آج کل ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہر کوئی چاہ رہا ہے ، خاص کر ہمارے اینکر اور تجزیہ نگار کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اُس پر عمل کیا جائے ۔ورنہ یہ حکومت اور اس پارٹی کا سربراہ بالکل ہی بے وقوف ہے ۔ہمارا سوال ہے کہ کیا پوری فوجی قیادت جو اس حکومت کے ساتھ بیٹھتی ہے اس کی بات سنتی ہے وہ بھی بقول ان کے اسی ضمرے میں آئیگی ۔ہمیں تو لگتا ہے یہ سارے وہ لوگ ہیں جو انتہائی غیر سنجیدگی اور فراست کی کمی کی وجہ سے اپنے بیانیہ کو ٹھونسنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ حکومت کو اچھے مشورے دئے جاتے بتایا جاتا کہ کس طرح ہم اس بھونچال سے بچ سکتے ہیں ۔لیکن سب کا بیانیہ ایک ہی ہے کہ حکومت کو عقل نہیں ہے ۔شاید یہ سارے عقلمند جو اب تک کرپشن ،بے ایمانی اور دھوکوں پر آوازیں بند کئے بیٹھے رہے نہ نام لیئے نہ انہیں سامنے لائے آج سب سے بڑے تھنک ٹینک بن کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔
بھارت نے پھر اپنا چہرہ دنیا کو دکھایا ہے ۔کشمیر جل رہا ہے وہاں معصوم بچوں سے لے کر بوڑھے تک گولیوں کے نشانے پر رہے پھر بم بھی استعمال کر لیا گیا ۔اور اب تقسیم پر بھی آگئے ۔سارے دنیاوی قانون جو انسانیت کے لئے بنے تھے دیکھتے رہ گئے اور اب بھی بہت کم آوازیں ہیں جو اُٹھ رہی ہیں اس ظلم کے خلاف ۔کہاں ہے بھارت کا سیکیولر ملک جس میں انسانیت کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں جہاں اقلیتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔بلکہ انسان کو انسان ہی نہیں سمجھا جارہا ، روندا جا رہا ہے انسانیت کو ۔خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے نہ یو ،این،اوُ کی بات مانی گئی اور نہ ہی کسی اخلاقی اور انسانی بات کو مد نظر رکھا گیا ۔یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو اگر آگ میں تبدیل ہو گئی تو شاید سب ہی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے ۔جس کا اندازہ بھارت کو نہیں ہورہا ۔پاکستان بنتے وقت برطانیہ نے یہ ایک ایسی چنگاری چھوڑ دی جو اب تک بجھائی نہ جاسکی اور اب خطرہ ہے کہ یہ بھڑک کر بہت سوں کو لپیٹ میں لے لے گی ۔کیونکہ بھارت نہ مزاکرات پر تیار ہوتا ہے اور نہ ہی کسی بھی بات کو سننے کے لئے تیار ہے ۔حکومت تو کسی بھی ملک کی ہو اپنے ملک میں بسنے والوں کو تحفظ دیتی ہے اُن کی جائز باتوں کو مانتی ہے ۔اُن کے حقوق ادا کرتی ہے لیکن ہم نے کشمیر کو ہمیشہ لہو لہو دیکھا ہے جس طرح فلسطین کی شُنوائی نہیں ہوئی دنیا میں اسی طرح کشمیر کو بھی دنیا میں کسی نے مسئلہ نہیں سمجھا جب کہ یہ بہت ہی حساس اور بڑا مسئلہ ہے ۔ہماری دعا ہے کہ کشمیریوں کو اُن کا جائز حق ملے اور وہاں امن اور سکون ہو ۔مزاکرات سے معاملات حل کئے جائیں اور حدوں کو پار نہ کیا جائے ۔لیکن مسلم اُمہ سوئی ہوئی ہے شاید کسی طرف سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی ۔جیسے یہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے مسلمان کا نہیں ؟؟
کاش ساری مسلمان ریاستیں اُٹھ کھڑی ہوتیں فلسطین اور کشمیر اور باقی مسلمانوں کے لئے کہ اسلامی طاقت وہ ہے جسے کوئی روند نہیں سکتا ۔مگر نہ جانے ہم کن مصلحتوں کا شکار ہیں کہ اپنوں کے لئے بھی کھڑے نہیں ہوسکتے ۔
ہماری فوج نہ کسی سے کم ہے نہ ہی سوئی ہوئی ہے ۔پورا پاکستان جاگ رہا ہے خود کو بھی ٹھیک کرنے میں لگا ہوا ہے اور دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جا رہا ہے اُس سے بھی بے خبر نہیں ہے ۔گو ہمیں اپنی اپوزیشن سے بہت اختلاف ہے کہ وہ کڑے سے کڑے وقت میں بھی اپنی روش کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ یہ سارے ہی ملک کی نہیں شخصیتوں کی بات کرتے ہیں ۔وہ سوائے الزام تراشی اور بے کار اور فضول باتوں کے کچھ نہیں کر رہے ۔۔