یورپی یونین نے بشارالاسد حکومت کے خلاف عائد کردہ پابندیوں میں ایک برس کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ برسلز کی جانب سے اسد حکومت پر یہ پابندیوں شام میں سرکاری فورسز کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں عائد ہیں۔

یورپی یونین کے مرکزی دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 28 رکنی یورپی بلاک نے شامی حکومت اور اس کے حامیوں کے خلاف عام شہری آبادی پر جاری استحصالی اقدامات کے تناظر میں پابندیاں عائد رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت شام سے تعلق رکھنے والے 270 افراد اور 70 کمپنیوں اور تنظیموں پر سفری پابندیوں کے علاوہ اثاثہ جات منجمد رکھنے جیسے امور نافذ رہیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY