میری تم سے محبت لین دین نہیں، بس تم تھے، تم ہو اور تمہاری زات کا حسن باعث محبت ہے نہ کچھ غرض، نہ غایت، نہ لالچ نہ حرص بس محبت ہے محبت کے لیے کہ میں تاجر نہیں۔ ۔ ۔
کہ بدلے اور ادلے میں محبت کرتا کہ کوئی کچھ دیتا تو چاہتا نہ دیتا تو نہ چاہتا، نہ ہی میں کسی انعام کے لاللچ یا تعریف کے حصول کے واسطے تم سے جڑا ہوں، ۔ ۔ ۔
نہ ہی میری زات کی کوئی بھی ضرورت تم سے منسوب ہے بس محبت کی ضرورت منسوب ہے۔۔ ۔ کہ محبت کرتا ہوں کہ تم ایسے ہو کہ تم کو چاہا جائے، ۔ ۔ ۔
کہ تم ایسے ہو کہ تم سے بنا غرض و غایت محبت کی جائے بلکہ رب سے بھی نہ مانگا تم کو۔۔ ۔ کہ مانگنا آجائے تو ضرورت منسوب ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔
یعنی ایک وجہ جڑ جاتی ہے کہ انسان انسان کو وجہ سے چاہے اس لیے کہ وہ اسے مل جائے تو یہ ضرورتوں کا چاہنا انسان کا انسان کو چاہنا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔
محبت تو بس اپنوں کو چاہنا ہوتا ہے، انکے ساتھ رہنا، انکے ساتھ ہونا، انکی زیارت انکے سکون کی دعا ہوتا ہے بالکل ایسے ہی
جب رب کو چاہا جاتا ہے تو اس لیے نہیں چاہا جاتا کہ وہ رزق دے گا، روٹی کپڑے اولاد دے گا گھر بار دے گا یہ سب تو پھر رب کو واسطہ بنا دینے والی چیزیں ہیں جب کہ رب رمتو مقصود ہونا ہے!
یعنی رب کچھ نہ دے تب بھی رب ہے اس کا عشق اس کی عبادت اس کا زکر بس اس لیے ہے کہ وہ ہے ہی لائق تعریف کہ وہ ہے ہی قابل محبت کہ وہ ہے ہی مقصود اور ھدف زندگی کہ وہ ہے ہی اتنا عظیم کہ اس کو چاہا جائے کہ اس سے چاہت کا رشتہ محبت و عشق کا رشتہ صرف اس لیے کہ وہ میرا رب ہے کچھ دے تب بھی نہ دے تب بھی میں تو بس رب سے رب کو مانگتا ہوں اور ہر چاہت کو صرف چاہنے کی واسطے چاہتا ہوں۔ ۔ ۔
کہ جہاں غرض و غایت نہیں، نہ ہی میں فقیر ہوں کہ دوسروں کی زات سے اپنے لیے فائدے اور لزتیں کسب کرتا پھروں نہ ہی میں تاجر ہوں ۔ ۔ ۔
کہ یہ سوچتا رہوں کہ کس نے مجھ کو کیا دیا ہے کیسے دھتکار کیسے ہھٹکارہ کیسے یاد رکھا اور کیسے بھلایا میں ایک آزاد انسان ہوں جس کو بھی چاہتا ہوں بس اسواسطے چاہتا ہوں کہ وہ اس لائق ہے،
کہ اس کی عزت کی جائے اسے چاہا جائے، اور رب کو چاہتا ہوں کہ وہ حسن ہے تمام تر حسن کا منبع وہ ہے ہی لائق محبت اور مجھے تو رب سے بس رب ہی چاہییے اور کچھ بھی نہیں چاہییے کہ میں اس کو چاہوں بس اس لیے کہ اس کو چاہت، عشق، محبت سب کا سب جچتا ہے ۔ ۔ ۔
تو بس وہی سب درکار ہے کہ جو سب اس کا سچا عاشق، محبوب بنانے واسطے درکار ہے باقی سب سے کچھ سروکار نہیں رب میرے اندر کے نقاق سے ۔ ۔ ۔آزادی عطا فرمائے ۔ ۔ ۔
کہ میں اس کو چاہنا سیکھ سکوں کہ۔ ۔ ۔
اہل محبت اور اہل حر ۔ ۔ ۔کی تعلق کی سر زمین اور ہوا کرتی ہے اور۔ ۔ ۔ فقیروں اور تاجروں کی سرزمین اور ہوا کرتی ہے ۔ ۔ ۔
کہ میری ہر چاہ کی بنیاد رب ہے۔ ۔ ۔
اور میری منزل و ھدف رب ہے۔ ۔ ۔ کہ بس اسی کے واسطے میرا سب ہے ۔ ۔ ۔اور میں رب سے وفا کی دعا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔
اسکے قرب کی منزل کی التجا کرتا ہوں۔ ۔ ۔ کہ اس کے محبوب و انکی آل کے عشق سے۔ ۔ ۔ اپنے وجود میں زرخیزی چاہتا ہوں کہ۔ ۔ ۔ وہ عشق وہ ساتھ وہ سب محبتوں کے اعزاز چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ جو مجھے اس کو چاہنے کا سلیقہ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔جن سے جڑنا میرے رب کیساتھ جڑنے میں میرے مددگار بنتے ہیں ۔ ۔ ۔
کہ جنکے احساس سے مجھے طہارت، بلندی پاکیزگی کا احساس ملتا ہے اے میرے رب میں کب بھلا تجھ سے کچھ بھی تیرے سوا چاہتا ہوں کہ تیرا عشق و بندگی میری واحد منزل ہے۔ ۔ ۔
میں تو بس تجھ سے تیری رضا چاہتا ہوں کہ میں ایک خاکی بندہ گناہوں سے لپٹا نفاق سے بھرا تیری مدد کا طلبگار تجھ تک پہنچنے کی تجھ سے ادا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔
میں بس تیرا ہوں اور تیرے واسطے تیرا ساتھ چاہتا ہوں تیری معرفت تیرا عشق تیری عبادت کی لزت و سکون کا ارمان ہے مجھے تجھ تک پہنچنے کا مکمل دھیان ہے ۔ ۔ ۔
مجھے کہ تو ہی اس لایق ہے کہ تجھکو چاہا جائے ۔ ۔ ۔
میری دعا کے زریعے تجھ تک پہنچنے کا وسیلہ چاہتا ہوں کہ تو حسن ہے۔ ۔ ۔ میں حسن میں جینا ۔ ۔ ۔اور بحر میں ڈوبنا چاہتا ہوں تیرے۔ ۔ ۔ عشق تیری بندگی پکی راہ چاہتا ہوں تو چاہتا ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