اس وقت ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب وزیرِ اعظم نے پوچھا، تو آپ حل بتاتے تجاویز دیتے ،لیکن ہماری وہ ہی ایک مُرغے کی ٹانگ ہے کہ کسی طرح اس حکومت کو ہر بات کا زمے دار ٹہرائیں اور اس کی سرزنش کریں چاہے بات ٹھیک ہو یا نہ ہو ۔اس زہنیت نے ہمیں یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ ہم کسی بھی بڑے سے بڑے مسئلے پر بات نہیں کر سکتے ۔بلکہ بے جا شور اور ھنگامہ کر کے اپنی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے اسمبلی کے اجلاس میں دیکھا کہ بیمار زہن کس طرح رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔سمجھ میں نہیں آیا کہ شھباز، زرداری اور بلاول کے آنے پر ڈیسک بجانے کی کیا ضرورت ہے ۔کون سے زبردست کارنامے ان کے نامے میں ہیں جو کار پر پھول ہوتے ہیں جب بھی ان میں سے کوئی پیشی کے لئے آتا ہے اسمبلی میں ڈیسک بجتے ہیں ۔حالانکہ اگر انہیں خود ہی تھوڑٰ سی بھی حِس ہو تو خود ہی منع کر دیں اپنے ممبرز کو کہ ہمارے اسمبلی میں آنے پر ڈیسک مت بجائیں لیکن یہ تو ہیں ہی چاپلوسی اور جی حضوری کی پیدا وار ۔۔۔
آج مفتاح بھی دھر لئے گئے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خاقان صاحب پڑھا پاتے ہیں ایل این جی نیب کو یا انہیں ضرورت پڑے گی مفتاح کی بھی ۔ویسے تو یہ دونوں ہی اب تک سب کو پڑھاتے آئے ہیں ایمانداری کا سبق اب کتاب سے کیا نکلتا ہے اور کب نکلتا ہے دیکھنا ہے ۔ویسے تو ہمارا انصاف اتنا سست رو ہے کہ کچھوے کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے یا ہمیں ہی عقل نہیں ہے کہ کس طرح یہ مقدمے دیکھے جاتے ہیں ہم اصل میں بے صبرے ہیں شاید ۔ کاش ہم جلدی ہی اُن مسائل کو حل کر لیتے جو قوم اور ملک کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جن میں قانون میں تیزی نیب کے معاملات میں بہتری اور پولیس کے مسائل شامل ہیں ۔اسی طرح اُن باتون پر بھی توجہ جلدی دینی چاہئے جو روز مرہ کے مسائل ہیں جن میں مہنگائی سرِ فہرست ہے ۔ عام آدمی کے مسائل کی طرف توجہ لازمی ہے ۔
بہت سے اینکر حضرات اور سیاست دان جس طرح کشمیر کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں وہ ہمیں ڈرا رہا ہے ہم نے دو جنگیں دیکھی ہیں پینسٹھ کی اور اکھتر کی ۔ہمیں پتہ ہے کہ کتنا خوف ہوتا ہے کس طرح خون بہتا ہے ۔اس لئے کوشش یہ ہی ہونی چاہئے کہ بات چیت سے مسئلے کا حل نکالا جائے ۔کشمیر کا معاملہ پوری دنیا کے لئے سوچنے کا ہے کہ کس طرح ان مظلوموں کو اس ظلم اور جبر سے نجات دلائی جائے یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے چٹکی بجاتے حل کر لیا جائے گا ،اس لئے بجائے اُکسانے کے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچنا چاہئے عام آدمی کی زہنی گنجائش کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے ۔جنگ کہنا تو بہت ہی آسان ہے لیکن جنگ سے گزرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔عراق ہمارے سامنے ہے ۔لیبیا کو ہم بھولے نہیں ،سیریا سامنے ہے اس لئے انسانیت کو بچانے کا تقاضہ ہے کہ بات چیت کا مزاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے نہ کہ خون خرابے کا یہ ہماری سوچ ہے ۔جنگ کرنا تو منٹوں کا کام ہے ایک بٹن دبے گا اور معاملہ ختم کیونکہ دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اس لئے گریز لازمی ہے ۔
زرداری پھر کُھل کر سامنے آئے انہوں نے جو باتیں اسمبلی میں کیں انتہائی تکلیف دِہ تھیں ۔اُن کی زہنی حالت ابتر محسوس ہوئی لیکن یہ بھی پتہ چل گیا کہ اُن کے اندر کتنا زہر بھرا ہوا ہے ۔آزادی نہ حاصل کی ہوتی تو سوچیں کہ آج آپ بھی کس حال میں ہوتے ؟ ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ بیمار زہنیت کا جواب نہیں ہوتا ۔
اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین
اللہ ساری انسانیت پر رحم فرمائے اور خون خرابے سے بچائے آمین ۔۔یہ وہ آگ ہے جس میں سب ہی راکھ ہو جاتے ہیں ۔
ایک چنگاری جو آگ بن سکتی ہے,عالم آرا
601
0












