمارے ماہرِ معاشیات ہر بغض اور کینہ اور مخالفت سے آزاد ہو کر ہمیں اپنے ملک کی معیشت کی خبر نہیں دے سکتے ۔کیا وہ حکومت کی مدد نہیں کر سکتے کہ کس طرح ہم معاشی صورت حال کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔کیوں ہم اُن اداروں کی رپورٹس پر صاد کرتے ہیں ۔وہ کون سے ہمارے ہمدرد ہیں ۔یہ بات ہماری عوام کو بھی سمجھنی پڑے گی ۔
مہنگائی ہے اور رہے گی شاید کچھ عرصہ کیونکہ جب آپ مشکل کو سہنے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو وہ مشکل کچھ ّعرصے بعد آپ کے قابو میں آجاتی ہے ۔اس لئے ہمارا یقین ہے کہ اگر ہم ان تمام مراحل سے نکل آئیں اور اپنے ملک کی لوٹٰی گئی دولت کو واپس لے آئیں تو شاید کچھ آنسو پُچھ جائینگے انشاء اللہ
آج کل میلہ لگا ہے لندن میں ۔بہت سارے بڑے بڑے نام وہاں موجود ہیں ۔اب کیا کھچڑی پکتی ہے یا کون سی بریانی کی پلیٹ دی جاتی ہے یہ دیکھنے کے لئے کچھ وقت درکار ہے کیونکہ جب اتنے شاطر دماغ ایک جگہ جمع ہوں تو تڑکا زبردست لگتا ہے ۔آر یا پار ۔۔۔۔۔
تھر کول سے بجلی بنانے کا افتتاح ہوا جو ایک خوشی کی بات ہے کہ محترمہ بے نظیر کا شروع کیا گیا ایک پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔دعا ہے کہ اس کے ثمرات تھر کے عوام اور پاکستان کے لوگوں تک بھی پہنچیں انشاء اللہ
اپنے لئے سوچیں اپنے ملک کے لئے سوچیں جنہیں آزما چکے اُن سے چھٹکارا پائیں تاکہ ترقی کر سکیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY